تازہ ترینمحمد جاوید حیات

دھڑکنوں کی زبان۔۔۔۔۔۔۔جھولی پھیلاؤ کہ زندہ قوم ہو؟۔۔۔۔۔۔۔محمدجاوید حیات

ملک کے مالی سال کے لئے بجٹ بن رہا ہے۔۔ماہرین اقتصادیات سر جوڑ کے بیٹھے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے سٹرل سپیرئر سروس پاس کرکے بڑے بڑے دفتروں میں بیٹھے ہیں ان کے سامنے فائیلیں پڑی ہیں منصوبہ بندی ہورہی ہے۔۔ان کا آزاد ملک ہے۔وہ سوچتے ہیں کہ اس سال دفاع پہ اتنے پیسے خرچ ہونگے۔۔دفاع اولین ترجیح ہے کیونکہ ان کے رسول مہربان ﷺ نے جابجا دفاع کے لئے سامان خریدے ہیں اور اس کو ریاست کا فرض اولین قرار دیا ہے۔۔ان کے قرآن میں ہے ”اپنے گھوڑوں کو موٹے تازے رکھو تاکہ دشمن تیرے اور تیرے رب کے دشمن تجھ سے خوف زدہ رہیں“۔۔ پھر ملک کے نونہالوں کو تعلیم یافتہ بنانا ہے ان کی درست نہج پہ تربیت کرنا ہے۔۔اس کے لئے پیسے مختص کرنا ہے۔۔پھر ملک کی سڑکیں ہیں۔۔ملک میں بجلی کی کمی دور کرنی ہے۔۔پھر نئے کارخانے لگانے ہیں۔صحت کا مسئلہ ہے۔۔ہسپتال بنانے ہیں۔ملک خداد زرعی ہے۔زراعت کو ترقی دینا ہے۔پانی کا مسئلہ ہے ڈیم تعمیر کرنا ہے۔بیروزگاری ہے جابجا نوکریاں پیدا کرنا ہے۔۔سائنس اور ٹیکنالوجی کو ترقی دینا ہے۔تعلیم و تحقیق میں جدید دنیا کا مقابلہ کرنا ہے۔ملک کے پاسبانوں کو سہولیات سے آراستہ کرنا ہے۔سرکار کے جو ملازمین ہیں ان کو مطمین کرنا ہے۔۔مزدور طبقہ ہے ان کو زندگی کی بنیادی سہولیات مہیا کرنا ہے۔۔ان سب اخراجات کے لئے پیسہ پیدا کرنا ہے۔۔ملک میں ٹیکس کا نظام ہے اس کو صاف شفاف بنانا ہوگا۔۔کوئی ملک کا باشندہ ٹیکس چوری نہ کرے۔دیانتداری سے ٹیکس ادا کرے۔۔ساری بدعنوانیوں کو ختم کرنا ہوگا۔۔ملک میں قناعت اور میانہ روی کی فضاء ہوگی۔فضول خرچیاں ختم کرنے ہونگے۔قومی خزانے کو قوم کی امانت سمجھا جاناہو گا۔ان سب کاروائیوں کی منصوبہ بندی کے لئے ایک آزاد ملک کی مشینری کا م کرے گی۔کسی دوسرے کو اس پہ اعتراض کرنے یا مشورہ دینے کی ضرورت نہیں۔دنیا میں کوئی اس سلسلے میں کسی آزاد قوم کومشورہ نہیں دے سکتا مگر ہمارے ہاں نہایت افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہم ایسا نہیں کر سکتے۔۔اپنا بجٹ نہیں بنا سکتے۔۔اپنی مرضی سے کسی کی تنخواہ میں اضافہ نہیں کرسکتے۔ٹیکس نہیں لگا سکتے۔۔دفاع کے پیسے نہیں رکھ سکتے۔قیمتیں کم نہیں کر سکتے۔۔ریلیف نہیں دے سکتے۔اور ایک آزاد جمہوری ملک ہونے کادعویٰ کرتے ہیں۔ہمارا جمہوری ملک قرض پہ کیوں چل رہا ہے یہ ایک بہت بڑا المیہ ہے۔صدر ایوب کے دور تک ہم کسی کے مقروض نہیں تھے۔سہولیات میسر نہیں تھیں یہ حقیقت اپنی جگہ۔۔لیکن ہم آزاد تھے ہم مخلص اور قناعت پسند تھے ہم قوم کے خزانے کو قوم کی امانت سمجھتے تھے۔۔ وہی قناعت اور دیانت داری برقرار رہتی تو آج ہم حقیقی معنوں میں آزد ہوتے۔ہم دھڑا دھڑ قرض لیتے رہے اور کھا تے رہے۔آدائیگی بھولتے رہے۔اپنے لئے کارخانے اور جائیدادیں بناتے رہے اور بقول غالب یہ بھول گئے
قرض کی پیتے تھے مئے اور سمجھتے تھے یہ کہ ہاں رنگ لائے گی ہماری فاقہ مستی ایک دن
آج ہم سرکاری ملازمیں یہ کہتے ہوئے شر م محسوس کر رہے ہیں کہ ہماری حکومت ائی ایم ایف کے حکم نامے کے مطابق ہماری تنخواہ بڑھا رہی ہے۔۔۔گٹھا رہی ہے۔۔یا ویسے رہنے دیتی ہے۔۔۔یہ ہمارے لئے ڈوب مرنے کا مرحلہ ہے۔اب ہمیں یقین ہو چلا ہے کہ ہم براہ راست کسی کے غلام ہیں۔آقا کی مرضی ہے۔ہمارے ساتھ کچھ بھی کر سکتا ہے۔ہمیں یقین ہو چلا ہے کہ بحیثیت قوم ہم زندہ نہیں ہیں۔ہم مقروض اور مجبور ہیں۔۔ہم لاچار اور بے بس ہیں۔۔اگر نہیں ہیں تو بتاؤ اگر آج حکومت وقت کہے کہ سارے ملازمین سے گزارش ہے کہ اپنی تنخواہوں میں بیس فیصد کٹوتی پر مطمین ہوجاؤ ملک میں مالی بحران ہے غریبوں کی مدد کرنا ہے تو ہم میں سے کتنے لوگ ہونگے جو قربانی کے لئے تیار ہونگے۔۔کوئی بھی تیار نہیں ہوگا۔ہم ایسی قربانی دینے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔۔اگر کہا جائے کہ آؤ آئی ایم ایف کے قر ضوں سے نجات پاتے ہیں۔۔ہم میں سے کوئی تیار نہ ہوگا۔آؤ فضول خرچیوں سے اپنے آپ کوبچاتے ہیں۔۔ہم میں سے کوئی تیار نہ ہوگاکیونکہ ہمیں اپنا پیٹ پالنا ہے۔ہم انجینئر ہیں تو کمیشن لینی ہے۔۔ہم ٹھیکہ دار ہیں تو کرپشن کرنا ہے۔۔ہم استاد ہیں تو کام چوری کرنی ہے۔ہم پولیس ہیں تو رشوت لینا ہے۔ ہم تاجر ہیں تو سمگلنگ کرنی ہے۔۔ہم آفسر شاہی ہیں تو جائدادیں بنانا ہے۔۔ہم سیاست دان ہیں تو اپنا”مستقبل“ سنوارنا ہے۔ہمیں اس مٹی سے کیا کام؟۔۔۔پیسے کہاں سے آتا ہے۔۔اس سے ہمارا کوئی تعلق نہیں۔۔ٹیکس کیوں دیں۔فلان کیوں نہیں دیتا۔۔ اس سمے تو لازم ہے کہ غلامی ہمارا مقدر ہو۔۔ہم قرض خواہ کی مرضی پہ ہونگے۔ہم پیسے چوری کرینگے۔ہم چینی چوری کرینگے۔ہم قرض لے کر اپنے لئے کارخانے لگائیں گے۔ہم ٹیکس اور بجلی چوری کرئینگے۔ایک فرد خواہ وہ وزیر اعظم ہی کیوں نہ ہو۔۔ وہ اکیلے میں کیا کرے۔۔ وہ غیرت قومی اجاگر نہیں کرسکتا ہے اس کے لئے انقلاب چاہیے۔۔سب بدعنوانوں اور ملک دشمنوں کا صفایا ہو۔مخلص اور درد رکھنے والے آگے آجائیں۔اگر حکومت وقت قربانی دینے کا کہے تو شور اٹھے گا۔حقوق کی بات ہوگی۔بدعنوانیوں کو ”حق“ سمجھنے والے سب سے پہلے میدان میں اُترینگے۔اس وجہ سے سب مجبور ہیں حکومت بھی عوام بھی۔غریب بھی امیر بھی۔لہذا ہم جھولی پھیلاتے ہیں۔۔لیکن جس کاہاتھ کسی کے سامنے پھیلے اس کو زندہ کہنے میں شک پڑتا ہے۔جس رب نے یہ ملک خداداد ہمیں عنایت کی ہے۔۔اس کے سامنے ہاتھ پھیلانے کی ہمیں توفیق نہیں ہوتی کیوں کہ ہمارا کردار اس قابل نہیں۔ہم کسی سے کیا گلہ کریں اگر ہم رعایا ہوں تو حکومت مجبور ہوگی اور کیا کرے گی۔۔۔۔۔

Advertisements

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ

زر الذهاب إلى الأعلى