تازہ ترینتقدیرہ خان

لمبی ناک والا شہزادہ

……..تحریر: تقدیرہ خان

Advertisements

ایک دور ایسا بھی تھا جب سکولوں میں چھوٹی چھوٹی لائبریاں قائم تھیں۔ ہمارے سکول میں اُستاد کی کرسی کے قریب ایک چبوترے پر لکڑی کے تین صندوق رکھے تھے۔ ایک صندوق پر سائنس، دوسرے پر تاریخ اور تیسرے پر ادب لکھا تھا۔ پانچویں سے آٹھویں تک کے بچے اور بچیاں ان صندوقوں سے اپنی پسند کی کتاب لے جاتے اور پڑھ کر واپس کر دیتے۔ ان بچوں کی تعداد کم ہی ہوتی مگر صندوق لائبریری کا ڈھکن کھلتا رہتا۔
کتاب لیجانے والے بچے کا نام رجسٹر پر درج ہوتا اور ساتھ ہی تاکید کی جاتی کہ کتاب پر لکھنا نہیں، تصویر نہیں پھاڑنی اور نہ ہی کتاب گند ی کرنی ہے۔ ان کتابوں کے صفحات کی تعداد بیس سے پچاس تک تھیں اور بچوں کی ذہنی استعد اد کے مطابق سادہ زبان میں لکھی گئیں تھی۔
یہ کہانیوں کی کتابیں تھیں مگر انتہائی معلوماتی اور دلچسپ تھیں۔ سائنس کی ایک کتاب میں دس کہانیاں تھیں جن میں سمتیں معلوم کرنے کا طریقہ، تجرے سے ثابت کرو کہ زمین گول ہے، ہوا جگہ گھیرتی ہے، زمین کی کتنی قسمیں ہیں، خیلج اور کھاڑی کیا ہوتی ہے، سمندر کیسے بنے اور کشش ثقل کیا ہے وغیرہ۔
تاریخ کی ایک کتاب میں پاکستان کے پڑوسی ممالک، پاکستان کی کہانی، محمد علی جناح معمار پاکستان، کشمیر جنت نظیر، پاکستان میں بدھ مت کے آثار، دنیا کا قدیم آباد شہر پشاور، محمد بن قاسم اور دیبل کی فتح کی کہانیاں تھیں۔
ادب کے صندوق میں ایک کتاب کا نام لمبی ناک والا شہزاد تھا اور پہلی کہانی اسی شہزادے کے متعلق تھی۔ شہزادے کی ناک تو عام انسانوں جیسی ہی تھی مگر خوبی یہ تھی کہ اُس میں سونگنے کی حس انسانوں اورجانوروں سے بھی بڑھ کر تھی۔ وہ میلوں دور کسی بھی چیز کو سونگ کر صحیح انداز ہ لگا سکتا تھا مگر ناک کے نیچے چند انچ دور چیز کو سونگنے، پرکھنے اور اُسکا موثر حل ڈھونڈنے کی صلاحیت سے عاری تھا۔ لکھا تھا کہ ایک بار بحری قزاقوں نے شہزادے کے ملک سفید جزیرے پر حملہ آور ہونے کا منصوبہ بنایا۔ قزاقوں کے جہاز سفید جزیرے کی طرف روانہ ہوئے تو لمبی ناک والے شہزادے نے قزاقوں کے منہ سے نکلنے والی تمباکو کی بو سے انداز کر لیا کہ کوئی بڑی فوج اُس کے ملک کی جانب بڑھ رہی ہے۔ شہزادے نے اپنے سپاہیوں کو چوکنا کر دیا اور جونہی قزاقوں نے جزیرے پر قدم رکھا شہزادے کے تیراندازوں نے انہیں چھلنی کر دیا۔
شہزادے کی اس خوبی کا دور دور تک چرچا تھا مگر ناک کے نیچے ہونے والی وارداتوں سے بے خبری کی وجہ سے عام لوگ اُس سے نالاں تھے۔ موجودہ حکومت کے اعلیٰ عہدیداروں، وزیروں، مشیروں اور صلاح کاروں کی پُھرتیاں اور پھِرکیاں دیکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ حکومت میں لمبی ناک والے شہزادوں کی بھر مار ہے جنہیں دنیا بھر کے حالات کا پتہ ہے مگر ناک کے نیچے کی کچھ خبر نہیں۔
چند روز پہلے سائنس و ٹیکنالوجی کے وزیر فواد چوھدری کو ٹیلی ویژن شومیں دیکھا تو پتہ چلا کہ چوہدری صاحب کی زندگی عرب شہزادوں جیسی بلکہ اُن سے بھی کچھ بڑھ کررہی ہے۔ ایک طرف چوہدری صاحب کا انٹرویو چل رہا تھا تو دوسری طرف اُن کے گھر واقع لدھڑ منارہ سے گزرنے والی منگلادینہ روڈ کے کھڈے اور ٹوٹ پھوٹ کا منظر نظروں کے سامنے گھوم رہا تھا۔ چوھدری صاحب سہیل وڑائچ کے سوالوں کو جواب دے رہے تھے اور مطمئن اسقدر تھے جیسے اُن کے حلقے میں سب کام ہو چکے ہیں۔
ایسا ہی حال ہم نے چاچڑاں شریف کا بھی دیکھا جہاں گندگی کے ڈھیروں کے انبار لگے ہیں۔ ٹیلی ویژن چینل کا رپورٹر عام لوگوں کا انٹرویو کر رہا تھااور اس اجڑے ہوئے تاریخی شہر اور ثقافتی مرکز کا پس منظر بیان کر رہا تھا۔ عقیدت کے مارے لوگ خوفزدہ تھے۔ مخدوم سائیں ناراض تو ربّ سائیں بھی ناراض، زندگی کا کیا گزر جانے والی چیز ہے گزر ہی جائے گی۔
چاچڑاں شریف اور منگلا دینہ روڈ کے لوگوں کو اپنے منتخب نمائندوں سے کوئی شکوہ نہیں۔انہیں شکوہ اپنے مقدر سے ہے۔ مخدوم خسرو بختیار نہ ہوئے تو دوسر ا مخدوم آجائیگا۔ اسی طرح جہلم میں بھی چوہدریوں کی کمی نہیں۔ بھائیوں کی جوڑیاں سلامت رہیں۔ ایک جوڑی جائے گی تو دوسری آجا ئے گی۔
دینہ سے گزر کر ہمیں میرپو رتک سفر کرنا تھا جہاں ہال روڈ پر ایک شادی کی تقریب تھی۔راستے میں ایک چونگی پر بیس روپے نذرانہ دیتے ہوئے پتہ چلا کہ یہ منگلا کینٹ بورڈ کی چونگی ہے۔ منگلا پل تک بھی سٹرک کا وہی حال تھا جو لدھڑ منارہ کے مقام پر دیکھ کر آئے تھے۔ ہمارے ایک ساتھی نے پوچھا کہ یہ علاقہ کس کے حلقے میں ہے۔ جواب ملا کینٹ بورڈ آفیسر کی ملکیت ہے۔ خربوزہ خربوزے کو دیکھ کر رنگ پکڑتا ہے والا محاورہ یادآگیا۔میرپور میں واقع ہا ل روڈ پر پہنچے تو اُسے دینہ جہلم روڈ سے بھی زیادہ بد حال پایا۔ شادی والے گھر گئے تو لوگوں نے بتایا کہ سارے میرپور شہر کی یہی حالت ہے۔ پوچھا اسے تو چھوٹا لندن کہتے ہیں جواب ملا یہ جھوٹا الزام ہے کیا لندن میں گندگی کے ڈھیر، ٹوٹی سڑکیں اور اُبلتے ہوئے گٹر ہیں؟ کیا لندن میں کوئی ایم ڈی اے بھی ہے اور ایک پلاٹ دس دس لوگوں کو آلاٹ ہوتا ہے کیا۔ پتہ نہیں ہم نہ میرپو رکے ہیں اور نہ لندن کے۔ پتہ چلا کہ میرپور کے ایم ایل اے بیرسٹر سلطان محمود چوہدری بھی اسی پارٹی سے ہیں جو دریائے کے پار دینہ اور جہلم میں برسر اقتدار ہے۔ حکومت میں تو کوئی ہم آہنگی نہیں مگر چوہدریوں میں توہے۔ بڑے بوڑھے کہتے ہیں کہ ہر قبیلے کی نانی ایک ہی ہوتی ہے۔ میزبانوں نے پوچھا کہ پشاور کا کیا حال ہے۔ وہی جو میرپور اور دینہ منگلا روڈکا ہے۔ پشاور میں ایک بستی کا نام پہاڑ پور اور دوسری کا فقیر آباد ہے۔ پہاڑپور میں گندگی کے پہاڑ اور فقیر آبا دمیں گندگی کی وجہ سے فقیروں نے افغانوں کی بستیاں آباد کر لی ہیں۔ ہم نے ایمانداری سے جواب دیا مگر میٹر و کی وجہ سے شہر کی بدحالی کا ذکر گول کر گے۔
کسی نے کہاکہ گوجرانوالہ کے بعد کراچی سب سے گندا شہر ہے۔ ہم نے کہا نہیں کوئٹہ اس سے بھی بدتر ہے۔ تو پھر صاف ستھر ا کونسا شہر ہے ایک بزرگ نے سوال کیا؟ چا چا جی شہر تو کوئی نہیں مگر ہر شہر میں ایک دو گلیاں اور محلے صاف ہیں۔ پشاور میں شامی روڈ، حیات آباد، راولپنڈی میں ڈی ایچ اے، اسلام آباد میں ڈی چوک کے ارگرد کی سٹرکیں اور گلیاں، کراچی میں ڈیفنس اور کلفٹن، ملتا ن، گوجرانوالہ، بھاولپور کی فوجی چھاؤنیاں اور لاہور میں ڈیفنس، بحریہ ٹاؤن، ماڈل ٹاؤن، جاتی عمرا اور زمان پارک کے علاقے ہیں تو پاکستان میں مگرصفائی ستھرائی لندن اور پیرس بلکہ سنگاپور جیسی ہے۔
وجہ کیا ہے چاچا جی نے پھر پوچھا؟ یہاں شہزادے، شہزادیاں اور حکمران رہتے ہیں۔ تو پھر ان کے انتخابی حلقے صاف کیوں نہیں؟ اس لیے کہ جب وہ حلقوں میں جاتے ہیں تو وہاں اُن کے دیکھنے او ر سونگنے کی حس ختم ہو جاتی ہے۔ وہ وہاں ہوتے ہیں تو انہیں اسلام آباد اور لاہور کی رونقیں اور خوشبویں سنائی اور دکھائی دیتی اور محسوس ہوتی ہیں۔ تقریب میں بیٹھے نوعمر صحافی نے کہا نہیں۔ یہ لوگ وہاں جاتے ہی نہیں، انہیں پانچ سال بعد حلقہ او رعوام یاد آتے ہیں اس دوران وہ امیر لوگوں کی شادیوں، جنازوں او ر دعوتوں پر جاتے ہیں تو اُن کے ووٹر بھی اُن کا دیدار کر لیتے ہیں۔ تو پھر یہ کیسی جمہوریت ہے؟ چاچا جی پھر بولے۔
سفید جنریروں میں ایسی ہی جمہوریت ہوتی ہے فکر کی کوئی بات نہیں۔ ہمیں اس تقریب او رسفر کے دوران اپنے سکول کی صندوق لائبریری اور لمبی ناک والے شہزادے کی کہانی یاد آئی جو سفید جزیرے کا حکمران تھا۔ اُس کی خوبیاں اُس کی ذات اور اقتدار تک محدود تھیں اور رعایا نالاں اور بے بس تھی۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ

زر الذهاب إلى الأعلى