تازہ ترینمحمد شریف شکیب

پاؤں ملانے کی نئی روایت

…….محمد شریف شکیب……

Advertisements

چین کے شہر ووہان سے پھیلنے والے کوروناوائرس نے میڈیا رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں بڑے پیمانے پر تباہی مچادی ہے، تاہم طبی ماہرین یہ کہہ کر ہماری ڈھارس بندھا رہے ہیں کہ اس بیماری سے مرنے کی شرح دو فیصد سے بھی کم ہے۔ یہ موسمی بیماری کی طرح ہے۔ قوت مدافعت رکھنے والوں کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی،ہماری حکومت بھی عوام کو تلقین کر رہی ہے کہ کوروناسے ڈرنا نہیں بلکہ لڑنا ہے۔اس موذی وائرس کے جانی سے زیادہ سماجی، معاشرتی، معاشی، سیاسی اور سفارتی نقصانات پر بہت کم لوگوں نے غور کیا ہے۔وائرس کی نقل و حمل روکنے کے لئے سرحدوں پر سیکورٹی انتظامات سخت کردیئے گئے ہیں۔متاثرہ ممالک کی عالمی برادری کے ساتھ تجارت بھی بری طرح متاثر ہوئی ہے ہمارے ہاں بھی دیگر اقوام کے ساتھ اظہار یک جہتی کے لئے سرکاری اداروں میں بائیومیٹرک نظام کے ذریعے ملازمین کی حاضری عارضی طور پر معطل کی گئی ہے جس پر ملازمین میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔اور بہت سے ملازمین وائرس سے متاثر ہونے کے بہانے لمبی چھٹیوں پر چلے گئے ہیں۔ حکومت نے احتیاطی تدبیر کے تحت شہریوں کو ماسک پہننے کی ہدایت کی تو اس کاروبار سے وابستہ لوگوں کے وارے نیارے ہوگئے اور انہوں نے ماسک کی قیمتوں میں پانچ سے چھ سو فیصد اضافہ کردیا۔اور بیٹھے بٹھائے ہزاروں ٹٹ پوجئے کروڑ پتی بن گئے۔ حکومت نے ملازمین کے آپس میں بغل گیر ہونے، معانقہ کرنے اور ہاتھ ملانے پر بھی پابندی لگادی ہے۔ تازہ خبر یہ آئی ہے کہ باہر کے ملکوں میں لوگوں نے ہاتھ ملانے کے بجائے پاوں ملانے شروع کردیئے ہیں۔جس کی وڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد بعض مغرب زدہ لوگوں نے پاوں ملانے کی باقاعدہ پریکٹس شروع ہردی ہے۔ ہاتھ ملانے پر پابندی ہماری صدیوں پر محیط روایت پر اس وائرس کا سب سے مہلک وار ہے۔انگریز بیشک آپس میں پاوں ملائیں یا کندھا ملائیں۔ہم اپنے پیاروں سے اور ان لوگوں سے جو ہمیں پیارے لگتے ہیں گلے ملنے کی روایت کسی بھی قیمت پر نہیں چھوڑ سکتے۔ کیونکہ یہ ہمارے تاریخی، تہذیبی اور ثقافتی اقدار اور روایات کا جزولاینفک ہے۔اور ہماری معاشرتی زندگی میں گلے ملنے، پیار کرنے، ہاتھ چومنے، معانقہ کرنے اور ہاتھ ملانے کا تاریخی پس منظر بھی ہے اور اس کے اثرات ہماری زندگی کے تمام شعبوں میں واضح نظر آتے ہیں۔اگر ہم نے ہاتھ ملانا چھوڑ دیا توہماری بہت سی کہاوتیں، ضرب الامثال اور قصے کہانیاں متروک اور کہنہ قرار دی جائیں گی۔اس کا سب سے زیادہ نقصان ہمارے ادب کو پہنچ سکتا ہے۔جسے ہمارے شاعر، ادیب اور دانشور کبھی قبول نہیں کریں گے۔پھر تو ہاتھوں میں ہاتھ ڈالنا بھی ممنوع ہوگا، ہاتھوں کی زنجیر بناکر یک جہتی کا اظہار بھی مشکل ہوجائے گا۔ ہم ہرسال یوم کشمیر پر ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر تحریک آزادی کشمیر میں اپنا حصہ ڈالنا سمجھتے ہیں۔ہاتھوں کے بجائے پاوں کی زنجیر بنائیں گے تو اس کے معنی اور مفہوم ہی الٹ ہوتے ہیں۔اگر ہاتھ کی سرگرمیاں یکسر معطل ہوگئیں تو ہم کسی کے ساتھ ہاتھ کرنے سے بھی قاصر ہوں گے، بوقت ضرورت ہاتھ دکھانا بھی ممکن نہیں رہے گا۔ ہاتھوں کی لکیروں سے قسمت کا حال بتانے والے ہزاروں لوگ بے روزگار ہوجائیں گے،ہاتھوں میں حنا کا رنگ جمانے کی روایت بھی دم توڑ جائے گی۔ اگر ایسا ہوا تو شادی بیاہ کی ساری رسومات پھیکی پڑجائیں گی۔جو لوگ اپنی انا کی تسکین کے لئے ہاتھ ملانا بھی گوارہ نہیں کرتے، وہ اپنے غرور و تکبر کا اظہار کیسے کرپائیں گے۔ہمارے ہاں پاوں ملانے کی نہیں،
ٹانگ کھینچنے کی روایت ہے۔ جسے ہم کسی بھی شعبے میں دوسروں سے آگے بڑھنے کے لئے استعمال کرتے ہیں۔اور ہمارے سیاست دانوں نے بھی اس سنہری روایت کو مستحکم کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ ہمارے ہاں ٹانگیں کھیچنے کا یہ کھیل عام طور پر حزب اقتدار کے ساتھ کھیلا جاتا ہے۔جسے حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والے اپنا آئینی،سیاسی اور جمہوری حق سمجھتے ہیں حالانکہ آئین میں اس کا واضح طور پر کوئی ذکر نہیں، لیکن کسی بھی بات کا کوئی بھی مفہوم لینا اور اپنی مرضی، منشااور مفاد کے مطابق اس کی تشریح کرنا بھی ہم اپنا بنیادی شہری اور جمہوری حق سمجھتے ہیں بات جب جمہوریت کی ہو تو اس پر اعتراض کرنے کا کسی کو حق نہیں ہوتا۔اور ایسی جرات کو ملک اور آئین سے غداری تصور کیا جاتا ہے۔ ذمہ دار شہری ہونے کے ناطے ہمیں ہاتھ ملانے کے بجائے پاوں ملانے سے اس وقت تک گریز کرنا چاہئے جب تک حکومت کی طرف سے اس حوالے سے کوئی قومی بیانیہ جاری نہیں کیا جاتا۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ

زر الذهاب إلى الأعلى