fbpx

صادق امین،ایک بے بدل شخصیت

……محمد شریف شکیب

وہ ایک نڈر سیاسی کارکن، کامیاب تاجر، ہمدرد انسان اور خدمت خلق کے جذبے سے سرشار تھے
تجارت سے جتنا کمایا، چترالی قوم کی ثقافت و روایات کی احیاء کی خاطر اس سے زیادہ لٹا دیا
ان کی زندگی نہی عن المنکر سے عبارت تھی، لوگوں کے غم بانٹنا ان کا مشغلہ تھا،کبھی کسی کو دکھ نہیں دیا
صادق امین کی وفات سے چترالی قوم ایک سچے رہنما سے محروم ہوگئی، ان کا خلاء کبھی پر نہیں ہوگا


بے شک ہر ذی روح کو موت کا مزہ چکھنا ہے، یہ حکم خداوندی سے جس سے سرتابی کی گنجائش ہے نہ ہی کوئی ازل کے بلاوے پر تامل کرنے کی جرات کرسکتا ہے لیکن کچھ لوگوں کی اچانک رحلت کو بے وقت کی موت کہا جاتا ہے۔چترال سے تعلق رکھنے والے پشاور کے معروف تاجر اور سیاسی کارکن صادق امین کو بھی جوان مرگ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔کچھ لوگ صرف اپنی ذات یا اپنے بال بچوں کے لئے جیتے ہیں ان کی موت کا دکھ بھی صرف ان کے قریبی رشتہ داروں کو ہوتا ہے لیکن چند شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو دنیا سے رخصت ہوجائیں تو ایسا لگتا ہے کہ ایک خلاء پیدا ہوا ہے جو کبھی پرنہیں ہوسکے گا۔خیبر پختونخوا چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے نائب صدر، قصہ خوانی تاجر انجمن کے صدر اور انجمن تحفظ حقوق چترال کے سربراہ صادق امین بھی ایسے ہی نابغہ روزگار شخصیات میں سے ایک تھے۔ ان کی پوری زندگی نہی عن المنکر کی جدوجہد میں گذری۔تریچ چترال سے تعلق رکھنے والے سکول ٹیچر ماسٹر ولی الدین کے ہاں پیدا ہونے والے صادق امین چار بھائیوں میں تیسرے نمبر پر تھے۔ماں کی زبان ہندکو اور باپ کی مادری زبان کہوار تھی صادق امین روانی سے ہندکو، کہوار، پشتو اور اردو بولتے تھے۔زمانہ طالب علمی سے سیاسی طور پر سرگرم رہے، وہ ایک اچھے مقرر بھی تھے، ان میں ادبی ذوق بھی تھا، خدمت خلق کا جذبہ ان میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔ وہ غلط بات سننے اور چپ رہنے کے عادی نہیں تھے۔ کوئی خوش ہو یا ناراض۔ سچی بات منہ پر کہہ دیتے۔وہ اسلام آباد بازار، جہانگیرپورہ اور قصہ خوانی کے تاجروں کے مطالبات حکام تک پہنچا نے میں بھی پیش پیش رہتے اور اپنے ابائی علاقے چترال کے مسائل کے حوالے سے وہ بڑے حساس واقع ہوئے تھے۔لواری ٹاپ سے برف ہٹانے کا کام ہو، لواری ٹنل کھولنے کی بات ہو۔ زلزلہ اور سیلاب متاثرین کی مالی امداد کی بات ہو۔جرائم کی شرح میں کمی لانے میں انتظامیہ کی کوتاہی ہو۔بچوں کی تعلیم اور روزگار کا مسئلہ ہو۔ جب بھی کسی مسئلے پر پشاور میں احتجاجی جلوس، جلسہ اور ریلی کا اہتمام کیا جاتا۔ صادق امین بینر پکڑے سب سے آگے ہوتے۔ادبی محفلیں بھی صادق امین کے بغیر پھیکی لگتیں، وہ ایک کٹر قوم پرست تھے۔ چترالی قومی کی ثقافت اور روایات کی احیاء اور ترویج کے لئے انہوں نے بے شمار قربانیاں دیں۔انتخابات کے بعد نئی حکومت بنتی اور وزیراعلیٰ حلف اٹھاتے تو صادق امین اپنی دکان سے چترال ٹوپی اور چغہ لے کر وزیراعلیٰ ہاوس پہنچ جاتے کوئی نیا گورنر آتا تو انہیں بھی چترال کی یہ سوغات اپنی طرف سے پیش کرتے،نیاکورکمانڈر پشاور تعینات کیاجاتا یا کوئی غیر ملکی مہمان پشاور آتا، تو چترالی قوم کی نمائندگی کرتے ہوئے صادق امین اپنے تحائف انہیں پیش کرتا۔انہوں نے جتنا تجارت سے کمایا اس سے زیادہ قوم کے نام پر لٹا دیا۔وہ انتہائی نرم دل انسان تھے۔کسی کا دکھ اور پریشانی ان سے دیکھی نہیں جاتی تھی۔ انہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ دوسروں کی خدمت کے لئے وقف کردیا تھا۔ وہ جوان سال تھا، فعال اور متحرک تھا۔ ہنس مکھ اور ملنسار تھا، یارباش اورہمدرد تھا۔ کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ ان کا سفر آخرت اتنا اچانک اور غیریقینی ہوگا۔ دل کے عارضے کی شکایت تھی جس کا وہ علاج بھی کرتے تھے۔اس دوران کورونا کی مہلک عالمی وباء پھیل گئی، صادق امین کو بھی گلے میں خراش اور بخار کی وجہ سے طبی معائنے کے لئے ہسپتال جانا پڑا۔جہاں ڈاکٹروں نے کورونا کے شبے میں انہیں داخل کردیا،ان کے ٹیسٹ لئے گئے تاہم ٹیسٹوں کا نتیجہ آنے سے قبل وہ داعی اجل کو لبیک کہہ گئے۔اہل خاندان، رشتہ دار اور ان کے چاہنے والے صادق امین کی اچانک رحلت پر حیران اور پریشان تھے۔ جب وہ جسد خاکی لینے ہسپتال پہنچے تو ڈاکٹروں سے یہ کہہ کر نعش ورثاء کے حوالے کرنے سے انکار کردیا کہ ٹیسٹوں کی رپورٹ آنے سے قبل وہ جسد خاکی اہل خانہ کے حوالے نہیں کرسکتے۔ اس پریشانی میں مزید اٹھارہ گھنٹے گذر گئے لواحقین کا اصرار تھا کہ انہیں دل کی تکلیف ہوئی ہے مگر ہسپتال کا عملہ انہیں کورونا کا مریض ثابت کرنے پر تلا ہوا تھا۔ اٹھارہ گھنٹے کے جانکاہ اور تکلیف دہ انتظار کے بعد ان کے جسد خاکی کی تجہیز و تکفین کی اجازت دیدی گئی۔صادق امین کے بچوں کے لئے ان کی اچانک رحلت کسی قیامت سے کم نہیں ہے۔ مگر وہ تو ہر اس شخص کو سوگوار کر گئے جس نے زندگی میں ان سے ایک بار بھی ملاقات کی ہو۔ ان کی وفات نہ صرف پشاور کی تاجر برداری کے لئے ایک ناقابل تلافی نقصان ہے بلکہ قوم پرست سیاسی جماعت کے لئے بھی صادق امین جیسے جانثار کارکن کی رحلت بڑا نقصان ہے۔ لیکن سب سے زیادہ غم ناک پشاور میں بسنے والے چترالی ہیں جن کا نڈر رہنما ان سے جدا ہوگیا، صادق امین کا کوئی متبادل نہیں، ان کی چھوڑی ہوئی خلاء کبھی پرنہیں ہوسکے گی اور ان کے چاہنے والے ان کی یادیں کبھی نہیں بھلا سکیں گے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔
إغلاق