تازہ ترینمحمد شریف شکیب

کفالت اورعطیات

……محمدشریف شکیب…..

Advertisements

ضلع مہمند میں سنگ مرمر کی صنعت سے وابستہ ایک صاحب معمور گل نے لاک ڈاون کی وجہ سے اس شعبے کو پہنچنے والے نقصانات کی نشاندہی کی ہے ان کا کہنا ہے کہ وہ بھاری مشینری،ایکس کیویٹر، ائرکمپریسر، لیڈرز، وائرزوغیرہ کرائے پر لے کر سنگ مرمر نکالنے کا کام کرتے ہیں ہر مہینے کی پہلی تاریخ کو مشینری کا کرایہ دینا پڑتا ہے، اور وہاں کام کرنے والے کاریگروں اور مزدوروں کو تنخواہ دینی ہوتی ہے۔ سینکڑوں افراد کا روزگار اس شعبے سے وابستہ ہے، حکومت نے عوامی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے تعمیرات کے شعبے کو لاک ڈاون سے استثنیٰ دینے کا فیصلہ کیا ہے سنگ مرمر بھی تعمیراتی شعبے سے تعلق رکھتا ہے اس شعبے سے وابستہ ہزاروں خاندانوں کی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے سنگ مرمر کی صنعت کو بھی لاک ڈاون سے مستثنیٰ قرار دیا جائے،یہ مسئلہ صرف ضلع مہمند کے ایک کان کا نہیں، ضم شدہ قبائلی اضلاع کے علاوہ صوبے کے مختلف اضلاع میں لاکھوں افراد کا روزگارماربل سیکٹر سے وابستہ ہے۔ لاک ڈاون کے اصولوں پر سختی سے عمل درآمد کی شرط پر انہیں کام کرنے کی اجازت دی جائے تو ہزاروں خاندانوں کو فاقوں سے نجات مل سکتی ہے۔حکومت نے احساس کفالت پروگرام کے تحت دیہاڑی دار اور بے روزگار افراد کو مالی امداد کی فراہمی شروع کردی ہے بارہ ہزار روپے ماہوار کی مالی امدادپانچ سات افراد پر مشتمل ایک خاندان کے لئے ناکافی ہے لیکن قومی معیشت کی حالت ایسی نہیں کہ حکومت سے مزید امداد کا تقاضا کیا جاسکے۔ڈانواں ڈول معیشت کے ساتھ حکومت نے غریبوں کی اتنی خبرگیری کی ہے یہ بھی غنیمت ہے ملک کو ہنگامی نوعیت کی صورتحال کا سامنا ہے یہ ایک قومی بحران ہے جس سے نکلنے کے لئے پوری قوم کو حکومت کا دست و بازو بن کر کام کرنا ہوگا، اس ملک میں جہاں چالیس فیصد لوگ غربت کی لکیر سے نیچے کی سطح پر زندگی گذار رہے ہیں وہیں پچیس فیصد لوگوں کے پاس اتنی دولت ہے کہ وہ ان سے سنبھالا نہیں جاتا،ان میں سے بہت سے لوگ وہ ہیں جنہوں نے اس غریب قوم کے وسائل کو لوٹ کر مال و دولت کے انبار لگارکھے ہیں۔جو ان کی سات نسلوں کے لئے بھی کافی ہیں، کورونا وائرس کی صورت میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسے لوگوں کو وعید آئی ہے کہ وہ لوٹا ہوا مال غریبوں میں تقسیم کرکے اپنے خالق سے گناہوں کی معافی مانگیں اور کورونا کا شکار ہونے سے پہلے توبہ تائب ہوجائیں۔کورونا وائرس نے کسی کو یہودی، عیسائی، ہندو، سکھ، دھریہ، بت پرست، آتش پرست اور مسلمان ہونے کی بنیاد پر نشانہ نہیں بنایا، نہ ہی کسی کو لسانی، نسلی، قومی اور علاقائی بنیاد پر اپنا شکار کیا،پوری انسانیت کے لئے اس نے خطرے کی گھنٹی بجادی ہے اس لئے ہمیں بھی قومیت، فرقے، مسلک، زبان، نسل، رنگ اور سیاست سے بالاتر ہوکر انسانیت کی بقاء کے لئے متحد ہوکراس وباء کا مقابلہ کرنا ہے،ہم اپنے رشتہ داروں، دوست احباب، محلے والوں اور جان پہچان کے لوگوں میں نادار، یتیم، بے سہارا، بے روزگار اور تہی دامان افرادکی خبرگیری کرنی ہے۔جان ہے تو جہان ہے کے مصداق دولت آج خرچ کریں گے تو کل پھر جمع کرنے کا موقع ملے گا لیکن مخلوق خدا کی مدد، خبرگیری اور انسانیت کی بے لوث خدمت کا ایسا موقع صدیوں بعد ملتا ہے۔عام حالات میں انسان زکواۃ، عطیات،خیرات اور صدقات دینے کے معاملے میں مخمصے کا شکار ہوتا ہے کہ نجانے فلاح انسانیت کے لئے اس کی دی گئی رقم کہاں خرچ ہوجائے، آج پوری انسانیت بلک رہی ہے انسانیت کو بچانے کے لئے حکومت کے فنڈ میں رقم جمع کرائی جاسکتی ہے، اپنے ہاتھوں سے مستحقین میں رقم یا امدادی سامان تقسیم کیا جاسکتا ہے،ایدھی فاونڈیشن کے فنڈ میں رقم جمع کرائی جاسکتی ہے الخدمت فاونڈیشن کو زکواۃ اور صدقات کے پیسے دیئے جاسکتے ہیں جن کے پاس سروے کی بنیاد پر مستحق لوگوں کا ڈیٹا موجود ہوتا ہے اور وہ امدادی رقم بیماروں کے علاج، یتیموں، بیواؤں اور بے سہارا افراد کو سہارا فراہم کرنے،بھوکوں کو کھانا کھلانے اورنادار لوگوں کی بہبود پر خرچ کرتے ہیں، کسی بھی قدرتی آفت، زلزلے، سیلاب، وباء کے مواقع پر ان کی بے لوث خدمات گرانقدر ہیں،زکواۃ، خیرات اور صدقات کے پیسے فلاحی ادارے ہورائزن کو دیئے جاسکتے ہیں جو صوبے میں ذہنی صحت کے شعبے میں خدمات انجام دینے کے ساتھ ہنگامی حالات میں متاثرین کی مدد کرتی رہی ہے۔آج دل کھول کر عطیات دینے کا وقت ہے لیکن عطیات دیتے وقت دل کے ساتھ آنکھیں بھی کھلی رکھنا ضروری ہے۔تاکہ دکھی انسانیت کے نام پر دی جانے والی رقم غلط ہاتھوں میں نہ چلی جائے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ

زر الذهاب إلى الأعلى