تازہ ترینمحمد شریف شکیب

انوکھی وصیت

…….محمد شریف شکیب…….

Advertisements

جنوبی افریقہ سے خبر آئی ہے کہ وہاں کے ایک سینئر سیاست دان نے حالت نزع میں وصیت کی تھی کہ جب وہ مرجائیں تو انہیں ان کی پسندیدہ مرسیڈیز کار سمیت دفن کیاجائے۔72 سالہ سیاست دان بتیسو نے مرنے سے قبل اہل خانہ سے اپنی آخری خواہش کا بار باراظہار کیا تھا کہ ان کی میت کوان کی مرسڈیز کار میں بٹھا کر سپردخاک کیا جائے۔ وصیت کے مطابق اہل خانہ نے اس کی ہر دلعزیز مرسڈیز بینز کی ڈرائیونگ سیٹ پر اس کی لاش کوبٹھادیا، اس کا ایک ہاتھ اسٹیرنگ پر جبکہ دوسرا ہاتھ گیئر پر رکھا گیا اور سیٹ بیلٹ بھی باندھی گئی تاکہ ایسا لگے کہ مرحوم گاڑی چلا رہے ہیں۔اس واقعے سے ایک بات تو ثابت ہوگئی ہے کہ سیاست دان خواہ دنیا کے کسی بھی ملک کا ہو۔جس مسلک، عقیدے، رنگ، نسل، زبان اور قومیت سے تعلق رکھتا ہو۔ان کی سوچ، مقاصد اورخواہشات ایک جیسی ہوتی ہیں کہ زیادہ سے زیادہ دھن دولت کمائیں اس کی پروا نہیں کہ دھن سفید یا سیاہ،ان کے پاس ایک یا ایک سے زائد عالی شان محل نما بنگلے ہوں جس کے اندر سوئمنگ پول، فارم ہاوس اور ہیلی پیڈ سمیت زندگی کی تمام تر آسائشیں موجود ہوں۔ان کے پاس جدید ماڈل کی بلٹ پروف گاڑیاں ہوں،اگرضرورت کے تحت انہیں ملک سے خود ساختہ جلاوطنی اختیار کرنی پڑے توسوئزرلینڈ، فرانس، جرمنی، برطانیہ، امریکہ اور دوبئی میں جائیدادیں ہوں، اگر دوچار آف شور کمپنیاں اوردو تین ترقیافتہ ملکوں کے اقامے بھی ہوں تو سونے پر سہاگہ۔ ان کی یہ بھی خواہش ہوتی ہے کہ وہ ہمیشہ زندہ رہیں موت کا فرشتہ ان کے قریب بھی نہ پھٹکے، لیکن یہ خواہش چونکہ ناقابل تکمیل ہے،موت ہر ذی روح کو آخرکار آن دبوچتی ہے اس لئے ان کی خواہش ہوتی ہے کہ ان کی ساری دولت بھی کفن میں ٹھونس کر ان کے ساتھ دفن کی جائے،کہوار زبان کا ایک محاورہ ہے کہ مرنے والے کی تو خواہش ہوتی ہے کہ اسے باورچی خانے میں ہی دفن کیا جائے لیکن مرنے والے کی ہرخواہش توپوری نہیں کی جاسکتی۔سانس اور جسم کا ناطہ ٹوٹنے کے بعد ان کی اولاد کی پہلی ترجیح لاش کو منوں مٹی تلے دبانا ہوتا ہے۔تاکہ پیچھے رہنے والے اس کی کمائی پر عیش کرسکیں۔آج تک کسی کو اپنے باپ اور دادا کی مورتی بناکر گھر میں رکھتے ہوئے نہیں دیکھا گیا،ہاں البتہ جو لوگ دوسروں کے لئے جیتے ہیں، انسانیت کی کوئی خدمت کرتے ہیں آنے والی نسلوں کے لئے کوئی قابل تقلید مثال چھوڑ جاتے ہیں،کوئی کارنامہ سرانجام دیتے ہیں،ان کی مورتیاں بناکر عجائب گھروں میں رکھا جاتا ہے۔خداجانے یہ سیاست دان کس مٹی کے بنے ہوتے ہیں ان کے ہاتھوں سے آج تک کسی کو مالی فائدہ نہیں پہنچا۔کورونا وائرس کی وجہ سے دنیا کے تقریباً تمام ممالک میں لاک ڈاون کی وجہ سے کاروبار اور روزگار کے دروازے بند ہیں،فلاحی اور کاروباری شخصیات نے اپنی تجوریوں کے منہ نادار لوگوں کی مالی مدد اور بھوکوں کو کھانا کھلانے کے لئے کھول دیئے ہیں لیکن مجال ہے کہ کسی سیاست دان کی جیب سے پھوٹی کوڑی بھی نکلی ہو۔ہمارے ملک کے بیشتر سیاست دان ارب پتی اور کھرب پتی ہیں کسی کو بہبود فنڈ قائم کرتے یا فلاحی ادارہ کھولتے آج تک دیکھا نہ ہی سنا گیا۔الیکشن کمیشن میں جمع کرائے گئے اثاثوں کے گوشوارے دیکھے جائیں تو پتہ چلتا ہے کہ ہمارے اکثر سیاست دانوں کے پاس رہنے کو اپنا گھر اور گاڑی بھی نہیں ہوتی، کسی کو بیوی کی طرف سے گاڑی تحفے میں ملی ہوتی ہے کسی کو دوست کی طرف سے بنگلہ ملا ہوتا ہے اور کسی کے چند کارخانوں میں تھوڑے سے حصص ہوتے ہیں ان کی حالت زار دیکھ کر انسان کو ایسا لگتا ہے کہ اپنے منہ کا روکھا سوکھا نوالہ بھی ان کو کھلادے۔افریقی سیاست دان بتیسو کے خاندان نے وصیت کے مطابق انہیں مرسیڈیز سمیت دفنا کر بہت بری مثال قائم کردی ہے۔اگر یہی روش ہمارے یہاں بھی اختیار کی گئی توکھربوں کا مال و متاع سیاست دانوں سمیت قبرستانوں میں دفن ہوجائے گا۔اور نیب کے ہاتھ بھی کچھ نہیں آئے گا۔توقع تھی کہ کورونا وائرس کی ہلاکت خیزیوں سے ہمارے امراء کے دلوں میں خوف خدا پیدا ہوگا اور وہ اپنے بے حساب مال میں سے کچھ اس ملک کے غریبوں، لاچاروں اور ناداروں کے لئے وقف کریں گے لیکن یہ ہماری خام خیالی ثابت ہوئی۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ

زر الذهاب إلى الأعلى