تازہ ترینڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

داد بیداد…ہتھوڑا پتھروغیرہ

…….ڈاکٹرعنا یت اللہ فیضی …..

Advertisements

خبر آئی ہے کہ خیبر پختونخوا کی صو بائی اسمبلی میں نیا ریکارڈ قائم کیا گیا حزب اختلاف اور سر کاری بنچوں کے درمیان ایک ہفتے سے جاری کشید گی میں اُس وقت مزید اضا فہ ہوا جب حز ب اختلاف سے تعلق رکھنے والے ارا کین اسمبلی نے ڈیسک بجانے کے لئے ہتھوڑا، پتھر وغیرہ استعمال کیا آ خری اطلا عات آنے تک ڈیسک بجا نے وا لوں نے کئی ڈیسکوں کو توڑ دیا ہے پریس گیلری میں بیٹھے ہوئے صحا فیوں نے آپس میں سر گو شی کرتے ہوئے حیرت کا اظہار کیا اگر ڈیسک ٹو ٹ گئے تو کل یہ لو گ کس چیز کو بجا ئینگے! ایک دل جلے نے کہا ہار مو نیم ساتھ لائینگے دوسرے من چلے نے کہا ہار مو نیم کی کیا ضرورت بین لائینگے اردو محا ورے میں بھینس کے آگے بین بجا نے کی بات کی جا تی ہے تفنن برطرف خیبر پختونخوا اسمبلی میں گا لم گلوچ کی رو ایات مو جو د ہیں ڈیسک بجانے کی روا یات بھی خا صی پرانی ہیں لیکن اب تک کسی کو ہتھو ڑے اور پتھر وغیر ہ لیکر اسمبلی میں آتے ہوئے نہیں دیکھا گیا ویسے سیدھی بات یہ ہے کہ اسمبلی کے معزز ارا کین کی تلاشی لینے والوں نے مسلح ارا کین کو اندر آنے کیوں دیا؟ ہتھوڑا لا نا بھی جرم ہے پتھر لیکر آنا بھی قا بل دست اندازی ہے معزز اراکین کے ہا تھوں میں اسمبلی قواعد وضوابط کی کتاب ہو نی چاہئیے، تازہ اخبار ہو نا چا ہئیے نوٹ پیڈ، کا پی ڈائری اور قلم ہونے چا ہئیں یہ کیا بات ہوئی کہ معزز اراکین ایوان کی طرف آتے ہوئے ہتھو ڑوں اور پتھر وں سے مسلح ہو کر آرہے ہیں اسمبلی کا اجلا س16مارچ تک ملتوی کیا گیا ہے اگر آنے والے دو ہفتوں میں اسمبلی آنے والے قریبی دشمنوں کے درمیاں صلح نہیں ہوئی تو 16مارچ کے اجلا س میں آرے اور کلہاڑی بھی نظر آئینگی اسمبلی کے ایوان میں نئی تاریخ رقم ہو گی اور اس کا سہرا مو جو دہ اراکین کے سر ہو گا مو جو دہ ارا کین سے خدا نا خواستہ ہتھو ڑے اور پتھر لیکر ڈیسک بجا نے والے ہی مراد نہیں اُن کو سننے والے یا نہ سننے والے حزب اقتدار کے ارا کین بھی مراد ہیں جسطرح مرد اور عورت زندگی کی گاڑی کے دو پہئیے ہیں اس طرح حزب اختلاف اور حزب اقتدار بھی پارلیمانی جمہوریت کی گاڑی کے دو پہئیے ہیں اور اچھی یا بُری روایت قائم کرنے میں دو نوں برابر کے حصہ دار ہوتے ہیں بر طا نیہ امریکہ اور بھارت میں حزب اقتدار کو زیا دہ زمہ دار ٹھہرا یا جا تا ہے کیونکہ اسمبلی کی کاروائی کو کسی رکا وٹ کے بغیر چلا نا حزب اقتدار کی ذمہ داری ہو تی ہے اگر اسمبلی کی کاروائی میں گڑ بڑ ہو گئی تو حزب اقتدار کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا جا تا ہے حزب اختلاف کبھی کبھی اس کمزوری سے فائدہ بھی اٹھا تی ہے اس وجہ سے سپیکر ہر سیشن سے پہلے حزب اختلاف اور حزب اقتدار کے چیدہ اراکین کے ساتھ اپنے چیمبر میں ملا قات کر کے سیشن کا ایجنڈا طے کرتا ہے پینل آف چیرمین کا تقرر کر تا ہے اور سیشن کے لئے ضا بطہ اخلاق کی پا بندی پر زور دیتا ہے اگر سیشن کے دوران کوئی نا خوشگوار واقعہ پیش آجا ئے تو حزب اختلاف کو منا نے کے لئے سپیکر، ڈپٹی سپیکر، وزیر قانون اور دیگر زمہ دار لوگ پوری کو شش کرتے ہیں قائد ایوان بھی اپنا کردار ادا کرتا ہے حزب اختلاف کو 24گھنٹے کے اندر منا کر اسمبلی کی کاروائی کو آئینی تقاضوں اورپارلیمانی روایات کے مطا بق آگے بڑھا یا جاتا ہے اسمبلی کی کاروائی میں رخنہ یا رکا وٹ آجائے تو حزب اختلاف سے زیا دہ سرکاری بنچوں کے لئے شرمندگی ہوتی ہے مگر یہ بات کس کے گوش گزار کیا جائے اور کسطرح گوش گزار کیا جائے حکمرانوں نے مر زا غا لب کا شعر گنگنا نا شروع کیا ہے ؎
بہرا ہ ہوں میں تو چاہئے دونا ہوا لتفات
سنتا نہیں ہوں بات مکر ر کہے بغیر
پریس کلب میں یہ خبر زیر بحث آگئی تو ہمارے سینئر ساتھی نے ایک معمولی سوال اُٹھا یا ہم نے کہا یہ معمولی بات ہے ایسی چھوٹی باتوں پر توجہ دینے کی ضرورت نہیں مگر اُن کا اصرار ہے کہ یہ معمولی بات نہیں سوال یہ ہے کہ اراکین اسمبلی ہتھوڑے، پتھر وغیرہ لیکر ڈیسک توڑ نے کے لئے اسمبلی ہال میں آتے وقت رجسٹری حا ضری پر دستخط کر تے ہیں یا نہیں؟ اگر دستخط کرتے ہیں تو اس دن کے لئے سیشن الا ونس لیتے ہیں یا نہیں؟ اگر لیتے ہیں تو حق حلال سمجھ کر لیتے ہیں یاہڈ حرام کہہ کر جیب میں ڈالتے ہیں؟ ایک ستم ظریف نے سوشل میڈیا میں لکھا ہے کہ ان ممبروں سے ڈیسک توڑ نے کا جر مانہ لیکر ڈیسکوں کی مر مت کی جائے ستم ظریف نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ آئیندہ خیبر پختونخوا کی اسمبلی کے لئے لکڑی کی جگہ جستی چادروں کے ڈیسک بنائے جائیں جستی چادروں سے بنے ہوئے ڈیسک کئی لحا ظ سے مفید ہونگے پہلا فائدہ یہ ہو گا کہ ہاتھ سے ڈیسک بجائے جائیں تو اتنا شور ہو گا کہ اڑوس پڑوس کے لو گ بھی اس شور کی تاب نہیں لا سکینگے دوسرا فائدہ یہ ہوگا کہ ہتھوڑا، پتھر وغیرہ سے اگر بجایا جائے تو اس کے ٹوٹنے کا اندیشہ یا خطرہ نہیں ہوگا شام کے وقت احباب کے ساتھ ہم نے بازار کا سرسری جائزہ لیا تو معلوم ہوا کہ ہارڈ وئیر کے تاجروں نے اسمبلی کی اس ”ڈیسک توڑ“ کاروائی کا بھر پور فائدہ اٹھا تے ہوئے جا بجا اشتہار دیا ہے ایک تاجر کہتا ہے اسمبلی کے ممبروں کو ہتھوڑے ہم سپلائی کرتے ہیں دوسرا تاجر کہتا ہے خالص پارلیمانی ہتھو ڑے یہاں ملتے ہیں ایک اور تاجر کا اشتہار یوں بھی ہے کہ ہتھوڑوں کی سیل جاری ہے ایم پی اے صاحبان کے لئے خصو صی رعایت دی جا تی ہے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ

زر الذهاب إلى الأعلى