تازہ ترین

کرونا وائرس کی روک تھام کیلے لاک ڈاؤن کا نفاذ اوربلدیہ ملازمین کے ساتھ نا انصافی۔۔

      تحریر: محمد اکرام اللہ سیکرٹری ویلج کونسل ریچ ڈسٹرک چترال۔

Advertisements

        یہ وائرس سب سے پہلے چین کےشہر ووہان میں 2019کے اواخر میں سامنے آیا،اس لیے اسے کرونا وائرس ڈیزیزس 2019 کا نام دیا گیا۔ یہ ایک متعدی  بیماری ہے جو ایک انسان سے دوسرے انسان تک بڑی اسانی سے منتقل ہوسکتی ہے جب اس وائرس کے پھیلاؤ میں تیزی آگئ یعنی ہزاروں کی تعداد میں ووہان کے باشندے اس مہلک بیماری سے متاثر ہوۓ تو چینی حکومت اس وائرس سے نجات پانے کیلئے اس شہر میں مکمل لاک ڈان اختیار کی۔جس شہر میں ہر روز ہزاروں کی تعداد میں لوگ اس وائرس سے متاثر ہوتے تھے متاثرین میں سے کم شرح پرلوگ زندگی کی بازی ہارتے  بھی تھے اسی لاک ڈاون سے ووہان میں وائرس پھیلنے کا تناسب کم ہوا اور یوں چینی حکومت بذیعہ لاک ڈاؤن اس وائرس کو کنٹرول کرنے میں کسی حد تک کامیاب رہی۔ یہ لاک ڈاؤن پوری دنیا کیلئے ایک مثال بنی ۔جب پوری دنیا میں وائرس کے پھیلنے کا عمل تیز ہوا تو حکومت کی سطح پروباء پر قابو پانے کا واحد طریقہ لاک ڈاؤن اختیارکرنے سے عوام کو یقین ہورہا ہے کیونکہ ابھی تک نہ اس مرض کیلئےویکسین اور نہ کوئی دوا بنی ہے عوام بھی بخوبی واقف ہیں کہ لاک ڈاؤن اختیار کرنے سے ایک دن یہ بلا ان کے سروں سے ٹل جاۓ گی۔اس مرض سے بچنے کے لیئےپوری دنیا کے  لوگوں نے حکومت کی ہدایات پر سختی سے عمل کرنا شروع کیا۔

      مارچ 2020 میں کرونا وائرس پاکستان میں بھی پہنچ گیا، کراچی سے کرونا کا پہلا کیس سامنے ایا ۔ پاکستانی حکومت بھی دوسرے ترقیافتہ ممالک کی طرح لاک ڈاؤن اختیارکی۔ تمام سرکاری اور نجی ادارے اس وائرس کے زذ میں آگئے ۔ یہاں تک کہ جن تعلیمی ادروں میں امتحانات ہورہے تھے ان کو بھی ملتوی کرنا پڑا۔ تعلیمی ادارے اتنے مجبور ہوگئے کہ ایمرجینسی کی اس حالت میں کلاس نہم سے لیکر ایف ایس سی تک تمام طلباء طالبات کو ایک خاص پالیسی مرتب کر کے اگلی کلاسوں میں ترقی دی گی۔ سکول سے لیکر کالج تک یونیورسٹی سے لیکر مدارس تک علم کی شمع روشن کرنے والے تمام ادارے بند ساتھ ساتھ بازار، مارکیٹ، کارخانے، بنک، عدالت اور تمام نجی و سرکاری دفترات وغیرہ  بھی بند کیے گئے۔ تاہم وحشت کے اس عالم میں بھی چند ایسے ادارے ہیں جن کی قربانی ہمشہ یاد     رکھی  جاۓ گی۔ اس میں  محکمہ ہیلتھ ، پاکستان آرمی، پولیس، سٹاک ہولڈرز اور لوکل گورنمنٹ پاکستان کے ملازمین فرنٹ پیچ پرہیں۔  ڈاکٹرز اور بائیو میڈیکل ریسرچرس( محققین) اور ان کے عملے ہر ایک چینل پر یعنی ہسپتال سے ٹیلی نشریات تک ہر جگہ فرنٹ پیچ پر نظر آتے ہیں اور دوسرے ادارے بھی اس مہلک بیماری سے بچنے کےلئےجو خدمات مہیا کررہے ہیں وہ بھی کسی سے کم نہیں۔ لوکل گورنمئنٹ اف پاکستان کے ملازمیں بھی مصیبت کے اس دور میں جو کردار ادا کررہے ہیں وہ بھی قابل ستائش ہے۔ اس مہلک بیماری کی روک تھام کیلئے وہ شروع دن سے لگے ہوۓ ہیں ۔ اگر ڈسٹرک لیول پر دیکھا جاۓ تو ویلج یا نیبر ہوڈ کونسل کے جو سکریٹریز ہیں وہ اپنے فرائض منصبی بڑے احسن طریقے سے انجام در رہے ہیں۔ ویلج یا نیبر ہوڈ کونسل کی سطح تک جتنے ضروری سرکاری امور ہیں وہ حکومت ایمرجنسی کی اس حالت میں بھی بذریعہ سیکرٹری ویلج یا نیبر ہوڈ کونسل حاصل کررہی ہے۔ سیکرٹری ویلج یا نیبر ہوڈ کونسل کو اج کل تمام ادارے ہتھیار کے طور پر استعمال کررہے ہیں ایک طرف ڈپٹی کمشنر تو دوسری طرف اسسٹنٹ کمشنر ساتھ ساتھ اسسٹنٹ ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ، تحصیل میونسپل اتھارٹی ہیلتھ، ایجوکیشن، سوشل ویلفر، پاکستان بیت المال وغیرہ  ابھی تک ایمرجنسی کی اس حالت میں ان سیکرٹریز کے ذریعے مختلف  کام کرواۓ گئے۔ سیکرٹریز ابھی تک اسی ہنگامی حالت میں بغیر کسی  حکومتی اقدامات کے یعنی بغیر کسی حفاظتی کٹس  کے احساس ایمرجنسی کیش پروگرا م کے سروے، بیرونی ممالک میں مقیم پاکستانیوں کی لسٹ، تمام مساجد اور دوسرے عبادت خانوں میں روزانہ کی بنیاد پر کرونا وائرس سے بچنے کے اعلانات، کرونا وائرس سے بچنے کیلیے ویلج کونسل کی سطح تک بینیرز اور اشتھارات کا انتظام،ڈاؤن ڈسٹرک سے ویلج کونسل تک روز مرہ کی بنیاد پر آۓ ہوۓ  لوگوں کی نشاندہی، قرنطینہ سنٹر کا معائنہ، ریلیف پکیچیز کی تقسیم، جن لوگوں کی فوتگی ہوئی ہے حالانکہ احساس کیش پروگرا م میں ان کے نام پیسہ آیا ہے ان لوگوں کو ڈیتھ سرٹیفیکیٹ کی فوری دستیابی وغیرہ مختصرا جو ٹاسک بھی ان کو دیا گیا وہ بخوبی اسے انجام دے رہے ہیں ان کے اپنے محکمہ کی طرف سے جو روزمرہ کے کام ہیں وہ اسی طرح جاری ہیں وہ ان ذمہ داریوں کے ساتھ ہنگامی وقت کے اضافی کام  بھی بڑی کامیابی سے کررہےہیں۔ روزمرہ کے کاموں میں سیکرٹری بحیثیت انفارمیشن آفیسر، سی ار ایم ایس کا کام کرنے والا،اکاؤنٹنٹ، کلارک،ماہانہ ویلج کونسل میں اجلاس کا انعقاد، اے ڈی پی کی بناوٹ، سلانہ بجٹ کی بناوٹ، مختلف سرٹیفیکیٹس کی رجسڑیشن، نادرہ آفس میں لوگوں کیلئے سہولیات کی فراہمی،ویلج کونسل کی سطح تک تمام سرکاری محکموں کی نگرانی، پولیو کی نگرانی، ویلج کونسل کی سطح تک تمام ترقیاتی کاموں کی نگرانی اور مکمل ریکارڈ سازی وٖغیرہ جو مستقل فرائض اپنی جگہ ہیں اور ساتھ ایمرجنسی کی اس حالت میں بہت زیادہ کام بذریعہ سیکرٹری کروایا گیا۔ سکریٹریزبغیرماسک، سینا ٹیزر  یا بغیر حفاظتی کٹس کے اپنی زندگیوں کو خطرے میں ڈال کر اپنے فرائض ادا کررہے ہیں۔ لیکن یہ کہتے ہوۓبڑا دکھ ہوتا ہے کہ مصیبت کی اس گھڑی میں فرنٹ پیچ پر کام کرنے والوں کے ساتھ حکومت کی طرف سے نا انصافی ہو رہی ہے ہیلتھ سے لیکر ایجو کیشن تک مختصرا    تمام محکموں کی اپ گریڈیشن ان کے ڈیمانڈ کے مطابق ہوئی۔ وباء کی اس مہم میں فرنٹ پیچ پرکام کرنے والے سکریٹریز کا بیسک سکیل 09 ہے نہ سروس سٹرکچر ہے نہ ڈیپارمنٹیل پروموشن ہے اور نہ کمیشن کیئے کوئی کوٹہ مختص ہے حلانکہ جب ایک کلرک کی بھرتی کیلئے اشتہار شائع ہوتا ہے تو اسکا سکیل 11 ہے اور کوالیفیکیشن کلرک کیلئے میٹرک شرط ہے ڈیپارمنٹل پروموشن بھی ہے سروس سٹرکچر بھی ہے کمیشن کیلئے بھی الگ کوٹہ کا تناسب بھی ہے اس کے برعکس ویلج و نیبر ہوڈ سیکریٹریز کی ریکروٹمنٹ کیلئے کوالیفیکیشن ایف اے ہے ساتھ ساتھ کمپیوٹر کا سرٹیفیکٹ بھی ضروری ہے ہمارے ساتھ حکومت کی طرف سے اتنی ناانصافی یا حق تلفی کیوں ہے؟ اس کی کیا وجہ ہوسکتی ہے؟ میرے خیال میں یہ مخض ہماری کمزوری ہے تحصیل، ڈسٹرک اور صوبے کی سطح  تک جو کابینہ ہیں  یہ ان کی نااہلی ہے لیڈر شپ نہ ہونے کی وجہ سے اج تک ہمیں ہمارے بنیادی حقوق حاصل نہ ہو سکے۔ ہیلتھ اور دوسرے  محکموں کے ملازمین کو تمام حفاظتی کٹس کے ساتھ ساتھ ایک ماہ کی بونس سلیری بھی ملی۔ واحد بلدیاتی محکمہ ان تمام جدوجہد کے باوجود حکومت کا اعتاد حاصل کرنے میں ناکام رہا۔ کسی بھی چیز کی اصلیت اسکے تہ یا جڑ سے شروع ہوتی ہے حکومت کو بھی اگر گراس روٹ سے صحیح طریقے سے انفارمیشن حاصل نہیں ہوتی تو اسے ہر کام میں ناکامی ہوتی ہے اگر حکومت پاکستان  گراس روٹ سے صحیح طریقے سے ڈیٹا کی دستیابی اور صحیح معنون میں ویلج کی سطح تک ترقی چاہتی ہے تو لوکل گورنمنٹ کو با اختیار اور اس ڈیپارمنٹ کے ملازمین کے خدشات دور کرنا ہوگا۔

      آخرمیں لوکل گورنمنٹ اف پاکستان کے پی کے کے تمام سیکرٹریز سے گزارش ہے کہ تحصل، ڈسٹرک اور صوبے کی سطح تک جو تنظیم سازی ہو رہی ہے انکو فعال بنائیں۔حکومت کو ان محرومیوں کے بارے میں آگاہ کرے     ۔یہ  ڈیپار منٹ پہلے کم تعلیم یافتہ اور کم عملے پر  مشتمل تھا تا ہم 2015 میں این ٹی ایس کے ذریعے جو لوگ منتخب ہوۓ ہیں یہ  عملہ اعلی تعلیم یافتہ اور نوجوانون پر مشتمل ہے۔ حکومت سے ہمدردانہ گزارش کی جاتی ہے۔ کہ محکمہ بلدیہ کا سروس سٹرکچراور ان کے ملازمین کو اپ گریڈ کرکے ان کی حوصلہ افزائی کی جاۓ، آل سیکرٹریز ایسوسی ایشن کا جو صدر ہے اسے سروس سٹرکچر اور اپ گریڈیشن کا عمل تیز کرنا چاہئے اگر ہم اس طرح چپ کےرہنگے تو کل اس سے بھی زیادہ کام ہم سے کرواینگے لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمیں اتحاد قائم کرنا چائیے اس معاملے کے بارے میں سوچناچاہئیے اور اپنا مستقبل محفوظ کرنا چاہئیے۔۔۔۔۔

شکریہ

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ

زر الذهاب إلى الأعلى