تازہ ترین

آہ! میرے ”بابا“ بھی چلے گئے

……۔۔۔ تحریر۔۔ یاسمین الہی قاضی

Advertisements

”بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی
اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا“
کل نفس ذائقۃ الموت(ہر ذی روح کو موت کا مزہ چکھنا ہے)اے اللہ بے شک ہمیں لوٹ کر تیری ہی طر ف آنا ہے۔ دنیا کی رنگینیوں میں کھو کر اکثر ہم اس تلخ حقیقت کو بھلا دیتے ہیں جسے”موت“ کہتے ہیں۔ یہ اٹل چیز ہے۔ لیکن انسان دنیا کی عارضی زندگی میں ایسا کھو جاتا ہے کہ اسے کچھ ہوش نہیں رہتا، اس کی آنکھ تب کھلتی ہے جب اس کے کسی عزیز کو موت اس سے ہمیشہ کے لئے جداکردیتی ہے۔ یہ بڑا تکلیف دہ لمحہ ہوتا ہے۔ انسان اس کے سامنے بالکل بے بس ہوتا ہے۔ حال ہی میں مجھے اس تلخ حقیقت کا تجربہ ہوا جب میرے پیارے والد محترم پلک جھپکتے ہی ہمیں روتا اور سسکتا چھوڑ کر ابدی زندگی کی طرف کوچ کرگئے۔۔۔۔
کبھی والد سے جدا ہونے کا صرف تصور ہی دل ہلا کے رکھ دیتا تھا۔ لگتا تھا کہ دل پھٹ جائے گامگر۔۔۔۔۔ اس وقت اپنے پیارے اور مشفق ”بابا“ کو آخری ہچکی لیتے ہوئے دیکھا۔ان کا وجود کیا گیا، ایک دور چلا گیا،ایک تاریخ رخصت ہوگئی،ایک عہد گزر گیا،ایک تحریک اجڑ گئی،ایک ہنگامہ اوجھل ہوگیا۔ زندگی سے بھرپور، جسم کو بے جان اور ساکت ہوئے دیکھا، مگر اس غم کے کوہ گراں کو سہہ گیا، بے بسی و لاچاری کی صورت بنی اور اپنے اپنے پیارے بابا کو ہمیشہ کیلئے الوداع کہا۔ اب فضا ساکن،ہوا ساکت، صبا دم بخود اور وقت اداس ہے۔بے شک اللہ ک وعدہ سچا ہے کہ (لا یکلف اللہ نفساََ الا وسعھا) ترجمہ: اللہ اپنے بندے پر اس کی ہمت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا۔
میرے ”بابا“ کے ساتھ بہت سی یادیں وابستہ ہیں جو مستقل ایک کتاب کی متقاضی ہے۔ میرے بابا کی شخصیت حسن و خوبی کے رنگا رنگ پھولوں کے حسین گلدستہ تھی۔ میرے بابا دیکھنے میں تو واقعی ایک انسان نظر آتے تھے لیکن ان کے خصائص اور صفات سو انسانوں کے نہ سہی پچاس انسانوں کے عمل سے باہر کی چیز تھی۔ان کا وجود گرامی اللہ کی قدرت کا شاہکار تھا اور ایسے شاہکار روز بروز پیدا نہیں ہوتے۔
”جس بھی فنکار کے شاہکار ہو تم“
”اس نے صدیوں تمہیں سوچا ہوگا“
اللہ نے مجھ نا تواں اور کم ہمت کو بھی پتہ نہیں کب اتنی ہمت اور حوصلہ عطا کیا کہ اپنے پیارے ابو کو مفارقت میں مغموم و نڈھال، سہمی ہوئی بہر حال زندہ ہوں۔میرے والد اپنی نرم مزجی، ملنساری اور خوش گفتاری کی وجہ سے ہر ملنے والے کا دل جیت لیتے تھے۔ جس طرح میرے پیارے بابا باہر کی دنیا کیلئے باکردار اور فرض شناس آفیسر تھے ایسے ہی اپنی عائلی زندگی میں بھی آپ بڑے نفیس، نرم خو، قدر شناس اور محبت کرنے والے انسان تھے۔ ان کے ایک ایک لفظ احتیاط کے ترازو میں تولا ہوا ہوتا تھا۔ زبان و بیان میں کوثر تسنیم کی آمیزش کا سماں معلوم ہوتا تھا۔ قدرت حق نے آپکو خوبیوں کا مرقع بنایا تھا۔ہماری چھوٹی چھوٹی خواہشات کی تکمیل بھی ان کیلئے خاصی خوشی کا باعث ہوتا تھا۔ مثبت اور اسلامی سوچ رکھنے والے انسان تھے تب ہی ہمیشہ ہمارا حوصلہ بڑھاتے اور ناامیدی و مایوسی سے بچنے کی تلقین کرتے۔
ان کی جدائی سے ہماری زندگیوں میں وہ خلا بن گیا ہے جو کبھی پر نہیں ہوسکے گا۔ ان کے ساتھ بیتے ہوئے تمام لمحے ہمارا سرمایہ ہیں۔”بابا“ کا لفظ پکارے ہوئے ڈھائی ماہ ہوگئے، دل او رزبان اس لفظ کو پکارنے کیلئے بے تاب ہیں۔ شدت جذبات کی وجہ سے جب کبھی بے ساختہ پکارتی بھی ہوں تو کوئی جواب نہیں آتا۔۔آہ۔۔ دل سمندر کی اتھاہ گہرائیوں میں ڈوبا جارہا ہے۔ میکے سے رخصتی کے وقت جب والد کے آخری آرام گاہ پر الوداعی حاضری دی اس وقت دل کسی زخمی پرندے کی طرح مچل رہا تھا۔ آنکھوں سے آنسو بارش کے قطروں کی مانند بہہ رہے تھے مگر۔۔۔۔ ہماری ذرا سی تکلیف پر پریشان ہونے والے پیارے بابا جان منوں مٹی تلے چپ چاپ سو رہے تھے۔۔۔۔ اب میرے سر پر شفقت سے ہاتھ رکھ کر ”فی امان اللہ“ کہہ کر رخصت کرنے والا باپ نہیں رہا۔ ا ب شدت کے ساتھ احساس ہورہا ہے کہ بڑی خوش قسمت ہیں وہ بیٹیاں جنہیں باپ سے ملنے کیلئے میری طرح مزاروں پرجانا نہیں پڑتا۔
تمھاری یاد آتے ہی نکل پڑتے ہیں دو آنسو
یہ وہ برسات ہے جس کا کوئی موسم نہیں ہوتا
آج ہم میں وہ مشفق مہربان ”بابا“موجود نہیں ہے۔ وہ چودھویں چاند کی طرح مسکراتا چہرہ موجود نہیں۔ اگر ہیں تو ان کی باتیں یا پھر لو دیتی ہوئی یادیں۔ اللہ سے دعا ہے کہ میرے پیارے والد کو جنت الفردوس میں اعلی و ارفع مقام سے نوازے اور مجھ سمیت جملہ خاندان کو اس کڑی آزمائش میں صبر، حوصلہ، ہمت عطا فرمائیں۔اور بے شک اللہ ہی کیلے ہے جو اس نے لے لیا اور اسی کیلئے ہے جو عطا کریں اور ہر چیز کیلئے اس کے پاس ایک مقرر وقت ہے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ

زر الذهاب إلى الأعلى