fbpx

عالمی ادارہ صحت کی وارننگ

۔۔۔۔۔۔محمد شریف شکیب۔۔۔۔۔

عالمی اداہ صحت نے ایک بار پھرخبردارکیا ہے کہ کورونا کو جڑ سے ختم نہ کیاگیا تو وائرس دوبارہ پھیلنے کا خدشہ ہے ویڈیو لنک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عالمی ادارہ صحت کے سربراہ ڈاکٹر ٹیڈ روس کا کہنا تھا کہ لاک ڈاون میں مرحلہ وار نرمی امید کی کرن اور خوش آئند ہے لیکن اس مرحلے میں تمام ملکوں کو محتاط رہنا ہوگا، پابندیاں اٹھانا پیچیدہ اور مشکل مرحلہ ہے۔ کوروناو ائرس کی پیش رفت کو سست کرنے اور انسانی جانوں کے تحفظ میں کامیابی مل رہی ہے جو اچھی خبر ہے۔چین،امریکہ، برطانیہ اور ایران کی طرح پاکستان نے بھی لاک ڈاون میں نرمی کرتے ہوئے بازار اور تجارتی مراکز کھول دیئے ہیں تاجر تنظیموں نے لاک ڈاون میں نرمی کے لئے یہ شرط قبول کی تھی کہ حفاظتی اقدامات پر پوری طرح عمل کیا جائے گا۔ مگرعوام کو اس حوالے سے قائل کرنا حکومت، سرکاری اداروں، میڈیا اور تاجر تنظیموں کے بس کی بات نہیں ہے۔ دیکھا گیا ہے کہ جب سے لاک ڈاون میں نرمی اور بازار کھولنے کا اعلان کیاگیا۔ لوگ ہزاروں کی تعداد میں خریداری کے لئے بازاروں میں امڈ آئے۔نوے فیصد لوگ فیس ماسک پہنتے ہیں نہ دستانے پہننے کی ضرورت محسوس کرتے ہیں۔ہمارے عوام بھی بیلاروس کے صدر کی طرح کورونا کو کوئی بیماری نہیں سمجھتے۔ بغیر کسی احتیاطی تدابیر کے سالانہ فوجی پیریڈ سے خطاب میں صدر بیلاروس الیگزانڈ لوکاشنکونے کورونا وائرس کی وجہ سے لاک ڈاؤن کرنے والے ممالک کو پاگل قرار دے دیا۔ان کا کہنا ہے کہ لاک ڈاؤن اور اس جیسے سنگین اقدامات کرنے والے ممالک کا تو دماغ گھوم گیا ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ بھی لاک ڈاون کی طوالت سے اکتا گئے ہیں کہتے ہیں کہ پانچ سال تک معیشت کا پہیہ جام نہیں رکھ سکتے۔کاروباری مراکز، صنعتیں کھولنے کے سوا کوئی چارہ نہیں، اپنے ہاتھوں اپنا دیوالیہ نہیں نکال سکتے۔ ہمارے ہاں بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یہ وائرس لیبارٹری میں تیار کرکے پوری دنیا میں پھیلایاگیا ہے امریکہ والے اسے چین کی کارستانی قرار دیتے ہیں اس بات پر چین اور امریکہ میں زبانی تو تکرار پر ہی اکتفا نہیں کیا جارہا۔ بات مشت و گریبان ہونے تک پہنچ گئی ہے۔ ہمارے کچھ لوگ اسے یہودیوں کی طرف سے مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کی سازش سے تعبیر کرتے ہیں۔ بعض خود ساختہ دانشور وائرس پھیلانے کا مائیکروسافٹ کے بانی بل گیٹس کو ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔ان لوگوں کا دعویٰ ہے کہ بل گیٹس نے اچانک ادویات کی تیاری میں دلچسپی لے کر ان کے شک کو یقین میں بدل دیا ہے۔ان دانشوروں کا دعویٰ ہے کہ بل گیٹس ہی کورونا کی ویکسین بھی تیارکروائیں گے اور پوری دنیا کو سپلائی کرنے کا ٹھیکہ لے کر اربوں ڈالر کمائیں گے۔کچھ لوگ فائیو جی ٹیکنالوجی کو اس وائرس کے پھیلاو کا سبب قرار دیتے ہیں۔ہمارے بعض مہربان عالمی وباء کو انسانوں کے اعمال بد کی سزا اور عذاب الٰہی سے تعبیر کرتے ہیں۔برسرزمینحقیقت یہ ہے کہ کورونا نے چند ماہ کے عرصے میں پوری دنیا کی معیشت اور نظام معاشرت کو تہس نہس کرکے رکھ دیا ہے۔ اس وقت دنیا بھر میں کوروناوائرس کے متاثرہ افراد کی تعداد 42 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ 2 لاکھ 42 ہزار سے زیادہ افراد کورونا کا شکار ہو کر ہلاک ہو چکے ہیں۔ہمارے ہاں کورونا میں مبتلا ہونیو الوں کی تعداد دوگنی تگنی رفتار سے بڑھ رہی ہے۔کئی ڈاکٹروں اور اہم شخصیات سمیت سات سو سے زائد پاکستانی اس موذی مرض کا شکار ہوچکے ہیں لیکن ہم اسے وباء تسلیم کرنے اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کو تیار نہیں۔لاک ڈاون میں نرمی کا جس طرح ناجائز فائدہ اٹھایا جارہا ہے اسے دیکھتے ہوئے عالمی ادارہ صحت کے سربراہ کے خدشات درست ثابت ہوتے نظر آرہے ہیں۔اگر کورونا کی وباء شدت اختیار کرتی ہے تو بات صرف سمارٹ لاک ڈاون تک محدود نہیں رہے گی بلکہ فلپائن کی طرح انتہائی اقدامات اٹھانے ہوں گے جن میں کرفیو کا نفاذ بھی شامل ہے۔اگر کورونا نے پلٹ کر حملہ کردیا تو شاید وہ حملہ شدید تر ہوگا۔اپنی زندگی اور اپنے پیاروں کی جانیں عزیز ہیں تو ہمیں احتیاطی تدابیر اور ایس او پیز پر سختی سے عمل کرنا ہوگا۔ بصورت دیگر وسیع پیمانے پر جانی و مالی نقصان سے ہمیں کوئی نہیں بچا سکتا نہ ہی کوئی ہماری مدد کو آئے گا۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔
إغلاق