تازہ ترینمحمد شریف شکیب

رویت ہلال

۔۔۔۔۔۔محمد شریف شکیب۔۔۔۔۔۔

Advertisements

رویت ہلال ریسرچ کونسل نے پاکستان میں رمضان المبارک کے چاند کی رویت سے متعلق ماہرین فلکیات کے دعوے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ جمعرات کورمضان کاچاند نظر آنے کا کوئی امکان نہیں۔ریسرچ کونسل کے سیکرٹری جنرل خالد اعجاز مفتی کے مطابق جمعرات 29 شعبان 23 اپریل کی شام پاکستان کے کسی بھی علاقے میں انسانی آنکھ یا خوردبین سے بھی چاند دکھائی دینے کا قطعاً کوئی ا مکان نہیں، اس بار شعبان المعظم کے 30 دن مکمل ہونے کے بعد یکم رمضان 25 اپریل بروزہفتہ ہوگا۔خالد اعجاز مفتی نے بتایا کہ نیا چاند اْس وقت تک دکھائی نہیں دیتا جب تک کہ اْس کی عمر غروبِ آفتاب کے وقت کم از کم 19 گھنٹے نہ ہوجائے اور غروبِ شمس و غروبِ قمر کا درمیانی فرق کم از کم 40 منٹ ہوجائے، نیز چاند کا زمین سے زاویائی فاصلہ کم از کم 6 ڈگری اور چاند کا سورج سے زاویائی فاصلہ کم از کم 10 ڈگری ہونا چاہیے۔ رمضان المبارک کا چاند 23 اپریل جمعرات کی صبح پاکستانی وقت کے مطابق صبح 7بج کر 26 منٹ پر پیدا ہوگا، جمعرات کی شام غروب آفتاب کے وقت چاند کی عمر پاکستان کے تمام علاقوں میں 12 گھنٹوں سے بھی کم ہوگی۔جمعرات کی شام چاند دکھائی دینے کی شہادتوں کا اگر کہیں سے بھی اعلان کیا جائے گا تو وہ تمام شہادتیں جھوٹی، غیر شرعی اور سائنسی لحاظ سے ناقابلِ یقین ہوں گی۔خالد اعجاز مفتی نے بتایا کہ 24 اپریل کی شام غروبِ آفتاب کے وقت چاند کی عمر پاکستان کے تمام شہروں میں 35 گھنٹوں سے بھی زائد ہوچکی ہوگی غروبِ شمس و قمر کا درمیانی فرق پشاور اور راولپنڈی، اسلام آباد میں 71منٹ، لاہور میں 70منٹ، کوئٹہ میں 71 منٹ جبکہ کراچی میں 70 منٹ ہوگا جمعتہ المبارک کی شام چاند پاکستان کے تمام علاقوں میں واضح اور تادیر دکھائی دے گا۔رمضان المبارک اور عید کے چاند کی رویت پر اختلاف اور دو دو عیدیں منانے کی روایت ہمارے ہاں ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی۔ اس بار حکومت نے سائنس دانوں، ماہرین فلکیات اور علمائے دین پر مشتمل ریسرچ کونسل قائم کی ہے تاکہ سرکاری اور غیرسرکاری رویت ہلال کمیٹیوں کے متضاد فیصلوں سے نجات حاصل کرکے پورے ملک میں ایک ہی دن روزہ اور عید کا اہتمام کیا جاسکے۔خیبر پختونخوا کی غیر سرکاری رویت ہلال کمیٹی کو ہمیشہ یہ شکایت رہی ہے کہ مرکزی رویت ہلال کمیٹی خیبر پختونخوا کی شرعی شہادتوں کو اہمیت ہی نہیں دیتی۔جبکہ مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا موقف ہے کہ حکومت نے جب پورے ملک میں سال کے بارہ مہینے رویت ہلال کے لئے کمیٹی قائم کی ہے تو صرف خیبر پختونخوا میں غیر سرکاری رویت ہلال کمیٹی کے قیام کا کیاجواز ہے۔ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ غیر سرکاری رویت ہلال کمیٹی کو صرف رمضان اور شوال کے ہلال کی رویت پر ہی اختلاف ہے باقی دس مہینوں کی رویت ہلال کے لئے مرکزی کمیٹی کے فیصلے سے ہی اتفاق کیا جاتا ہے۔موجودہ دور میں دیگر شعبوں کی طرح فلکیاتی سائنس نے بھی حیرت انگیز ترقی کی ہے۔ ایک سال پہلے ہی سورج، چاند اور زمین کی گردش کی رفتار ماپتے ہوئے بتایا جاتا ہے کہ رواں سال فلاں فلاں تاریخوں میں سورج اور چاند گرہن ہوں گے۔یہ گرہن کن علاقوں میں کتنی مدت تک دیکھے جاسکتے ہیں یہ بھی سائنس دان بتادیتے ہیں۔طوفان اوربارشوں کے بارے میں بھی دو چار ہفتے قبل بتائے جاتے ہیں کہ بارش برسانے والی ہوائیں فلاں تاریخ کو فلاں وقت پر ملک کے کس حصے میں داخل ہوں گی کتنی دیر اس خطے میں یہ ہوائیں ٹھہریں گی کن علاقوں میں پھوار پڑے گی اور کہاں طوفان بادوباراں اور برفباری ہوگی۔یہ تمام پیش گوئیاں نوے فیصد درست ثابت ہوتی ہیں رویت ہلال کو انا کا مسئلہ بناکر قوم کو تقسیم کرناقومی وحدت کے خلاف ہے۔اس بار رویت ہلال ریسرچ کونسل نے چاند کی پیدائش، انسانی آنکھ سے نظر آنے طلوع و غروب آفتاب و قمر کے جو اوقات بتائے ہیں ان پر انحصار نہ کرنے کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی۔ حکومت کو قومی اتحاد و اتفاق پیدا کرنے کی خاطر مختلف مکاتب فکر کے جید علماء، سائنس دانوں اور ماہرین فلکیات کو ساتھ بٹھا کر رویت ہلال کا کوئی متفقہ لائحہ عمل اختیار کرنا چاہئے اورچاند دیکھنے کی ذمہ داری شعبہ فلکیات کے حوالے کرکے رویت ہلال کمیٹیوں کو تحلیل کرنا چاہئے۔تاکہ رویت ہلال کا قضیہ ہمیشہ کے لئے ختم ہوجائے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ

زر الذهاب إلى الأعلى