تازہ ترین

چترال ٹاون کے لوگ پانی کے بوند بوند کو ترس گئے۔چترال ٹاسک فورس اور ضلعی انتظامیہ سے گولین واٹر سپلائی سکیم بحالی میں کردار ادا کرنے کا پرزور مطالبہ

چترال(نمائندہ چترال ایکسپریس)چترال ٹاون کے سماجی،سیاسی اور عوامی حلقوں نے چترال ٹاسک فورس اور ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ گولین واٹر سپلائی سکیم کی بحالی میں آنے والے منصوبے کو گرمیوں کا موسم آتے ہی بحال کیا جائے۔ان حلقوں نے فوجی اور سول حکام کی توجہ چترال ٹاون کی80ہزار آبادی کو پینے کے پانی کی مشکلات اور ایک سال گذرنے کے باوجود ٹاون کے اہم ترین واٹر سپلائی اسکیم کی بحالی میں ناکامی کی طرف دلاتے ہوئے یاد دلایا ہے کہ گولین واٹر سپلائی سکیم 2012ء میں 54کروڑ روپے کی لاگت سے مکمل ہوئی تھی امیر حیدر خان ہوتی نے چترال ٹاون کا اتنا بڑا منصوبہ دیا جو5جولائی2019کے سیلاب کی زد میں آکر بند ہوا۔سیلاب کے وقت وزیراعظم عمران خان کی بہن خود گولین کی سیاحت پر آئی تھی جنہیں 7جولائی کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے سیلاب زدہ گاؤں سے نکالا گیا۔چترال ٹاون واٹر سپلائی سکیم کو بحال کرنا2مہینوں کا کام تھا مگر حکومت نے اس میں پورا سال لگادیا۔11مہینے گذرنے کے باوجود پبلک ہیلتھ انجینئرنگ نے سکیم کی بحالی پر کام شروع نہیں کیا۔چترال ٹاون کے عوام نے پورا سال پانی کی بوند بوند کو ترس کرگذاردیا11مہینے گذرنے کے باوجود واٹر سپلائی سکیم تباہ شدہ حالت میں پڑی ہے۔سننے میں آرہا ہے کہ8مہینوں تک صوبائی حکومت نے سکیم کی بحالی کیلئے فنڈ نہیں دئیے۔فنڈ منظور ہونے کے 3مہینے محکمہ پبلک ہیلتھ نے ٹینڈراور ورک آرڈر میں گذار دئیے۔محکمہ کے حکام کو منصوبے کی اہمیت،ہنگامی حالت اور ٹاون کے عوام کی مشکلات کا اندازہ ہی نہیں ہے۔سیاسی اور سماجی حلقوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ گرمیوں میں لوگ باہر نکلینگے اور امن عامہ کا مسئلہ پیدا ہوگا اگر کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آیا تو اس کی تمام تر ذمہ داری محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ پر عائد ہوگی۔

Advertisements

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ

زر الذهاب إلى الأعلى