تازہ ترینمولانا خلیق الزمان

رمضان المبارک ( قسط نمبر ۵ )

مولانا خلیق الزمان۔۔۔۔۔۔

Advertisements

1۔ روزہ رکھنے سے اہل ثروت کے دلوں میں اکثر فاقہ سے رہنے والے دوسرے انسانوں کے لئے ہمدردی اور غم خواری کے جذبات پیدا ہوتے ہیں کیونکہ وہ روزہ کی صورت میں عملی طور پر بھوک اور پیاس کے تجربہ سے گزر رہے ہوتے ہیں۔

2۔ بھوک اور پیاس کا یہ تجربہ انہیں غریبوں اور حاجت مندوں کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے ان کی مدد پر ابھارتا ہے۔ اس ماہ مبارک میں جواد و کریم آقا صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی سخاوت کا ذکر کرتے ہوئے سیدہ عائشہ فرماتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی سخاوت موسلا دھار بارش کی مانند ہوتی تھی۔ حضرت عبداللہ ابن عباس فرماتے ہیں یوں تو حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم سب لوگوں سے بڑھ کر سخی تھے مگر ماہ رمضان میں جب جبرائیل امین آپ سے ملاقات کرتے تو عام دنوں کی نسبت آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی سخاوت بہت بڑھ جاتی تھی۔ (ظاہر ہے کہ یہ سخاوت آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی اپنی امت کے غرباء پر ہی تھی)۔

3۔ ماہ رمضان میں بالعموم لوگ صدقہ فطر کے علاوہ زکوٰۃ کی ادائیگی اور عام صدقہ کا خصوصی اہتمام کرتے ہیں۔ یوں ایک طرف دلوں سے دنیا کی محبت نکلتی ہے تو دوسری طرف صدقہ و زکوٰۃ کی ان رقوم سے غریب اور مفلوک الحال لوگوں کی مالی حالت بھی بہتر ہوتی ہے اور وہ معاشرے میں باعزت زندگی گزارنے کے قابل ہوجاتے ہیں۔ اس طرح معاشرے میں معاشی عدم توازن میں کمی واقع ہوتی ہے۔ ماہ رمضان میں صدقہ و خیرات کی رغبت دلاتے ہوئے اس کے اجر و ثواب میں بھی اضافہ کردیا جاتا ہے۔

4۔ روزہ رکھنے سے انسان کے اندر احساس ذمہ داری پیدا ہوتی ہے۔ اس طرح ایک اچھا معاشرہ تشکیل پاتا ہے جس کے افراد کے اندر اپنی معاشرتی ذمہ داریوں کو پورے طور پر ادا کرنے کا احساس پیدا ہوتا ہے۔

5۔ ماہ رمضان میں سحری و افطاری کی اوقات کار کے مطابق انجام دہی وقت کی پابندی کا درس ہے۔ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ وہی قومیں ترقی و عروج کی منزل نشیں ہوتی ہیں جو وقت کی قدر کو پہچانتی ہیں اور اپنے فرائض کو وقت پر ادا کرتی ہیں۔

6۔ ماہ رمضان میں معاشرے کی اخلاقی، قانونی، تہذیبی اور اجتماعی اصلاح کی فضا پیدا کرتا ہے۔ مسلم معاشرے کے تمام افراد کے اندر زبردست جماعتی احساس پیدا کرتا ہے۔

7۔ روزہ امت مسلمہ میں ایک عالمگیر برادری کے احساس کو پختہ کرتا ہے۔

8۔ نسلی اور طبقاتی تفاخر کو ختم کرنے میں روزہ اہم ترین کردار ادا کرتا ہے کہ جب افطاری کے وقت امیر و غریب سب ایک دستر خوان پر جمع ہوکر اللہ تعالیٰ کی نعمتوں سے لطف اندوز ہوکر خوشی و مسرت کی فضا میں روزہ افطار کرتے ہیں۔

9۔ روزہ معاشرے میں رہتے ہوئے روزہ داروں کو ایک دوسرے کی تکلیف کا احساس بھی دلاتا ہے اور پھر تکلیف میں مبتلا دوسرے بھائی کو اس سے نجات دلانے کے لئے اس کی مدد کرنے کے جذبات کو ابھارتا ہے۔
( جاری ہیں )

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ

زر الذهاب إلى الأعلى