fbpx

دیوانوں کی باتیں — ( کرونا  کی آمد اور ہمارا انخلا  )…….تحریر : شمس الحق قمرؔ بونی ، حال گلگت

( پہلی قسط )

گلگت میں کرونا( کوؤڈ- 19 )  کی وبأ نے  جب اپنے خونخوار پنجے گاڑ دیے  توحکومت کی طرف سے شہر میں مکمل طور پر تالا بندی کا فرمان جاری ہوا ۔یہ مارچ، 2020 کی 21 تاریخ تھی ۔ 21 مارچ کا دن نوروز کے طور پر گلگت اور بلائی چترال میں بڑے تپاک  اور جوش و خروش کے ساتھ منایا جاتا ہے ۔ اپر چترال اور گلگت  میں 21 مارچ سے دو دن پہلے دیسی  گھر وں کی مکمل  صفائی کی ایک شاندار مہم ہوتی ہے جس میں گھر کے کمروں سمیت گھر ہستی کے تمام سازو سامان ایک ایک کر کے مکمل طور پر دھوئے جاتے ہیں جسے کھوار زبان میں  ( سوئی دیک ) کہتے ہیں ۔ سوئی دیک کے دو دن بعد نوروز کا تہوار منایا جاتا ہے  روایتی دیسی کمرہ ( بائی بش ختان) کی شہتیر اور پانچوں  ستونوں پر دیسی گندم  کا  آٹا چھڑک کرا ُنہیں نئی نویلی دلھن کی طرح  خوب سجایا جاتا ہے   جسے  (  پھتاک دیک ) کہتے  ہیں  سال میں یہی ایک دن ہوتا   ہے جو گلگت اور بلائی چترال میں عید کی سی خوشیاں  بکھیرتا ہے  ۔ گھروں میں روایتی طعام کا بندوبست کیا جاتاہے جس میں ( کلیل شوشب) قابل ذکر ہے ۔ اِس دن کی خاص بات یہ ہے کہ مرد وزن ٹولوں  میں دن ڈھلنے  تک   گھومتے اور اس دن کی  خوشی سے پھولا نہیں سماتے  ہیں ، لوگ ایک  دوسرے کے گھروں میں جاکر دیر  تک  بیٹھ کے خوب رنگ رلیاں مناتے ہیں، افراد اور خاندانوں کی آپس کی چپقلش اوربے معنی ناچاقیاں  بھی آج کے مبارک دن دلوں سے  دھل جاتی ہیں ۔ لیکن سن  2020 کا 21 مارچ  اتنا انوکھا تھا کہ ہر طرف قحط الرجال  رہا ۔ شہر میں ہر آدمی وائرس  ( کوؤڈ- 19 ) کے خوف سے طبی قید اختیار کر چکا تھا اور رہے سہے  بھونگےجو کہ  اس مہلک وائرس سے بچاؤ کے  عالمی طریقوں  کو قدرت کے خلاف جنگ سمجھ کر زندگی کو  بزور  بازو اپنے  معمول پر رکھنے کی کوشش  کر رہے تھے ، پر خوب  سرکاری تالا بندی عائد ہوئی ۔ عید نوروز کی صبح جب میں جٹیال حسین آباد میں واقع اپنے گھر کے دروازے سے باہر نکل کے آس پاس کے ماحول پر نظر دوڑائی تو  مجھے یہ دیکھ کر خوف ناک حیرت ہوئی کہ کتوں ، بلیوں اور بیل گائیوں نے تمام سڑکوں پراپنی اپنی  راج دھانیاں قائم کی ہوئی تھیں ۔ ایسا لگتا تھا  گویا وہ انسانوں کے خلاف جنگ میں  فتح  سے ہمکنار ہوئے ہوں ۔ جس راستے سے میں ہر روز صبح کی سیر کو جایا کرتا تھا  وہ راستے انسانوں  کے پاؤں کے آہٹوں کےلیے  ترس رہے تھے ۔ شہر کے تمام   آوارہ  کتے اپنی اپنی دم معمول سے کچھ زیادہ ٹیڑھی کرکے ان راستوں  پر  چوکڑیاں  بھر تے ہوئے  گلی  کوچوں  پراپنا حق ملکیت  جتا رہے تھے  ۔  یہ وہ دن تھے جب ہمیں معلوم ہوا  تھا کہ گلگت میں کرونا کے چار مشتبہ مریضوں کو دنیور میں لے جاکر کسی الگ تھلک جگہے میں رکھا گیا ہے  ایک ایسی جگہ کہ جہاں کوئی تیماردار نہیں ہوتا ۔  مرجانے کے بعد لواحقین کو بتایا  جائےگا کہ  آپ  کا عزیز/ عزیزہ    کرونا  سے ہلاگ ہوا / ہوئی  اور سرکار کے  اسی کام پر مامور  سرکاری پیادے  لاش کو  پلاسٹک میں لپیٹ کر  مٹی کے نیچے  چھپائیں گے ۔ چچا غالب ؔ   شاید  ایسی ہی جگہ کی  آرزو میں اپنی زندگی  تمام  کر چکے تھے ۔

؎          رہیے اب ایسی جگہ چل کر جہاں کوئی نہ ہو     ہم سخن کوئی نہ ہو اور ہمزباں کوئی نہ ہو

غالب ؔ   کیاس غزل کا ایک  اور شعر پڑھ کے  غالبؔ  کی دور اندیشی پر  رشک آنے لگتا ہے بظاہر موصوف نے ایک ایسی   خواہش کا اظہار کیا  تھا جو کہ  اُن کے اِس دار فانی سے رخصتی  کےساتھ ہی اُن کے  سینے میں دفن ہوئی لیکن بہ باطن  اُنہوں   نے اپنی موت کے 150 سال بعد اپنی خواہش کو شرمندہ  تعبیر ہوتے   دیکھا تھا  ۔  دیکھئے   کرونا  کو   کتنی قریب سے دیکھا تھا ۔ کہتے ہیں            ؎

          پڑیے گر بیمار تو کوئی نہ ہو تیماردار    اور اگر مر جائیے تو نوحہ خواں کوئی نہ ہو

ہم  چونکہ غالبؔ ہیں  نہ تھے اور نہ  غالبؔبن سکتے ہیں ۔ اسد ؔ    تو ہر حال پر  غالب ؔ تھا  ، وہ تو کہتے تھے کہ                                                                  ؎                                         ہو گئیں غالبؔ   بلائیں سب تمام  ایک مرگ ناگہانی اور ہے لیکن  ہم   ناگہانی  موت سے  بہت ڈرتے  ہیں ۔یوں   ہمارے لئے  کرونا سے مرنے اور پلاسٹک  میں  لپیٹے جانے کی  خبر بہت خطرناک تھی کیوں کہ ہم زندگی کو   حقیقی زندگی  سمجھ کر آج تک   جیتے رہے ہیں  ۔ غالب ؔ   تو قرض تلے دبلے ہوئے   آدمی تھے ہم بھلا کیوں اپنے آپ پر تمام  افتوں کے تمام ہونے  کی بات کریں  ۔  ہمارے لیے تو زندگی  بڑی معنی رکھتی ہے ۔ آس پاس  کی غٰر یقینی  صورت حال   اور پھر  میڈیا   کی سحر انگیزیاں  دیکھ کر زمیں  میرے  پاؤں  تلے سے  سرک گئی ۔ میں نے فوراً کمپیوٹر کھول کر گوگل سے  اس بیماری کی علامات جاننے کی کوشش کی  اور اس نتیجے تک پہنچا کہ  سر درد ، جسمانی سستی ، گلے میں خراش، زکام  ، کھانسی ، چھینکیں آنا  وغیرہ  اس کی علامتوں میں سے ہیں –  تاہم یہ تو عام علامات تھیں لیکن ایک جگہے پر یہ بھی بتایا گیا تھا کہ بعض  صورتوں میں   جیتے جی یکایک سانس رک جائے گی اور آپ اپنے آپ کو اپنے پورے ہوش و حواس میں اپنے سامنے ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مرتے ہوے دیکھنے کا تجربہ کریں گے  مزید  یہ کہ ہو سکتا ہے پاخانہ بے  لگام ہو اور  منہ سے خون کی رال  ٹپکنے لگے ۔  یہ   معلومات  درست تھیں  یا  غلط   لیکن  ایک خوف ناک موت کا  انوکھا نقشہ  دیکھ کر   جسم میں  کپکپی  سی  محسوس ہوئی   ایسے موقعوں  پر پیٹ  میں تھوڑی سے  جلابی کیفیت  بھی پیدا  ہوا   کرتی ہے  جو کہ ہوئی  کیوں کہ   میں نہیں چاہتا تھا  کہ میں اس انداز سے مروں  ۔  میں نے سوچا کہ کیا بہتر یہ نہیں ہوگا کہ  تھوڑی  سی علامات  کے ظہور پر آدمی   نیند کی  10 گولیاں ایک ساتھ نگل  لے اور  آرام سے   ابدی نیند سو جائے ۔ لیکن  وہ  تو  خود کشی ہے   میں اتنا  بودا  بھی تو نہیں تھا کہ   زندگی  کو   نیند کی گولیوں نذر کر کے تمام کروں  ۔۔۔۔۔۔۔

( باقی دوسری قسط میں ملاحظہ کیجئے    )

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔
إغلاق