تازہ ترین

کمشنر ملاکنڈ ڈویژن ریاض خان محسود نے کہا ہے کہ باہر سے آنے والے افراد کو سرکاری طور پر قائم قرنطینہ سنٹر وں کی بجائے ان کے گھروں میں قرنطینہ کیا جائے گا۔

چترال (ظہیر الدین سے) کمشنر ملاکنڈ ڈویژن ریاض خان محسود نے کہا ہے کہ باہر سے آنے والے افراد کو سرکاری طور پر قائم قرنطینہ سنٹر وں کی بجائے ان کے گھروں میں قرنطینہ کیا جائے گا۔ اتوار کے روز چترال میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انٹر ڈسٹرکٹ پبلک ٹرانسپورٹ کی بندش ختم کر دی گئی ہے اور حکومت کی طرف سے ایس اوپیز کے مطابق پیر سے گاڑیاں مسافروں کو لے کر یہاں پہنچنا شروع ہوں گے۔ ان مسافروں کو ان کے گھروں میں بھیج دئیے جائیں گے جہاں وہ چودہ دن قرنطینہ کرنے کے پابند ہوں گے۔ دریں اثناء موجودہ قرنطینہ سنٹروں کے خاتمے کے بارےمیں لویر اور چترال کے اضلاع کے انتظامیہ کے اپروچ میں فرق پایا جارہا ہے۔ ڈی سی اپر چترال شاہ سعود نے میڈیا کے استفسار پر بتایا کہ ان کے ضلعے میں قائم قرنطینہ سنٹرایکدو روز میں بند کئے جائیں گے اور ان میں مقیم افراد کو ایس اوپیزپر عملدرامد کی ہدایت کے ساتھ آزاد کئے جائیں گے جبکہ ڈی سی لویر چترال نویدِ احمد نے کہا کہ فی الحال یہ سنٹر بند نہیں ہوں گے اور ان میں مقیم افرادکو ریلیز کرنے کے لیے طبی ماہرین سے مشورہ کیا جائے گا۔

Advertisements

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ

زر الذهاب إلى الأعلى