fbpx

وزیراعلی ای-رضا کار پروگرام کے تحت قائم کال سنٹر میں ایک لاکھ سے زائد کالز موصول

پشاور(چترال ایکسپریس)وزیراعلی ای-رضا کار پروگرام کے تحت قائم کال سنٹر میں ایک لاکھ سے زائد کالز موصول
مختلف شعبوں کے پیشہ ور رضاکاروں نے عوام کو کورونا سے متعلق معلومات اور طبی مشورے وغیرہ فراہم کئے،
کورونا کی موجودہ صورتحال میں لوگوں کو زیادہ سے زیادہ سہولیات کی فراہمی کے لیے موثر اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں، وزیر اعلی محمود خان کورونا کی موجودہ صورتحال میں لوگوں کو گھر بیٹھے ضروری سہولیات، معلومات اور طبی مشوروں کی فراہمی کے لئے وزیر اعلی ای-رضا کار پروگرام کے تحت محکمہ ریلیف میں قائم کال سنٹر کے ٹال فری نمبر 1700 پر ایک لاکھ سے زائد لوگوں نے رابطہ کر کے معلومات حاصل کی ہیں ۔ 13 اپریل تا 22 مئی 2020 کے دوران کال سنٹر پر 100,966 کالز موصول ہوئیں۔ کال سنٹر سے منسلک پیشہ ور رضا کوروں نے لوگوں کو کورونا سے متعلق معلومات، طبی مشورے، نفسیاتی مسائل سے متعلق مشورے، میونسپل اور ریسکیو خدمات سے متعلق معلومات وغیرہ فراہم کئے۔
تفصیلات کے مطابق کال سنٹر میں موصول شدہ کالز میں سے کورونا سے آگہی کے بارے 41365 کالز، طبی خدمات سے متعلق 14127کالز ، نفسیاتی مشوروں سے متعلق 5594 کالز، فارمیسی مشوروں کے بارے 3303 کالز، بچوں اور خواتین کے تحفظ سے متعلق 3713 کالز، ریسکیو سروسز سے متعلق 4599 کالز ، میونسپل سروسز کے بارے 4069 کالز ، پی ڈی ایم اے سروسز سے متعلق 9721 کالز، سٹیزن پورٹل سے متعلق 5284 کالز اور سول ڈیفنس رضاکار ٹیم میں شمولیت کے لیے 8347 کالز موصول ہوئیں ۔
اس حوالے سے اپنے ایک بیان میں وزیر اعلی نے کہا ہے کہ کورونا کی صورتحال میں لاک ڈاون کی وجہ سے لوگوں کو بعض شہری خدمات اور سہولیات کے حصول میں دشواری کے باعث وزیر اعلی ای-رضا کار پروگرام کا اجراء کیا گیا ہے جس کے ذریعے لوگوں مختلف قسم کی خدمات اور سہولیات گھر بیٹھے فراہم کی جارہی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں لوگوں کو زیادہ سے زیادہ سہولیات کی فراہمی صوبائی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے جس کے لئے موثر اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں اور وزیاعلی ای-رضا کار پروگرام کا اجراء بھی اسے سلسلے کی کڑی ہے۔ وزیر اعلی نے ای-رضاکار پروگرام کو بہتر انداز میں چلانے پر محکمہ ریلیف کے کردار کی تعریف کی ہے۔

Advertisements
اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔
إغلاق