تازہ ترینفیض العزیز فیض

ڈاکٹرز بمقابلہ عامل بابے

…….فیض العزیز فیض…..

Advertisements

لفظ جن کا مطلب ہے کوئی چھپی ہوئی مخلوق۔جنات چونکہ ہمیں نظر نہیں آتے۔لیکن ہم ان کو نظر بھی آتے ہیں۔یہ کارخانہ قدرت کے ان کرشمات میں سے ہیں کہ جن کے اوپر ہمارا ایمان ہے۔کہ جنات کا وجود ہے۔اور صحیح (بخاری) میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے کہ (کہ شیطان ابن آدم کے اندر اس طرح دوڑتا ہے کہ جس طرح خون۔لیکن انسانوں کے لیے یہ معاملات انتہائی پیچیدہ ہیں کہ جنات کہاں رہتے ہیں،کیا کھاتے ہیں،کیا کرتے ہیں؟ چونکہ ہمارے جدید سائنس کا محور بھی وہیں چیزیں ہیں جو حواس خمسہ سے ثابت ہیں۔اس کے علاوہ جدید سائنس میں کسی اور غیر مرئی مخلوق کی موجودگی قابل اعتبار بھی نہیں اور قابلِ تفتیش بھی نہیں۔لہٰذا اگرہم انسانوں میں سے کسی کوان پوشیدہ مخلوق میں سے کوئی چمٹ جائے تواس کا علاج دنیا کا کوئی بڑے سے بڑا ڈاکٹر نہیں کرسکتا۔کیوں کہ وہ ہمارے طبی علوم کے نصاب کا حصہ نہیں ہوتے۔ان کا علاج ان ہی سے کرایا جاتا ہے۔اس لیے ہم رجوع کرتے ہیں بابے لوگوں سے۔جن کو ان کی خدمات حاصل ہوتی ہیں۔چونکہ جنات ہمارے دائرہ کار سے باہر ہوتے ہیں۔ظاہر سی بات ہے کہ خالق کائنات نے انھیں ہم سے پردے میں رکھا ہے۔ابھی بات یہ ہے۔کہ جنات ہمارے معاملات میں مداخلت کرتے ہیں۔فائدہ اور نقصان پہنچاتے ہیں۔ اس پر بھی ہمارا ایمان ہے۔کہ یہ سب کچھ اللہ کی منشاء سے ہوتا ہے۔پچھلے دنوں جنید نامی دروش سے ایک بچہ جن ڈاکٹر کے نام سے مشہور ہواآپریشن بھی کرتا ہے۔دوائیں بھی لکھ کردیتاہے۔ویڈیوز بھی موجود ہیں۔اب اس کے بارے میں مختلف آراء ہیں۔سرکار کی طرف سے اسکی گرفتاری عمل میں آئی کیونکہ ایک بغیر لائسنس یافتہ بچہ ایک غیر تربیت یافتہ شخص کو اس طرح سے لوگوں کے صحت جیسی حساس چیز سے کھیلنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔اس معاملے میں مفتیان کرام سے رابطہ کیا اس چیز کو سمجھنے کی کوشش کی لیکن ان کی طرف سے بھی کوئی اطمینان بخش جواب نہیں آیا۔تو میرے ناقص ذہن میں یہ بات آتی ہے کہ بابے لوگ جنات جادو ٹونے عملیات کے ذریعے خاندانوں میں لڑائیاں کاروبار کی بندش۔ساس کو فرمانبردار۔نالائق بچوں کو پڑھاکو اور ظالم محبوب کو قدموں میں لا سکتی ہیں تو عین ممکن ہے کہ بیماریوں کا علاج بھی کرتے ہونگے۔اور یہ چیزیں ہمارے معاشرے کے بہت عام مشاہدات ہیں۔ہمارے ہاں کالے علم کی کاٹ پلٹ کے ماہر عامل بابے جس قدر کثرت سے پائے جاتے ہیں اور ان کی دکانیں جس حساب سے چل رہی ہیں،انہیں دیکھ کر تو لگتا ہے کہ دنیا جہاں کے جنات اوربھوت پاکستان میں ہی بسیرا کیے ہوئے ہیں۔ہاں جب پاکستانی بیرون ملک جاتے ہیں تو ان کے ساتھ اتنی ہی تعداد میں یہ مافوق الفطرت مخلوق بھی ہجرت کر جاتی ہے۔مثال کے طور پر برطانیہ میں اقامت پذیر پاکستانیوں کے ہاں عاملوں کی بہتات ہے۔کچھ عرصہ قبل برطانوی حکومت نے ایک تحقیقاتی کمیٹی کے ذریعے یہ کھوج لگانے کی کوشش کی کہ کسی نفسیاتی مسئلے کی صورت میں ایشیائی کمیونٹی کے لوگ با الخصوص پاکستانی کسی معالج سے رجوع کرنے کے بجائے عامل کی خدمات کیوں حاصل کرتے ہیں۔اس کے علاوہ عجیب و غریب تفہمات کی برمار ہے.۔باہر کے دنیا کی لوگوں کی لش پش،نئی نویلی مرسیڈیزاوربی ایم ڈبلیو کسی ٹونے ٹوٹکے کے بغیر حادثے سے محفوظ رہتی ہیں مگر ہمیں اپنی پرانی مہران غوگےء فلائنگ کوچ اور آلٹو کے پیچھے بھی کوئی کالا دھاگہ باندھنا پڑتا ہے۔حد تو یہ ہے کہ سبزی کے ریڑھی والے بھی جوتے لٹکائے نظر آتے ہیں تاکہ کسی کی نظر نہ لگے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ

زر الذهاب إلى الأعلى