تازہ ترین

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان کا ریگی ماڈل ٹاؤن میں شہری سہولیات کی فراہمی کے کاموں میں پیش رفت پر عدم اطمینان کا اظہار

پشاور(چترال ایکسپریس)وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے ریگی ماڈل ٹاؤن میں شہری سہولیات کی فراہمی کے کاموں میں پیش رفت پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے تمام وفاقی و صوبائی محکموں اور اداروں کے حکام کو ہدایت کی کہ وہ سب آپس میں مل بیٹھ کر اس ٹاؤن شپ میں تمام شہری سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے اور اس سلسلے میں ٹھوس پیش رفت کو یقینی بنانے کیلئے دس دنوں کے اندر ایک مربوط لائحہ عمل ترتیب دے کر پیش کریں۔
وہ جمعہ کے روز اپنے دفتر میں ریگی ماڈل ٹاؤن میں شہری سہولیات کی فراہمی کے سلسلے میں پیشرفت کا جائزہ لینے کے لئے منعقدہ اعلیٰ سطح کے ایک اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے بلدیات کامران بنگش، انسپکٹر جنرل پولیس ڈاکٹر ثناء اللہ عباسی، کمشنر پشاورامجد علی، ڈائریکٹر جنرل پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی سید ظفر علی شاہ، کمانڈ نٹ فرنٹیر کانسٹیبلری اور سی سی پی او پشاور کے علاوہ محکمہ ہائے بلدیات، داخلہ، صحت، تعلیم، سوئی نادرن گیس پائپ لائن اور پیسکو کے اعلیٰ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔
اجلاس کو ریگی ماڈل ٹاؤن میں بجلی و گیس کی فراہمی، طبی اور تعلیمی مراکز کے قیام، تفریحی سہولیات کی فراہمی، سکیورٹی سے متعلق معاملات اور دیگر اُمور سے متعلق تفصیلی بریفینگ دی گئی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ ریگی ماڈل ٹاؤن شپ منصوبے کے لئے 70 فیصد زمین کی ادائیگی کی جا چکی ہے۔ باقی ماندہ 30 فیصد کی ادائیگی پر کام جاری ہے۔ وزیراعلیٰ نے پولیس اور فرنٹیر کانسٹیبلری کے حکام کو ہدایت کی کہ ریگی ماڈل ٹاؤن میں سکیورٹی انتظامات بہتر بنانے کیلئے پولیس اور ایف سی کے دستے تعینات کئے جائیں۔اُنہوں نے پیسکو حکام کو بھی ہدایت کی کہ مذکورہ ٹاؤن شپ کو بجلی کی فراہمی کیلئے گرڈ سٹیشن کی تعمیر اور ٹرانسمیشن لائن بچھانے کے کام کو جلدی مکمل کرنے کیلئے ٹھوس اقدامات اُٹھائیں۔ اس ٹاؤن شپ میں تجاوزات کے خاتمے کے سلسلے میں پی ڈی اے کو مذاکرات کے ذریعے مسئلہ حل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ اگر مذاکرات کے ذریعے مسئلہ حل نہ ہوا تو پھر انتظامیہ حرکت میں آئے گی۔ اس ٹاؤن شپ کی بعض اراضی سے متعلق کوکی خیل قبیلے کے تحفظات اور شکایات کو دور کرنے کیلئے وزیراعلیٰ نے حکام کو ہدایت کی کہ اس سلسلے میں متعلقہ سیاسی و قبائلی عمائدین کا جرگہ تشکیل دے کر معاملہ حل کرنے کیلئے مذاکرات کئے جائیں۔

Advertisements

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ

زر الذهاب إلى الأعلى