fbpx

کورونا وبا اور نرسنگ کی اہمیت – تحریر: ناصر علی شاہ

۔.۔…..تحریر: ناصر علی شاہ….

وفاقی وزیر صحت جناب ڈاکٹر ظفر مرزا صاحب آج کمیٹی کے ممبران سے خطاب کرکے نرسنگ پیشے کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے اس میں کام نہ ہونے کا اعتراف کیا. انہوں نے جو کہا ان سے پہلے ہم کچھ نکات اٹھائیں گے جو ان کی باتوں کو تقویت دیتے ہیں۔

کورونا وائرس نے ہمارے ملک کے شعبہ صحت کی کمزوریوں کو ایکسپوز کرکے صحت عامہ پر توجہ دینے کو لازمی کردیا ہے اور نئے مواقع کا اشارہ بھی دیا. نرسز کی خدمات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں تاہم پہلے پیشے میں خدمات کا صلہ بھی کسی اور کے کھاتے میں ڈالا جاتا تھا مگر اب عوام میں نرسز کی اہمیت و ضرورت اجاگر ہو رہی ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق نرس، ڈاکٹرز کے ایسسٹنٹ نہیں بلکہ اپنے کام کے مطابق ایک علیحدہ پیشہ ہے جس کا اعتراف پاکستان کے علاوہ پوری دنیا کر رہی ہے. بطور ہیلتھ ملازمین ڈاکٹرز، نرسز، ایل ایچ ویز اور پیرامیڈیکل سٹاف اپنے اپنے کردار کے مطابق ہسپتالوں میں ٹیم ورک کی شکل میں مریضوں کی خدمت کر رہے ہیں مگر افسوس اس کے باوجود پاکستان میں نرسنگ پیشے کو نظر انداز کرکے قانون سازی کے حوالے سے اقدامات نہیں کیے گئے اور اس میں زمہ دار وہ حضرات ہیں جو نرسنگ کے اداروں کے اوپر راج کرتے رہے. بظاہر دیکھا جائے تو ہمارے چند ڈاکٹر صاحبان یہ کہتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ پریکٹس کے لئے اجازت مانگ کر آپ نرسز ہمارے فیلڈ میں دخل اندازی کی کوشش کرتے ہیں مگر بات یہاں بلکل اس کے برعکس ہے، ڈاکٹرز ہمارے پیشے میں مداخلت کرکے پیشے کی ترقی اور نرسز کو آگے آنے سے روک رہے ہیں ( یہاں ان ڈاکٹرز کی بات ہورہی ہے جو صاحب اختیار تھے اور نرسنگ پیشے پر اپنی اجاداری قائم کر رکھی ہیں). اور آج ڈاکٹر ظفر صاحب کی باتیں سن کر برملا یہ کہونگا پاکستان میں نرسنگ پیشے کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ وہ صاحبِ اختیار ڈاکٹرز ہیں جو نرسنگ کونسلات میں براجمان ہیں اور نرسز کو اپنے ماتحت رکھنے کے لئے اس عظیم پیشے کی راہ میں روکاوٹ بنتے ہوئے آئے ہیں. جو باتیں آج میرزہ صاحب نے کیں وہ ہم گذشتہ تین سالوں سے کر رہے ہیں۔ ہم نے پالیسی کے بارے میں بات کی اور اصلاحات کا مطالبہ کیا تو کچھ مخالفین طعنہ دیتے رہے اور کسی نے مشورہ دینے پر ہمیں ٹوکا, اللہ کا شکر ہے آج وہ گلے شکوے خود وفاتی وزیر صحت نے کیے۔

1.پاکستان نرسنگ کونسل بھی عملی کام کرانے میں ناکام رہے ( وجہ, صاحب اختیار ڈاکٹر ہوتا تھا)
2. آج تک تعلیمی اداروں کی اپگرڈیشن نہ ہونا ( صاحب اختیار ڈاکٹرز نہیں چاہتے تھے کہ نرسز ترقی کرے اور اسکا نقصان مریضوں کو اٹھانا پڑ رہا ہے)
3. آج تک پبلک ہیلتھ نرسنگ کو فروغ نہیں دینا اور اس کے خلاف برسرپیکار رہنا ( شاید ڈاکٹرز کمیونٹی کی عزت میں کمی نہ آئے)
4. پرائمری ہیلتھ کیئر نرسز کو اہمیت نہ دینا ( اگر ایسے کرتے تو بی ایچ یوز اور آر ایچ سی میں نرسز عوام کو ریلیف دیتے اور کمیونٹی میں ہیلتھ ایجوکشن دیتے اور عوام کو فائدہ ہوتا. یہاں بھی بدنیتی پر مبنی فیصلے کئے گئے)
5. کونسلات میں ڈاکٹرز بیٹھانے کی وجہ سے آج تک نرسنگ انسٹریکٹرز ورکشاپ نہ کرانا ( تعلیمی نظام کو کمزور کرکے ماتحت رکھنے کی بھر پور کوشش)۔
6. پرائیوٹ نرسنگ سکول بنانا اور ان کو کھلی اجازت دینا, نہ ایجوکیش کا معیار اور نہ کلینکل چیک اینڈ بیلینس۔
پاکستان بننے سے اب نرسنگ پروفیش کے ساتھ زیادتی میں صاحب اختیار ڈاکٹرز کے ساتھ ہمارے نرسز اور خاص کر نرسز ایسوسیشنز برابر کے شریک ہیں پیشے کا مفاد دیکھنے کے بجائے اپنے مفاد کو مقدم رکھتے ہوئے آئے ہیں…
میں ڈاکٹر ظفر میرزہ صاحب جس نے بڑا دل رکھتے ہوئے غلطیوں کی نشاندہی کی, دل سے شکر گزار ہوں اور دعاگوں ہوں کہ ہمارے پیشے میں غیر معمولی تبدیلی لانے تک وزیر صحت ہی رہے. اور ساتھ ساتھ میری گزارشات بھی ہیں..
پاکستان بھر کے نرسنگ اداروں کو نرسز کے حوالے کروائے جائے. نرسنگ پیشے میں قانون سازی میں ایسوسین کے نمائندوں کو شامل کیا جائے. ہر صوبے میں نرسنگ کا علیحدہ ڈائیریکٹوریٹ کی منظوری دی جائے. نئے آپ گریڈ ہونے والے اداروں میں قابلیت کو ترجیح دیا جائے اور نرسنگ ایجوکیش کو بہتر بنانے کے لئے بہترین پالیسی بنائی جائے تاکہ اس کا فائدہ عوام اور مریضوں کو ہی ہو۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔
إغلاق