تازہ ترینمحمد شریف شکیب

چترال اور کرونا

۔۔۔۔۔۔محمد شریف شکیف۔۔۔۔۔۔

Advertisements

وزیراعظم عمران خان نے بارہا اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ عوام کی بے احتیاطی کی وجہ سے کورونا متاثرین کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ ہوسکتا ہے یہ بھی ممکن ہے کہ ہسپتالوں میں کورونا کے مریضوں کے لئے گنجائش نہ رہے،کچھ ایسی ہی صورتحال بنتی نظر آرہی ہے، لوگ ہفتہ دس دن کے لاک ڈاون سے اکتا گئے ہیں اکثر تجارتی مراکز میں دکانیں کھل گئی ہیں بازاروں میں رش نظر آرہا ہے، بین الاضلاعی ٹرانسپورٹ کی بندش کے باوجود پرائیویٹ گاڑیوں میں لوگوں کی آمدورفت میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ حکومت اپنے وسائل کے مطابق لوگوں کو مالی امداد اور سہولیات فراہم کر رہی ہے مثال کے طور پر پشاور کے بڑے ہسپتالوں میں کورونا کے مریضوں کا علاج اور دیکھ بھال کرنے والے ڈاکٹروں کے لئے تنخواہ کے علاوہ روزانہ پندرہ سے بیس ہزار، نرسوں کے لئے آٹھ ہزار اور پیرامیڈیکل سٹاف کے لئے تین ہزار روپے اضافی الاونس مقرر کیا ہے، دیہی علاقوں کے بنیادی صحت مراکز اور علاقائی صحت مراکز میں بھی ڈاکٹروں کی تقرری عمل میں لائی گئی ہے۔کورونا وائرس سے اب تک محفوظ ضلع چترال کے بی ایچ یوز اور آر ایچ سیز میں بھی ڈاکٹروں کی تقرری کا اعلامیہ جاری کیا گیا ہے۔لیکن ہنگامی صورتحال کے باعث شاید عجلت میں دیگر ضروری عوامل پر توجہ نہیں دی گئی، اپر چترال کے تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال بونی لوئر چترال کے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں بھی کورونا کے مریضوں کا ٹیسٹ کرنے کی سہولت دستیاب نہیں، دروش، چترال، جنالکوچ، بونی، مستوج، تورکہو، موڑکہو اور گرم چشمہ میں قرنطینہ مراکز قائم کئے گئے ہیں جہاں صرف مشتبہ مریضوں کو رکھا جاتا ہے۔اگر کسی مریض میں کورونا کے ظاہری علامات نظر آئیں تو اسے تشخیص کے لئے پشاور بھیجا جاتا ہے۔ اس وقت کراچی، لاہور، پنڈی اسلام آباد، پشاور اور ملک کے دیگر حصوں میں رہنے والے چترال کے ہزاروں باشندے چترال کا رخ کر رہے ہیں،ان لوگوں کو چترال کی ضلعی انتظامیہ متعلقہ علاقوں میں قائم قرنطینہ مراکز کو ریفر کر رہی ہے جہاں شناختی کارڈ اور رابطہ نمبروں کے اندراج کے بعد انہیں گھروں کو بھیجا جاتا ہے۔یہ انتہائی خطرناک صورتحال ہے۔ کسی شخص میں کورونا کی علامات دو ہفتوں بعد ظاہر ہوتے ہیں قرنطینہ مرکز سے کلین چٹ ملنے کے بعد یہ لوگ اپنے گھر آتے ہیں اہل خاندان اور یار دوستوں اور گاوں کے لوگوں سے میل میلاپ شروع کرتے ہیں اگر خدانخواستہ چترال آنے والے چالیس پچاس ہزار افراد میں سے دو چار بھی وائرس کے ساتھ گھروں میں پہنچے تو چند ہفتوں کے اندر پورا ضلع اس مہلک وائرس کی لپیٹ میں آسکتا ہے۔اپر اور لوئر چترال کی انتظامیہ لوگوں کو سماجی فاصلے قائم رکھنے کی تلقین ہر ممکن طریقے سے کررہی ہے۔ لاوڈ سپیکروں کے ذریعے اعلانات کئے جارہے ہیں پوسٹر اور بینرز آویزاں کئے گئے ہیں لیکن دیہی معاشرے میں سماجی فاصلوں کے اصول پر عمل درآمد کرنا بہت مشکل کام ہے۔ غمی خوشی کے مواقع پر لوگوں کا مجمع لگنا علاقے کی روایت اور سماجی ضرورت ہے۔ ملاقات ہونے پر معانقہ یا مصافحہ نہ کرنا معیوب سمجھا جاتا ہے۔ ضلعی انتظامیہ کے پاس باہر سے آنے والے تمام لوگوں کو دو ہفتوں تک قرنطینہ مراکز میں رکھنے کے لئے وسائل نہیں ہیں ان لوگوں میں خواتین، بچے، بزرگ شہری اور بیمار بھی شامل ہیں انہیں مناسب خوراک، رہائش، بستر اور علاج معالجے کی سہولت فراہم کرنا انتظامیہ کے بس کی بات نہیں، لیکن وسائل کی کمی کو جواز بناکر ضلع کی سات لاکھ آبادی کی زندگی بھی خطرے میں نہیں ڈالی جاسکتی، اس کا مناسب اور بہترین حل یہ ہے کہ ہر گاوں میں موجود پرائمری، مڈل اور ہائی کو مقامی قرنطینہ قرار دیا جائے، باہر سے آنے
والے تمام لوگوں کو ان کے اپنے علاقے میں قائم قرنطینہ مراکز میں رکھا جائے، ان کے لئے بستر اور کھانے پینے کی اشیاء ان کے خاندان کے لوگ مہیا کرنے کے پابند ہوں گے،چترال کی ایک قدیم اور سنہری روایت ہے کہ گاوں میں کسی گھر میں فوتگی ہوجائے تو مرحوم یا مرحومہ کی رسم قل تک گاوں والے غمزدہ خاندان اور تعزیت کے لئے آنے والوں کو تین وقت کا کھانا باری باری فراہم کرتے ہیں قرنطینہ مرکزمیں دوہفتوں تک قیام کرنے والوں کو بھی پورا گاوں خوراک فراہم کرسکتا ہے۔ اس دوران کسی شخص میں کورونا کی علامات رونما ہوں تو ضلعی انتظامیہ کو آگاہ کیا جاسکتا ہے۔خیبر پختونخوا میں مجموعی طور پر کورونا کی صورتحال اب تک اطمینان بخش ہے

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ

زر الذهاب إلى الأعلى