تازہ ترینشہزادی کوثر

نوائے سُرود ……کورونا کے دنیا پر مثبت اثرات

           ……..شہزادی کوثر

Advertisements

ہر کام میں یقینا خالق کی کوئی نہ کوئی مصلحت ہوتی ہے۔ ان کا کوئی بھی عمل حکمت سے خالی نہیں ہوتا ۔پوری دنیا میں تہلکہ مچانے والی وبا نے ایک طرف نظام ِ زندگی کو بری طرح متاثر کیا ہے ،ہزاروں لوگ لقمہ،اجل بن گئے ،کاروباِرزندگی مفلوج ہو کر رہ گیا ،لوگ ایک دوسرے سے بھاگ رہے ہیں ،بڑی بڑی عالمی طاقتیں اپنی معیشت کا رونا رو رہی ہیں ،ایک دوسرے کے ساتھ روابط کو محدود کیا جا رہا ہے،پڑوسی ممالک کے ساتھ اپنی سرحدیں سیل کرنے میں ہی عافیت محسوس کی جا رہی ہے،عوام کو گھروں تک محدود رکھنے کی تمام کوشیش بروئے کار لائی جا رہی ہیں تاکہ سانس کے ذریعے پھلنے والی اس بیماری سے زیادہ سے زیادہ لوگوں کو محفوظ رکھا جا سکے،اگر ایسا نہ کیا گیا تا خاکم بدہن ووہان جیسی صورتِحال سے دوچار ہونا پڑے گا ۔ترقی یافتہ ممالک  اپنی بہترین انتظامی اور طبی سہولیات کے باوجود اس مرض کو ختم کرنا تو کجا کنٹرول کرنے میں ہی ناکام ہو رہے ہیں ،روزانہ ہزاروں کی تعداد میں اموات کا سن کر دل دہل جاتا ہے۔ لوگ اپنے پیاروں کے ٓاخری رسومات کی ادائگی سے بھی معذور ہیں ۔زندگی کا پیہ جام ہو گیا ہے ،مساجد نمازیوں سے خالی ،گرجے ،گردوارے اور مندر ویران پڑے ہیں ،انسان ذہنی اور اعصابی تناو کا شکار ہے،لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ رب سے ناطہ ٹوٹ گیا ہے ،یہ ایسا رشتہ ہے جو کمزور تو ہو سکتا ہے ختم نہیں ہو سکتا اللہ اپنے بندوں کو بے یارومددگار کبھی نہیں چھوڑتے بقول علامہ اقبال

خدا وہ کیا ہے جو بندوں سے احتراز کرے

اس پریشانی اور مصیبت میں انسان جتنا اپنے رب کے قریب ہوا ہے پہلے کبھی نہیں ہوا ہو گا، کیا پتا یہ وقت ہمارے لیے رحمت ثابت ہو کیونکہ ہر دل اور زبان پر اللہ کا نام ہے توبہ استغفار ذکر اذکاراور ٓایات ِکریمہ کا ورد ہو رہا ہےغیر مسلم بھی اسلام کی حقانیت کے معترف ہو رہے ہیں ٓاسمان والے سے مدد مانگی جا رہے اور مسلمانوں سے خصوصی طور پر دعاوں کی اپیل کی جا رہی ہے کیا ایسا وقت رحمت کا نہیں ہوتا ْکہ انسان اپنے رب کے حضور شرمندگی اور ندامت سے حاضر ہو۔اس کے سامنے سجدے میں گر جائے اپنے گناہوں کا اعتراف کر کے بخشش کا خواستگار ہے۔ اس کا ایمان مضبوط ہو کہ اس ٓافت سے صرف وہی ہمیں بچا سکتا ہے۔ یہ وقت نہ ٓاتا تو شاید ہم ان کی طرف لوٹنے کو بالکل فراموش کر دیتے۔یہ انہی کا کرم ہے کہ ہمیں ہوش میں ٓانے اور اپنے گناہوں سے توبہ کرنے کا موقع فراہم کیا۔ ہمارے ذہنوں پر امریکہ اور مغربی ممالک سوار تھے کہ وہ سب کچھ کر سکتے ہیں پوری دنیا ان سے دبی ہوئی تھی لیکن اب حالات نے واضح کیا کہ اللہ کے سامنے کسی کی نہیں چلتی۔ جس امریکہ کو اپنی طاقت پر ناز تھا وہ بھی منہ کے بل گر پڑا ہے۔وہاں روزانہ بیسیوں افراد جان کی بازی ہار رہے ہیں لیکن وہ کچھ نہیں کر پا رہا کیونکہ اس کی حکمتِ عملی یہاں پہنچ کر صفر ہو جاتی ہے۔ اگر کوئی کرنے والا ہے تو وہ اوپر والے کی ذات ہے۔وہی ہمارا نگہبان ہے۔ دوسری طرف تمام دنیا کے معاملات رک گئے ہیں جس کی وجہ سے دنیا کو درپیش سب سے بڑا خطرہ بھی ٹلتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔سائنس دانوں نے انکشاف کیا ہے کہ اوزون کی تہ میں موجود سوراخ میں کمی واقع ہو رہی ہے ممکن ہے کہ اس میں مزید بہتری ائے انسان اس بات کا تصور بھی نہیں کر سکتا تھا کہ پوری دنیا کے کارخانے بند ،پروازیں اور ٓامد ورفت معطل کر دی جائیں لیکن اللہ نے ایسا انتظام کیا کہ انسان کو نہ چاہتے ہوئے بھی ایسا فیصلہ کرنا پڑا جسکی وجہ سے نا ممکن بات بھی حیرت انگیز طور پر ممکن ہوگئی۔ اس سوراخ کو بھرنا یا کم کرنا انسان کی سمجھ اور اختیار سے باہر تھا لیکن اللہ نے اپنی حکمت سے یہ ممکن بنایا۔ اس میں بھی اگر ہم چاہیں تو خالق کی مہربانی اور محبت کو دیکھ سکتے ہیں کہ انے والے وقت میں دنیا کو درپیش سب سے سنگین صورت حال سے بچانے کے لیے اس وبا کو بہانہ بنایا۔ کیونکہ اوزون کی تہ میں سوراخ کی وجہ سے عالمی درجہ حرارت میں تیزی سے اضافہ ہو رہا تھا ،موسمی تغیرات غیر یقینی صورت اختیار کر چکی تھی،گلیشئر کے ذخائر تیزی سے پگھل رہے تھے،سیلاب وقتہ فوقتا تباہی مچا رہی تھی ،سورج کی الٹرا والٹ شعاعیں براہ راست زمین تک پہنچ کر جلد کی بیماریوں اور کینسر کی وجہ بن رہی تھی، اب سب کچھ ڈرامائی انداز سے بدل رہا ہے۔اپنے گھروں میں مقید ہونے کا ایک اور فائدہ یہ ہوا کہ ہمیں خود سے ملنے کا موقع ملا ہے،ہم خود کو کہیں کھو چکے تھے اپنے اندرون میں جھانکنا ہم نے چھوڑ دیا تھا،یہ موقع ہے کہ اپنے اندر جھانکیں اندر کی کائنات کا مشاہدہ کریں وہاں نئی دنیاوں کو کھوجنے کا موقع ملے گا۔ اس وبا سے یہ بھی انکشاف ہوا کہ ہم محدود وسائل اور سادگی میں بھی بہترین زندگی گزار سکتے ہیں۔خواہ مخواہ کے دکھاوے اور مصنوعی زندگی سے بچنے اور اپنی زندگی کو اوریجنل لائف اسٹائل کی طرف لانے کا یہ بہترین موقع ہے۔  ممکن ہے ٓاپ کو میری رائے سے اتفاق نہ ہو لیکن اس بات سے ضرور اتفاق ہو گا کہ رب کو راضی کرنا سب سے آسان ہے بس ان کے سامنے گڑگڑانےاور ٓانسو بہانے کی دیر ہے اس سے پہلے کہ وہ ہم سے منہ پھیر لے ضروری ہے کہ اپنے کیے کی معافی مانگیں اپنی عبادات کے ساتھ معاملات کو بہتر بنانے کا وعدہ کریں کیونکہ ہم اسلام کو صرف عبادات تک محدود سمجھتے ہیں اور معاملات میں پرلے درجے کی دو نمبری کا مظاہرہ کرتے ہیں جبکہ اسلام کے افاقی پہلومعاملات میں پنہاں ہیں جنہیں سنوار کر دنیا کے سامنے اسلام کی سچی تصویر پیش کر سکتے ہیں اور جو چیز اللہ کی طرف سے نازل ہوتی ہے اس سے اپنے لیے مثبت پہلو تلاش کر کہ ہی ہم مطمعن اور پر سکون زندگی کے حقدار بن سکتے ہیں۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ

زر الذهاب إلى الأعلى