تازہ ترین

کورونا وائرس ہے یا ٹھنڈ لگی ہے، پتا کیسے چلے گا؟

(چترال ایکسپریس)کورونا وائرس ہے یا ٹھنڈ لگی ہے، پتا کیسے چلے گا؟

Advertisements

کورونا وائرس چین کے علاوہ دیگر ملکوں میں بھی پھیلتا جا رہا ہے۔ اگر مندرجہ ذیل علامات ظاہر ہو رہی ہیں تو آپ کو جلد از جلد حفاظتی تدابیر اپناتے ہوئے مقامی ہسپتال، کسی قریبی ماہر ڈاکٹر یا پھر طبی حکام سے رابطہ کرنا چاہیے۔

زکام ، کھانسی ، گلے کی سوزش اور بخار: یہ وہ علامتیں ہیں، جو ٹھنڈ لگنے سے بھی ظاہر ہوتی ہیں۔ ایسے میں یہ اندازہ لگانا مشکل ہے کہ آیا یہ کوئی بیکٹیریل یا پھر وائرل انفیکشن ہے۔ پہلی نظر میں کورونا وائرس اور ٹھنڈ لگنے کی علامات ایک جیسی ہی دکھائی دیتی ہیں۔ ابتدائی طور پر کورونا وائرس سے متعلق مشکل بات یہی ہے کہ اس کی کوئی ایک بھی ایسی خاص نشانی نہیں ہے، جس سے یہ اندازہ ہو جائے کہ یہ ٹھنڈ نہیں لگی بلکہ کورونا وائرس ہے۔ تاہم مندرجہ ذیل علامات ایسی ہیں کہ ان کے ظاہر ہونے پر آپ کو لازمی طور پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔

کورونا وائرس کی مخصوص علامات:

  • بخار
  • خشک کھانسی
  • سانس لینے میں دشواری
  • پٹھوں میں درد
  • تھکاوٹ / توانائی کی کمی
  • غیر معمولی علامات: بلغمی تھوک، سر درد ، کھانسی میں خون ، اسہال

عام طور پر ٹھنڈ لگنے کی علامات

  • زکام
  • گلے میں درد

اگر سانس کی نالی کے اوپر (گلے میں) انفیکشن ہے تو یہ عام طور پر ٹھنڈ لگنے کی علامت ہے۔ اگر ناک بہہ رہی ہے اور ساتھ چھینکیں بھی آ رہی ہیں تو یہ ایک عام فلو ہے۔ کورونا وائرس سانس کی نالی کے نچلے (سینے کے اندر) حصے کو متاثر کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس سے متاثرہ مریضوں کو خشک کھانسی کے ساتھ ساتھ سانس لینے میں بھی دشواری کا سامنا رہتا ہے۔ کورونا وائرس سے متاثرہ مریضوں میں پھیپھڑوں کی انفیکشن ہوتی ہے نہ کہ گلے کی انفیکشن۔

خیال رکھنے کی باتیں

بہت سے مریضوں میں کورونا وائرس کی علامات بالکل عمومی تھیں اور یوں لگتا تھا کہ انہیں صرف ٹھنڈ لگی ہے۔  روبرٹ کوخ انسٹی ٹیوٹ کے مطابق کورونا وائرس 14 دن تک جسم میں رہ سکتا ہے اور اس کے بعد اس کی علامات ظاہر ہونا شروع ہوتی ہیں۔

اگر آپ غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں اور دل میں خوف بھی ہے تو ڈاکٹر کے پاس ضرور چیک اپ کے لیے جائیں۔ ڈاکٹر بلغم یا تھوک کا نمونہ لیبارٹری بھیج دے گا تا کہ اس حوالے سے حتمی نتیجہ اخذ کیا جا سکے۔

کیا ماسک پہننے سے حفاظت ممکن ہے؟

منظر عام پر آنے والی تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ چین میں زیادہ تر افراد نے چہروں کو ماسک سے ڈھانپ رکھا ہے۔ کیا اس طرح کورونا وائرس سے بچاؤ ممکن ہے؟ اس کا جواب نفی میں ہے۔

کرونا وائرس اُڑ نہیں سکتا۔ یہ وائرس کسی مادے کے قطروں، رطوبت یا پھر رابطے سے ہی منتقل ہوتا ہے۔ بہتر احتیاط یہ ہے کہ متاثرہ افراد سے دوری اختیار کی جائے۔ اچھے طریقے سے صابن کے ساتھ ہاتھ دھوئے جائیں۔ اگر جراثیم کُش مائع موجود ہے تو اسے بھی ہاتھ پر لگایا جائے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ

زر الذهاب إلى الأعلى