تازہ ترینفرہاد خان

اب نہیں بات کوئی خطرے کی۔ اب سبھی کو سبھی سے خطرہ ہے۔(جون ایلیا) فکروخیال

……. فرہاد خان ……..

Advertisements

کسی کے فہم و گمان میں بھی نہ ہوگا کہ چین کے شہر “وھاَن” سے ایک ایسا عجیب و غریب وبا نکلے گا کہ ساری دنیا لرز جائیگی اور فرد کو فرد سے تنہا کردے گا۔ لوگ ایک دوسرے سے ملنے سے احتراز کرین گے اور ملنے ُجلنے ،گھومنے پھرنے پر ساتھ رہنے پر ایسا قدغن لگائے گا کہ انسان ہزار ہا دعوون کے باوجود، ترقی کی بلندیون کو چُھونے کے باوجود اس پُراسرا بیماری پر قابو پانے میں ناکام نظر آرہا ہے ۔ آج سارا عالم “وھان” سے شروغ ہونے والے اس وبا پر قابو پانے اور انسانون کو بچانے کی فکر میں ہے مگر تاحال اس کا علاج دریافت نہیں کیا جاسکا، میڈیکل سائنس ترقی کی بلندیون کے دعوے کے باوجود اس موزی مرض کی تشخیص میں تاحال ناکام ہے۔کسی نے اسے امریکہ کا چائنا پر بیالوجیکل حملہ کہا اور اسے چین کو اقتصادی طور پر مفلوج کرنے کا پلان کہا گیا تو کسی نے برسون پہلے کسی کتاب کا حوالہ دینے ہوئے کہا کہ اس وائرس کا زکر برسون پہلے ایک کتاب میں موجود ہے تو کسی نے کسی پرانی ہالی ووڈ فلم کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ اسی وائرس کا زکر فلان فلم میں موجود ہے اور اب یہ وائرس اسی پلان کے مطابق چین کے شہر واہان میں پھیلایا گیا ہے تو دوسری طرف بنیاد پرست مسلمان اسے چینی مسلمانوں پر چین کی جانب سے مظالم کے جواب میں قدرت کی جانب سے عذاب کا نام دیا مگر جب یہ وبا کافرون کی بستی سے نکل کر ان تک پہنچا تو سمجھ گئے کہ یہ معاملہ ہی کچھ اور ہے۔ ان تمام کہانیون میں کتنی سچائی ہے نہیں معلوم ،تاہم پوری دنیا کا اس وبا کی وجہ سے لرز جانا اس بات کی گواہی ہے کہ نہ امریکہ کے پاس اس کا علاج ہے اور نہ چین کے پاس حتی کہ کسی بھی ترقیافتہ ملک کے پاس اس کے تدارک کا کوئی دوا موجود ہے ہی نہیں۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وائرس کی شکل میں یہ قدرت کا کوئی امتحان ہو کہ ترقی کے بلند بانگ دعوے کرنے والے حضرت انسان کی خوش فہمی پر قدرت کا یہ تماچہ کہ تم جتنی بلند بانگ دعوے کرتے پھرو مگرمیری قدرت کے آگے تم انسان بےبس ہی ہے اور بے بس رہو گے۔ اگر تمہارے بس میں ہوتا تو اس بلا کو روک کر دکھا سکتے تھے مگر نہیں تم قدرت کے سامنے تمہاری حیثیت کچھ بھی نہیں ۔ اس وبا سے فی الفور بچے رہنے کا طریقہ یہ صرف یہ بتایا جارہا ہے کہ گھرون میں رہیں ،صفائی کا خیال رکھیں ۔اپنے آپ کو صاف رکھیں اور ایک دوسرے سے فاصلے پر رہیں اور اس فرمان کے بعد عالم یہ ہے کہ شہر کے شہر سنسان ہیں اور لوگ گھروں میں محصور،سڑکیں و گلیان ویرانی کا منظر پیش کررہی ہیں اور لوگ انہتائی خوف کے عالم میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ۔ برسون پہلے جون ایلیا کا یہ شعر اب ہم سب پر صادق آرہا ہے کہ “اب سبھی کو سبھی سے خطرہ ہے ” لوگ ایک دوسرے کے پاس سے گزرتے ہوئے بھی ڈرے اور سہمے ہوئے ہیں اور لوگون کی نفسیات پر کورونا کا یہ مرض ایسا سوار ہوچکا کہ خلق خُدا ایک دوسرے سے ملنے سے گریزان ہیں ۔ اللہ خیر کرے اور اس عجیب و غریب وبا کو جلد سے جلد اُٹھا لے تاکہ خوفزدہ دنیا پھر سے معمول کی طرف آئے اور انسانون کی بستی پھر سے اپنے رنگینون کی طرف لوٹے۔ ہم سب پر فرض ہے کہ جتنا ہوسکے اس وبا کو پھلینے سے روکیں جتنا ہم سےہوسکے تنہائی اختیار کریں ،اپنے آپ اور اپنے پیاروں کی نگہداشت کریں اور جتنا ہوسکے اس وبا کو روکنے میں اپنا کردار ادا کریں۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ

زر الذهاب إلى الأعلى