تازہ ترین

آغاخان ہیلتھ سروس، پاکستان کی جانب سے گرم چشمہ میں کرونا کے مریضوں کے لیے ایمرجنسی ریساپنس سینٹر کا افتتاح

گرم چشمہ(نمائندہ چترال ایکسپریس)دی آغا خان ہیلتھ سروس، پاکستان(AKHS,P) کی جانب سے بدھ10جون کو لوئرچترال کے
گرم چشمہ میں، کووِڈ19- (COVID-19)کے مریضوں کے لیے20بستروں پر مشتمل صحت کی سہولت گاہ کابدست ڈپٹی کمشنر لوئر چترال نوید احمد افتتاح ہوگیا۔ صحت کی اِس سہولت گاہ کو، جسے”ایمرجنسی ریسپانس سینٹر فار کووِڈ19-پیشنٹس(Emergency Response Centre for COVID-19 Patients)“ کا نام دیا گیا ہے،معمولی سے درمیانہ درجے کی علامات رکھنے والے کووِڈ19-کے مریضوں کو دیکھ بھال کی سہولتیں فراہم کرے گا۔اس سہولت میں نصف بستر خواتین مریضوں کے لیے مخصوص ہوں گے۔

Advertisements

ایمرجنسی ریسپانس سینٹر فارکووِڈ19- پیشنٹس کا عملہ 29 ہیلتھ پروفیشنلز پر مشتمل ہو گا جن میں 7 ڈاکٹرز، 10 نرسیں اور 3 نرسنگ اسسٹنٹس شامل ہیں۔ اس سہولت پر کام کرنے والے عملے کے تمام افراد کو ادویات اور پرسنل پروٹیکٹو ایکوپمنٹ (PPE) سمیت تمام لازمی آلات اوراشیائے ضرورت فراہم کر دی گئی ہیں۔

صحت کی اس سہولت کو آغا خان ایجنسی فار ہیبی ٹیٹ (Aga Khan Agency for Habitat) نے ایک با مقصد سہولت کے طور پر تعمیر کیا ہے اوراس میں مقامی طور پر پہلے سے تیار کردہ سینڈ وچ پینلز استعمال کیے گئے ہیں اور ہر سائٹ کی ضرورت کے مطابق سخت اور نرم ساخت اختیار کی گئی ہے۔

سینٹر کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مہمان خصوصی، ڈپٹی کمشنر، لوئرچترال نوید احمد نے کہا:”کووِڈ19- کی وباء کی اس سے پہلے کوئی مثال نہیں ملتی ہے اور اِس سے نمٹنے کے لیے نجی شعبے اور حکومت کو مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ اِس بحران سے نمٹنے کے لیے ہم آغا خان ہیلتھ سروس، پاکستان کے ساتھ شراکت داری کے پر امید ہیں۔“

اس موقع پرموجود زیریں چترال کے پبلک اسپیشئالیسٹ،ڈسٹرکٹ ہیلتھ ڈپارٹمنٹ، ڈاکٹر نصار اللہ نے کہا:”آغا خان ہیلتھ سروس، پاکستان کی جانب سے یہ سہولت گاہ کووِڈ19- کے خلاف لڑنے والے زیریں چترال کے لوگوں کو دیکھ بھال کی سہولت فراہم کے لیے ایک بروقت خوش آئند ذریعہ ہے۔“

آغا خان ہیلتھ سروس،پاکستان کے ریجنل ہیڈ فار چترال، معراج الدین نے کہا:”یہ وقت ہر شخص کے لیے بے یقینی کا وقت ہے۔ کووِڈ19- نے زندگی کے تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو متاثر کیا ہے۔ ہمیں فخر ہے کہ ہم اس وباء سے نمٹنے کے لیے حکومتی کوششوں کو تقویت پہنچانے کی غرض سے اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ہمارا مقصد ہے کہ یہ سہولت گاہ اس بیماری سے متاثر ہونے والوں کو دیکھ بھال، آرام اور امید فراہم کرے۔“

اس سے قبل مئی میں بھی اپر چترال کے علاقے بونی میں،28 بستروں پر مشتمل ایمرجنسی سینٹر فار کووڈ -19 پیشنٹس کا افتتاح ہوا تھا۔ بونی میں کووِڈ19- کے مریضوں کے لیے عارضی قرنطینہ کا مرکز بھی قائم کیا گیا ہے۔
آغا خان ہیلتھ سروس، پاکستان (AKHS,P)کی جانب سے اپر اورلوئر چترال میں فراہم کی جانے والی موجودہ خدمات میں مزید اضافہ کیا گیا ہے تاکہ وہ ابتدائی اور ثانوی سطح کے کووِڈ19- کے مریضوں کو بھی سہولت فراہم کر سکیں۔ آغا خان یونیورسٹی ہسپتال (AKUH) اورصحت کے عالمی ماہرین نے بھی آغا خان ہیلتھ سروس، پاکستان کے طبی عملے کو کووِڈ-19کے مختلف پہلوؤں پر تربیت فراہم کی ہے جس میں نازک حالت والے مریضوں کی دیکھ بھال ویسٹ مینیجمنٹ، پی پی ای کٹس کا استعمال، اسکریننگ کے لیے حکمت عملی اور نمونوں کا جمع کرنا، اسٹور کرنا اور ٹرانسپورٹ کرنا شامل ہیں۔آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کے تعاون سے آغا خان ہیلتھ سروس پاکستان نے حکومت خیبر پختونخوا کو مقامی طور پر کووِڈ19-کے مریضوں کی ٹیسٹنگ کے لیے سپورٹ میں اضافہ کیا ہے۔

کووِڈ19- کے لیے یہ خدمات،30 بنیادی ہیلتھ سینٹروں، 3 کمپری ہینسو ہیلتھ سینٹروں اور چترال میں واقع ایک میڈیکل سینٹر کے ذریعے فراہم کی جانے والی آغا خان ہیلتھ سروس، پاکستان کی پرائمری اور سیکنڈری ہیلتھ کیئر سروسزمیں کسی تعطل کے بغیر فراہم کی جا رہی ہیں۔

اِسی طرح، آغا خان میڈیکل سینٹر، بونی میں بھی تمام طبی یونٹس کسی تعطل کے بغیر سیکنڈری کیئر سروسز فراہم کر رہے ہیں۔ اِن خدمات میں متعدد اسپشلائزڈ خدمات مثلاً ڈاکٹر سے مشاورت اور ٹیلی میڈیسن کی سہولتیں شامل ہیں۔

دی آغا خان ہیلتھ سروس، پاکستان نے، حکومت اور نجی اداروں کے ساتھ مل کر کام کرتے ہوئے اپنے عملے کے ذریعے، جن میں ہیلتھ ورکرز بھی شامل ہیں،کووِڈ19-کے حوالے سے آگاہی میں بھی اضافہ کیا ہے۔بنیادی سطحوں اور مختلف فورموں پرمتعدد سرگرمیوں بھی منعقد کی گئی ہیں تاکہ دوردراز علاقوں میں موجود آبادیوں سمیت کمیونٹیز کو بھی اہم معلومات فراہم کی جا سکیں اورکووِڈ19-سے بچنے کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کی جا سکیں۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ

زر الذهاب إلى الأعلى