تازہ ترینڈاکٹر محمد حکیم

درحقیقت(اس نازک گھڑی میں ھمیں کیا کرنا چا ھئے؟ )تحریر :- ڈاکٹرمحمد حکیم

مجھے بہت دکھ ھوتا ھے معاشرہ کے ان افراد کو سن کر کہ وہ کہتے ھیں کہ کورونہ کی کوئی حقیقت نہیں ھے۔لیکن کرہ ارض پر اسمیں مبتلا مریضوں کی تعداد روز بروز بڑھتی جا رہی ھے۔
حقیقت میں ھماری پیاری کتاب قرآن کے مطالعہ سےیہ بات ثابت ھوجاتی ھے۔کہ دنیا میں اللّٰہ پاک نئ نئ چیزین قیامت تک تخلیق کرتا رھے گا۔وہ مخلوقات اور مختلف قسم کی بیماریوں کے شکل میں ھوں گے۔
بہت سے لوگ اپنے آپ کو فلسفی اور ارسطو سمجھتے ھیں۔اور اپنی جاہلیت کی بنیاد پر بہت سی چیزوں کے وجود کو سرے سے تسلیم ہی نہیں کرتے ھیں۔ان کی یہ ادا اگر ان کو پسند ھے اور وہ اپنے جاہلیت کی بنیاد پر کسی چیز کے وجود کو تسلیم کرنے سے گریزان ھیں۔تو کم ازکم اور لوگوں کو اپنے فساد برپا کرنے والی عادات اور تفکرات جاہلیت کی بنا پرگمراہ کرکے انکی زندگیاں برباد نہ کریں۔ان کی اس تلخ کرداراور افعال کے بارے میں میں اللّٰہ پاک ان کا بھی محاسبہ ضرور کریں گے۔وہ یہ نہ سمجھیں کہ وہ حق پر ھیں۔
بعض اوقات انسان ضد کرنے پہ اتر آتا ھے۔اس کی یہ ضد کرنا بھی بیماری کی ایک قسم ھے۔ اس کے اس ضد کی وجہ سے کئی انسان لقمئہ اجل بن جاتے ھیں۔
محترم قارئین !
آپ خدا کے لئے شک کرنا چھوڑدیں۔انسانی تحقیق وہاں تک پہنچی ھے۔جہاں آپ نے دیکھا کہ زمین سے چاند میں بیٹھےھوئے بندے کی بیماری کی تشخیص اور علاج ممکن بن گئی ھے۔یہ سب چیزیں ھماری سمجھ میں اس لئے نہیں آرہی ھیں کہ ھم سب نے Biochemistry پڑھی ھےPhysiology پڑھی ھے اور نہ Anatomy۔ چنانچہ ھمیں نہ صرف کورونہ بلکہ کسی بھی viral بیماری کی تہ تک پہنچنے اور اس کی حقیقت کو تسلیم کرنے کے لئے اتنا علم حاصل کرنا چاھئے کہ ھم ان کے اسباب،pathogenesis اور virology کے باب وائرس کا مطالعہ کرکے اس کے اقسام اس کے بناوٹ ds RNA .ssRNA envelpoed .. Naked اور وہ بیماریاں جن کے وہ سبب بنتے ھیں سے آگاہ ھونا چاھئے۔یا ھمیں چاھئے کہ ھم ان سے معلومات حاصل کریں۔جنہوں نے ان بیماریوں کے بارے میں اپنی ساری زندگیاں قربان کرکے ان کے علاج اور تشخیص کے سامان فراھم کیا ھے۔
اس تمام گفتگو سے یہ بات ثابت ھوجاتی ھے۔کہ یہ ضروری نہیں ھے۔کہ اگر ھم کسی چیز سے بیخبر ھوں تو اس کی وجہ سے اس کے وجود سے انکار کریں۔حال انکہ کچھ چیزیں بِن دیکھے اس لئے تسلیم کئے جاتے ھیں۔کہ ان کی تاثیر اور علامات سے اس چیز کی پہچان میں آسانی ھوتی ھے۔آپ سب کو معلوم ھے۔جب ٹھنڈک محسوس ھوتی ھے۔اور بخار بڑھتا ھے۔بدن میں درد ھوتا ھے۔تو پھر ہر چھوٹا بڑا کہتا ھے۔کہ اسکو ملیریہ ھوا ھے۔کیونکہ یہ سبق ازبر کرکے یاد ھوا ھوتا ھے۔اس بیماری کے تشخیص سے پہلے کئ لوگ اموات کے شکار ھوچکے تھے۔لیکن جونہی اس بیماری کی تشخیص اور علاج میں جدت آتی رہی۔تو اموات میں کمی آتی گئی۔اسی طرح اب ھماری اس کرہ ارض میں جو بیماری وبائی شکل میں پھیلتی جارہی ھے۔اس کا اتنا پتہ چلا ھے کہ یہ وائرس سے پھیلی ھوئی بیماری ھے۔اور یہ اس طرح سے پھیل جاتی ھے۔اور اس طریقے سے انسان اس سے محفوظ رھتا ھے۔بجائے نقلی videos دیکھ دیکھ کر اور مزھبی اور مسلکی فتنوں کو اس کا سہارا بنانے سے بہتر ھے کہ اپنی جان اور دوسرے انسانوں کے بقائے زندگی کے لئے احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ہی بہترین حکمت عملی ھے۔اور یہی موجودہ وقت کا تقاضہ ھے۔
دوستو !
یہ بیماری اب بہت تیزی سے پھیل رہی ھے۔اس سے اپنے آپ اور دوسروں کو بچانے کے تمام امور بتائے جا چکے ھیں۔ان پر عمل کرکے ھم اپنے ساتھ اپنے آس پاس کئی خاندانوں کو اس مہلک بیماری سے بچاسکتے ھیں۔
آئیں کہ عہد کریں کہ ھم ڈاکٹروں اور اپنےخیرخواہ لوگوں کو قبل ازوقت پہچان سکیں۔کہ وہ یہ سب کچھ ھمارے لئے کررھے ھیں۔ورنہ ھم بہت بڑے ناساز گار حالات سے دوچار ھوجائیں گے۔پھر اس سے نکلنے کے لئے دولت کام آئے گی نہ پیسہ کام آئے گا۔
میں نمونے کے لئے کچھ کتابی تصاویر اس مضمون کے آخر میں چسپان کررھا ھوں۔تاکہ آپ لوگوں کو یقین ھوجاٰئے کہ پہلے بھی مختلف قسم کی بیماریاں وقتًا فوقتًا اس کرہ ارض پر نمودار ھوتی رہیں۔اور اللّٰہ پاک نے اپنے مخصوص بندوں کو انکے لئے چننا انہوں نے ان کے علاج دریافت کیا اور یوں نسل آدم کو کئی مہلک بیمایوں سے نجات مل گئی۔ھم اللّٰہ پاک کے حضور دست بہ دعا ھیں۔کہ اللّٰہ پاک اس مہلک بیماری کے علاج کو بھی اپنے بندوں کو الہام کریں تاکہ ساری انسانیت اس مہلک بیماری سے بچ سکے۔
آمین۔

Advertisements

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ

زر الذهاب إلى الأعلى