تازہ ترینمحمد جاوید حیات

دھڑکنوں کی زبان……..ہم سب ناصح ہیں…. محمد جاوید حیات

دنیا میں سب سے آسان کام دوسروں کو نصیحت کرنا ہے۔انسان کو اس کی اپنی کوتاہیاں بہت کم نظر آتی ہیں ہر ایک کو لگتا ہے کہ وہ کمزوریوں سے پاک ہے۔اسلام نے خود احتسابی کا درس دیا۔قرآن نے کہا۔۔تم اپنے آپ کو بھول جاتے ہو حالانکہ تم کتاب (قرآن) پڑھتے ہو۔۔دنیا کی کوئی بھی سنجیدہ اور ذمہ دارقوم ہو وہ نصیحت پکڑتی ہے۔نصیحت کرتی نہیں۔۔اس کے سامنے جو مسئلہ ہو اس کے لئے ہر فرد اپنی ذمہ داری پیش کرتا ہے اپنا کردار نبھاتا ہے۔تب جا کے ترقی کی راہیں کھلتی ہیں۔۔ایثارو قربانی کی حدیں یہاں سے شروع ہوتی ہیں۔ہمارے ہاں بالکل الٹی گنگا بہتی ہے۔۔کل ذرادور کسی گاؤں سے ٹیکسی پہ سفر کر رہا تھا۔سڑکیں ویسے بھی کھنڈر ہیں۔۔ڈرائیور گاڑی چلا رہا تھا ساتھ تیز رفتاری پر ڈرائیوروں کو برا بھلا کہہ رہاتھا لیکن خود اس کی بے اختیاطی اور تیزرفتاری سے ہمارے کچومر نکل گئے تھے ۔ایک بوڑھے مسافر نے کہا۔بیٹا!دوسروں پہ تنقید کرنے سے بہتر نہیں ہے کہ خود گاڑی آرام سے چلائیں۔۔۔یہاں سے ناصحوں کی کھیپ شروع ہوتی ہے اور نصیحتوں کا ایک تسلسل چلتا ہے۔یہ نون لیگ کی حکومت گئی ہے اب ان کے لیڈرز حکومت وقت کونصیحتیں کرنے لگے ہیں۔ان کے منصوبوں پہ تنقید ہے۔یہ لو حکمراناں وقت اپنے وہ سب دعوے بھول گئے ہیں۔یہ لو عالم دین سٹیچ پہ بیٹھا ہے نصیحت کر رہا ہے لیکن اپنے وجود میں کمزوریوں کو یکسر بھول گیا ہے۔یہ لو وکیل کہہ رہا ہے۔۔حرام کھانا،ظلم ناانصافی کرنا بہت برا ہے۔۔یہ بھول جاتا ہے کہ ظالم کا ساتھ دینا اس سے بھی زیادہ ظلم ہے۔جس دارالعدل کے کٹہرے میں کھڑاہوتا ہے بھول جاتا ہے کہ وہ کہہ کیا رہا ہے کیا وہ حق کا ساتھ دے رہا ہے۔یہ لو استاد کی کلاس لگی ہے وہ باہر لان میں دھوپ میں بیٹھا سیاست پر دھواں دار تقریرکر رہا ہے اور سیاست دانوں کو ہدف تنقید بنا رہا ہے۔یہ باپ اپنے بیٹے سے شکوہ کناں ہے کہ وہ نافرمان ہے حالانکہ خود اس نے کبھی بھی اپنے باپ کی بات نہیں مانی ہے۔یہ لو ماں دوسروں کی بیٹیوں کو آڑے ہاتھوں لیتی ہے اس کی اپنی بچی اس کو نظر نہیں آتی۔کپڑوں،فیشن،نشست وبرخواست پہ تنقید ہے لیکن خود اس کے سر پہ دوپٹہ نہیں۔۔لپ سٹیک بھی لگی ہے۔۔پلکیں بھی خنجر بنی ہیں۔ایک مرد کے ہاتھ میں ”این رائیڈ“کا موبائیل ہے خود نیٹ پہ لگا ہوا ہے۔۔تھک جائے تو کہے گا۔۔اس نیٹ نے لوگوں کو تباہ کردیا۔۔گویا کہ ایک وہ بچا ہے۔ایک بار اپر چترال کے تین جوانوں کو تبصیرہ کرتے ہوئے سنا کہ لوئر چترال میں چترالی تہذیب ختم ہو رہی ہے۔میں نے گزارش کی کہ جوانو!اپر چترال میں تہذیب کا جو قتل عام ہو رہا ہے یہاں پہ اتنا نہیں۔۔اس بات پہ مجھ سے لڑ پڑے۔۔حالانکہ وہ پینٹ شرٹ میں تھے۔۔داڑھیاں فرنچ کٹ تھیں۔۔عینکیں پیشانی پہ لگی ہوئی تھیں۔تینوں کے ہاتھوں میں ”این رائیڈ“ تھے۔۔میں نے چپ سادھ لی اور کہا۔۔ہم سب ناصح ہیں۔۔میں نے ڈرائیور کو مسافروں کو گالیاں دیتے ہوئے سنا وہ خود نئے ”کرایہ نامے“ نہیں مان رہا تھا۔۔میں نے ٹریفک پولیس کو ڈرائیور کو ڈانٹتے ہوئے دیکھاسنا کہ ”ماسک کیوں نہیں پہنتے ہو“ خود اس کے پاس ماسک نہیں تھا۔ا س منظر نامے میں کیا کیا نہیں دیکھا جا سکتا۔خود اپنے آپ کو نصیحت کرتے دیکھا ہے۔نصیحت کرنے کے بعد یاد آتا ہے کہ وہ سب کمزوریاں تو مجھ میں ہیں۔۔سکول میں ایک استاذ محترم فرمایا کرتے۔۔ہم صرف دوسروں کو نصیحت کرتے ہیں خود کچھ نہیں کرتے۔۔۔کہتے ”اور وں کو نصیحت خود میاں فضیحت“۔۔ہمارے ہاں کوئی اپنا کام نہیں کرتا۔ڈاکٹر انجینئرکو نصیحت کرے گا۔اس کے کام پہ تبصرہ کرے گا۔یہ نہیں کہے گا کہ یہ میرا سبجکٹ نہیں ہے۔انجینئر ٹھیکہ دار کو راہ دیکھائے گا استاد سیاست کرے گا۔ان پڑھ فتویٰ دے دے گا۔عالم دین انگشت بدندان رہ جائے گا۔سواری ڈرائیور کو سمجھائے گا کہ یوں گاڑی چلاؤ۔ترکھان مستری کو سمجھائے گا اور مستری اپنا کام چھوڑ کر ترکھان کو ہدایات دے گا۔بیٹی ماں کی رہنمائی کرے گی ااور ماں سر پکڑ کر رہ جائے گی۔۔بیٹا باپ کو راستہ دیکھائے گا۔یہ ہمارا کلچر ہے۔۔سب کہتے ہیں۔۔کہ میں جانتا ہوں دوسرا کوئی نہیں جانتا۔لقمان حکیم نے فرمایا کہ میں اس وقت سمجھدار ہوں کہ مجھے یقین ہو جائے کہ میں ”کچھ نہیں سمجھتا ہوں“
آن کس کہ بداند و نداند کہ بداند۔۔۔۔۔۔با کوزہ آب است ولی تشنہ نماند
آن کس کہ نداند و بداند کہ نداند۔۔۔۔۔۔لانگان خرک خویش بہ منزل برساند
آن کس کہ نداند و بخوہد کہ بداند۔۔۔۔۔۔جان و تن خود ز جہالت برہاند
آن کس کہ نداند و نداند کہ نداند۔۔۔۔۔۔در جہل مرکب ابد الدھر بماند
لگتا ہے ہم بحیثیت قوم کیٹیگری فور میں ہیں۔۔یہ سمجھتے نہیں۔۔نہ یہ سمجھتے ہیں۔۔کہ نہیں سمجھتے ہیں۔۔تو پھر ہماری اصلاح کیسی ہو۔بندہ اپنا محاسبہ کرنا سیکھے تب کسی کو نصیحت کرنے سے پہلے اپنا آپ درست کرے گا۔ہم سارے جو ناصح بنے بیٹھے ہیں۔

Advertisements

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ

زر الذهاب إلى الأعلى