تازہ ترینمحمد شریف شکیب

تجہیز و تکفین ایس او پیز

……..محمد شریف شکیب…..

Advertisements

محکمہ صحت خیبر پختونخوا نے کورونا وائرس سے جاں بحق افراد کی تجہیز و تکفین کیلئے گائیڈ لائنز جاری کر دی ہیں جس میں کہاگیا ہے کہ دنیا میں کہیں بھی کورونا سے جاں بحق شخص سے زندہ افراد کو وائرس لگنے کے شواہد نہیں ملے ہیں لہٰذا مہلک وائرس سے جاں بحق شخص کو گھر لے جایا جا سکتا ہے تاہم اس امر کو یقینی بنانا ہوگا کہ گھر والے اور رشتہ دار میت کوہاتھ نہ لگائیں اس دوران محکمہ صحت کا عملہ تدفین تک وہاں موجود رہے گا میت کو پلاسٹک کی بجائے کپڑے کا کفن پہنایاجا سکے گا تجہیز و تکفین کے مراحل مکمل ہونے تک متعلقہ سرکاری عملہ موجود رہے گا جو حفاظتی امور کا جائزہ لے گا اور ماسک، گلوزاور حفاظتی لباس کو یقینی بنائے گا۔ میت کو صرف اور صرف گلوز پہن کر ہی چھوا جا سکے گا، گائیڈ لائنز میں مزید کہا گیا ہے کہ میت والے گھر کو ان کی رسم ر رواج کے مطابق تجہیز و تکفین کے مراحل مکمل کرنے کی اجازت ہوگی تاہم حفاظتی تدابیر پر عمل کرنا لازمی ہوگا۔اس سے قبل عالمی ادارہ صحت کی طرف سے بھی ہدایات جاری کی گئی تھیں کہ کورونا کے مرض سے جاں بحق ہونے والوں کے جسم میں یہ وائرس زیادہ دیر زندہ نہیں رہ سکتا اس لئے لاش سے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں۔تاہم سوشل میڈیا پر ایسی خبریں اور تصاویر اکثر و بیشتر گردش کرتی رہی ہیں کہ کورونا سے جاں بحق ہونے والے کی میت کو ہسپتال سے گھر لانا خطرے سے خالی نہیں۔ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ مختلف ملکوں میں کورونا کا شکار ہونے والوں کی میت تابوت میں رکھ کر اسے رسیوں سے باندھا جاتا ہے اور حفاظتی لباس میں ملبوس اہلکار تابوت کو گھسیٹ کر دفنانے لے جارہے ہیں۔دین اسلام نے لاش کی بے حرمتی کو انسانیت کی توہین قرار دیا ہے۔جنگوں میں بھی مخالفین کی لاشوں کی بے حرمتی سے سختی سے منع کیاگیا ہے۔ چہ جائیکہ اپنے کسی عزیز کے جسد خاکی کے ساتھ توہین آمیز سلوک کیا جائے۔ محکمہ صحت کی طرف سے گائیڈ لائن کے اجراء سے ایک اہم سماجی مسئلہ حل کرنے میں مدد ملے گی تاہم کچھ باتیں ہنوز وضاحت طلب ہیں۔اگرسائنسی بنیاد پر یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ کورونا سے جاں بحق ہونے والوں کے جسم میں وائرس زیادہ عرصہ زندہ نہیں رہ سکتا۔ اور اسے چھونے سے وائرس زندہ انسان میں منتقل نہیں ہوسکتا تو پھر اسے اسلامی رسم و رواج کے مطابق غسل دینے، کفن پہنانے،نماز جنازہ پڑھنے، آخری دیدار کرانے اورلواحقین کی طرف سے میت کو قبر میں اتارنے میں کیا قباحت ہوسکتی ہے۔سرکاری گائیڈ لائن کے مطابق میت کو تابوت میں رکھ کر ہسپتال سے گھرلایاجاسکتا ہے مگر لواحقین اسے چھو نہیں سکتے نہ ہی اپنے ہاتھوں سے اس کی تدفین کرسکتے ہیں۔پھر مقامی رسم و رواج کے مطابق تجہیز و تکفین کی ہدایت بے معنی ہوجاتی ہے۔میت کو سرکاری اہلکار سخت حفاظتی انتظامات کے تحت سپرد خاک کریں گے۔لاک ڈاون کے ایس او پیز کے تحت نماز جنازہ میں بھی چند افراد ہی شرکت کرسکتے ہیں اور نماز میں شریک افراداور صفوں کے درمیان تین فٹ کافاصلہ رکھنا ہوگا۔متوفی کے خاندان کے ساتھ بھی اجتماعی تعزیت پربھی ایس او پیز کے تحت پابندی برقرار ہے۔ حکومت کی طرف سے گائیڈ لائن کے اجراء کا مقصد بلاشبہ لوگوں کو اس موذی مرض سے محفوظ رکھنا ہے۔کاروباری مراکز،بازار، دکانیں، منڈیاں بند رکھنے کا مقصد بھی عوام کو مالی طور پر نقصان پہنچانا نہیں، بلکہ انہیں عالمی وباء سے بچانا ہے لیکن ہم خود اپنے درپے آزار بن چکے ہیں۔دکانیں کھلنے کے ساتھ باہر خریداروں کی قطاریں لگ جاتی ہیں،بازاروں میں رش بھی معمول سے کچھ زیادہ ہی دکھائی دیتا ہے۔ حکومتی ادارے، علمائے کرام، سائنس دان، ڈاکٹرز اور دانشور ہاتھ جوڑ کر عوام کی منتیں کر رہے ہیں کہ گھر سے باہر نکلتے ہوئے فیس ماسک اور دستانے استعمال کریں اپنے ہاتھوں کو صابن سے اچھی طرح دھوئیں اور سینی ٹائزر استعمال کریں۔ان اقدامات کا مقصد عوام کو موذی مرض سے بچانا ہے۔لیکن اکثر لوگ یہی سمجھتے ہیں کہ اس میں حکومت یا نصیحت کرنے والوں کا کوئی ذاتی مفاد پوشیدہ ہے۔یا پھر ماسک،صابن،سینی ٹائزراور دستانے بنانے والوں کے مفادات کا تحفظ کیا جارہا ہے۔یہی طرزعمل سرکاری گائیڈ لائن کے حوالے سے بھی دیکھا جارہا ہے۔جوبلاشبہ افسوسناک بھی ہے اور کورونا کے موذی مرض کے پھیلاو کے حوالے سے تشویش ناک بھی ہے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ

زر الذهاب إلى الأعلى