تازہ ترینفیض العزیز فیض

ایٹمی ہتھیاروں کے 22واں سال…….فیض العزیزفیض..

جنگ کا بنیادی اصول جس کے پاس اسلحہ زیادہ ہو فوجی سازو سامان زیادہ ہو جیت اسی کا مقدر بنتی ہے ۔ مئی1974  بھارت پوکھران کے مقام پر ایٹم بم کا تجربہ کرتا ہے۔اور اس وقت کے بھارتی وزیر اعظم اندرا گاندھی کے مطابق یہ دھماکہ ’پرامن‘ مقاصد کے لیے تھا۔ ہندوستان اس سے کچھ عرصہ قبل یعنی 1962 میں شمالی محاذ پر چین اور 1965 میں مغربی محاذ پر پاکستان سے  جنگ کر چکا تھا۔ چین اور پاکستان سے شکست کھانے کے بعد ان ممالک کے ساتھ تعلقات میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بہتری آئی تھی۔پھر پاکستانی فوج کو 1971 کی جنگ میں شکست  اور کئی ہزار فوجی جنگی قیدی بنانے کے بعد بھارت کو مغربی محاذ سے اس وقت کوئی خطرہ نظر نہیں ارہا تھا۔ اس تاریخی حادثے اور تین سال بعد ہندوستانی ایٹمی دھماکے نے ہمارے پالیسی سازوں کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی کوششیں بڑھانے کی ترغیب عطا کی ۔ جوہری ہتھیار بنانے کا روایتی طریقہ پیچیدہ اور انتہائی صبر طلب تھا لہٰذا یورپ میں دریافت کئے جانے والے ایک مختلف طریقے کے بلیو پرنٹ ہمارے قومی ہیرو ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے ذریعے پاکستان پہنچے ۔ دس سال کی انتہک محنت اور رازداری (چونکہ عالمی طاقتیں مزید ممالک کے پاس ایٹم بم نہیں دیکھنا چاہتی تھیں) کے ساتھ پاکستان جوہری صلاحیت حاصل کر چکا تھا۔ ایٹم بم بنانے کا بنیادی مقصد طاقت کے مظاہرے کی بنا پر اگلے کو جارحیت سے روکنا۔اس حد تک تو ہم کامیاب ہوچکے تھے. سرد جنگ کے دوران امریکہ اور سویت یونین نے بہت سے ایٹم بم اس لئے بنائے تاکہ دوسرا فریق حملہ کرے تو اس کو ترکی بہ ترکی جواب دیا جا سکے۔ ایٹم بم اصل میں چلانے کے لئے نہیں بلکہ ڈرانے کے لئے بنائے جاتے ہیں اسی وجہ سے انہیں پر امن بم بھی کہا جاتا ہے۔دوسری جنگ عظیم میں ہیروشیما اور ناگاساکی کے ہولناک تجربے کے بعد دنیا بھر کے ممالک ایسے کسی بھی ایڈونچر سے خوفزدہ ہیں۔جاپان پر گرایا جانے والا بم اُس وقت حاصل شدہ صلاحیت کے حساب سے بھی اوسط درجے کا تھا۔ اسی لئے اسے “ سمال بوائے“ کا نام دیا گیا تھا۔ گزشتہ ستر برس میں جوہری ٹیکنالوجی کے اعتبار سے دنیا بہت زیادہ ترقی کر چکی ہے۔ اب مختلف ملکوں کے پاس جو بم اور انہیں داغنے کے لئے جو میزائل سسٹم موجود ہیں، ان کی ہلاکت اور تباہ کاری کا اندازہ کرنا بھی ممکن ہی نہیں ہے۔ اسی لئے ماہرین کی بہت بڑی تعداد اس رائے کی حمایت کرتی ہے کہ اگر کرہ ارض سے جنگوں کا مکمل خاتمہ نہیں بھی کیا جا سکتا لیکن جوہری ہتھیاروں کو ختم کرنا بے حد ضروری ہے۔ یہ بم دیگر تمام ہتھیاروں سے مہلک ہیں اور اس کے اثرات کئی نسلوں پر مرتب ہو سکتے ہیں۔پاکستان کا ایٹم بم بنانے کا بنیادی مقصد بھارت کو جار حیت سے باز رکھنا تھا .سو اس میں تو کامیابی ہوئی لیکن اس کے ساتھ ساتھ ٹیکٹیکل ویپانس پر کام شروع کیا گیا اس کی وجہ تقریباً دسمبر دو ہزار ایک میں بھارتی پارلیمنٹ پر حملہ تھا۔ اس حملے میں جیش محمد اور لشکر طیبہ کی شرکت کے شواہد ملے تو پاک بھارت تعلقات کشیدہ ہوئے۔ دونوں ممالک کی فوجیں دس ماہ سرحد پر آمنے سامنے کھڑی رہیں اور کسی بھی موقعے پر جنگ شروع ہو سکتی تھی۔اس تنازعہ کے پیش نظر ہندوستان نے ایک خفیہ حکمت عملی( کولڈ اسٹارٹ ڈاکٹرائن) تیار کی۔ اس حکمت عملی کے مطابق لوک سبھا پر حملے جیسے واقعات کی صورت میں بھارت پاکستان کے خلاف محدود جارحیت کا مظاہرہ کرے گا۔ اس محدود جارحیت کا مقصد پاکستان کو بہت کم وقت میں مخصوص مقامات (بارڈر کے ساتھ متصل) پر سزا دینا تھا تاکہ پاکستان کو جوہری ہتھیار استعمال کرنے کا جواز نہ مل سکے۔ دراصل اس دوران بھارتی افواج کو سرحد تک پہنچنے میں بہت زیادہ وقت لگا تھا اور جنگ کی صورت حال میں رفتار کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ پاکستانی پالیسی سازوں نے جواب میں (ٹیکٹیکل نیوکلیئر ویپانس) تیار کرنے شروع کئے۔ یہ چھوٹے درجے کے جوہری ہتھیار تیار کرنے کا مقصد میدان جنگ میں انہیں بھارتی افواج کے خلاف استعمال کرنا ہے۔ ان ہتھیاروں کا حجم چھوٹا ہے لہٰذا جانی نقصان کم ہو گا اور بھارت کو ایٹم بم چلانے کا جواز نہیں ملے گا۔  ماہرین کے مطابق یہ ہتھیار اس لئے بنائے گئے  کہ اگر بھارتی افواج سرحد پار کر کے پاکستان کی حدود میں آ جائیں تو یہ بم پاکستانی سرزمین پر ہی ان کے اوپر گرائے جا سکیں۔ لیکن سوچنے میں تکلیف دہ بات تو یہ ہے کہ برصغیر جیسے گنجان آباد علاقے میں جوہری بم چلانے کا مطلب دو طرفہ تباہی کے سوا کچھ نہیں ہے۔ ہم روایتی ہتھیاروں کی دوڑ میں بھارت کا مقابلہ نہیں کر سکتے اس لئے ہم نے جوہری ہتھیار بنا لئے ہیں ۔
جوہری ہتھیاروں سے پاکستان کوئی زیادہ مستحکم نہیں ہوا اور نہ ہی اس سے جنگ کا خطرہ کم ہوا۔ لیکن یہ ضرور ہے کہ اس بم کے ہوتے ہوئے جنگ نہیں ہوئی۔دراصل پاکستان کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے جو فوائد حاصل ہونے تھے شاید وہ پوری طرح حاصل نہیں ہو سکے۔
“ھم نے سوچا تھا کہ اس کے بڑے فائدے ہوں گے۔ کشمیر کا مسئلہ ایٹم بم سے حل ہو جائے گا۔۔۔ ساری دنیا میں ہمارا اتنا رتبہ ہو جائے گا سارے اسلامی ملک ہماری طرف دیکھیں گے۔ مگر یہ ساری باتیں میرے خیال میں کہیں پہنچی نہیں۔وہ کہتے ہیں ناں کہ بات اور دعا ہمیشہ سوچ سمجھ کر کی جانی چاہیے کیونکہ کوئی بھی گھڑی قبولیت کی گھڑی ہوسکتی ہے۔ بس! یوں سمجھیں کہ وہ قبولیت کا وقت ہی تھا جب قوم کی مہاریں سنبھالنے والوں نے اپنے پرائے سب پر واضح کردیا تھا کہ ”ہم ایٹمی قوت ضرور بنیں گے، چاہے اس کے لیے گھاس ہی کیوں نہ کھانی پڑے۔“کاتب تقدیر کو بھی یہ الفاظ اتنے پسند آئے کہ فوراً سند قبولیت عطا کردی۔ پھر آنے والے برسوں میں پاکستانی خارجہ پالیسی کا بیل تو رہا ایک طرف، خود قوم بھی گھاس کھاتی رہی اور ایٹمی صلاحیت ہونے پر فخر کرتی رہی۔ہندوستان نے اپنی سینا کو نت نئے میزائلوں سے لیس کر کے ایک فائٹر بُل تیار کرنے کی کوشش شروع کی تو پاکستان نے بھی اِس فائٹر بل کے ساتھ بُل فائٹنگ کھیلنے کے لیے میزائل پروگرام کے نیزے تیز اور ترچھے کرنے شروع کر دیے۔جسکا عمل تاحال جاری ہے.
اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ

زر الذهاب إلى الأعلى