تازہ ترین

باعزت اور باپردہ خواتین کو بے نظیر رقوم کی وصولی کے لئے بازاروں اور گلیوں میں دربدر پھیرانا انتہائی قابل افسوس اور قابل مذمت فعل ہے۔قاری جمال عبدالناصر

چترال(نمائندہ چترال ایکسپریس)چترال کے معروف مذہبی شخصیت سینئر نائب صدر جے یو آئی ضلع چترال قاری جمال عبدالناصر نے ایک اخباری بیان میں افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک بار پھر چترال کے باعزت اور باپردہ خواتین کو بے نظیر رقوم کی وصولی کے لئے بازاروں اور گلیوں میں دربدر پھیرایا گیا جو کہ انتہائی قابل افسوس اور قابل مذمت فعل ہے۔اُنہوں نے کہا کہ آج سے تین مہینے پہلے بھی ایساہی کیا گیا تھا لیکن ہماری احتجاج پر اس وقت انتظامیہ نے سکول میں رقوم دینے کا پابند بنایا تھا اور اس وقت بھی ہماری تجویز تھی کہ بینک الفلاح اس حساس نوعیت کے مسلے کو ائیندہ کے لئے آسان بنائے اور ٹیبلیٹ دیتے وقت پہلے باپردہ جگہوں کا تعین کرے تاکہ باپردہ خواتین عزت اور احترام کے ساتھ رقوم حاصل کر سکیں لیکن مذکورہ بینک نے اس بار بھی ٹیبلیٹ والوں کو جگہ تعین کئے بغیر اجازت دی۔ جنہوں نے خواتین کو اپنے اپنے چھوٹے دکانوں میں آنے پر مجبور کیا جہاں بیس خواتین کے پردے کا انتظام نہیں وہاں دو سے تین سو خواتین کی بیک وقت آنے کی وجہ سے شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا لا تعدادخواتین کو اے سی دروش کے حکم پر دروش ریسٹ ہاوس میں نے خود پہنچایا لیکن سسٹم کی خرابی کا کہہ کر شام تک عورتوں کو غیر ضروری انتظار کرنا پڑا۔بڑی تعداد میں خواتین کو بازار سے نکال کر کرنل مراد اسٹیڈیم لایا گیا لیکن چار گھنٹے تک ایک خاتون بھی رقم لے کر فارغ نہیں ہوئی جبکہ اکثر خواتین بغیر پیسے لئے واپس گھروں کو چلے گئے۔اُنہوں نے کہا کہ میں ا ن واقعات کا چشم دید ہو۔ میں دونوں جگہوں پر موجودتھا۔اُنہوں نے کہا کہ آج کے بعد بینک الفلاح کی یہ من مانی چلنے نہیں دی جائیگی اس وقت شدید احتجاج کیا جائیگا جس کی تمام تر زمہ داری مذکورہ بینک پر عاید ہوگی اُنہوں نے ضلعی انتظامیہ کی اس اہم مسئلے پر خاموشی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تین مہینے پہلے اس سلسلے میں احتجاج کی گئی تھی۔ انتظامیہ ہوشیار رہے آئیندہ اس قسم کی بے عزت سلسلے کو برداشت نہیں کی جائیگی۔

Advertisements

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ

زر الذهاب إلى الأعلى