تازہ ترینناصر علی

نرسز اور نرسنگ پیشہ کی عزت و وقار کو نقصان پہنچانے کا سلسلہ بند کروایا جائے…تحریر: ناصرعلی شاہ

طب ایک معزز پیشہ ہے اس پیشہ سے تعلق رکھنے والے طبیب دن رات ایک کرکے نہایت ایمانداری اور خوف خدا کے ساتھ مخلوق خدا کی خدمت میں برسرپیکار ہیں. ہر پیشے کے اپنے روایات و اخلاقیات ہیں بلکل اسی طرح شعبہ صحت کے بھی کچھ اخلاقیات ہوتے ہیں ان پر من و عن عمل کرنا ہر ڈاکٹر, نرس اور پیرامیڈیکل سٹاف پر فرض ہے اگر ان اخلاقیات کو ملحوظ خاطر نہ رکھا گیا تو خدمت نہیں بلکہ وقت گزارنے اور ذاتی مفادات کی خاطر کام تصور کیا جائے گا ۔ ایسے بہت سے ڈاکٹرز ہیں جن کی وجہ سے پیشے کی عزت و زینت ہے ایسے عظیم ناموں کو نہ گن کر پورا کیا جاسکتا ہے نہ لکھ کر, جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے.
طب کے بعد نرسنگ پیشہ جو شعبہ صحت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے اس پیشے کو خدمت انسانیت کی خاطر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دور میں بھی پروموٹ کی اور روفائیدہ بنت سعد کو باقاعدہ اس پیشے کی پروموشن کا حکم صادر فرمایا, تب سے آج تک نرسز اہتے کراہتے لوگوں کی خدمت میں مصروف ہیں اور ایسے پروفیشنلز ہیں جن کی وجہ سے اس پیشے کا الگ مقام ہے اور ان کا ذکر کیا جائے تو سیاہی کم اور اوراق ملنا مشکل ہو جائیگا.
نرسز, ڈاکٹرز کے ایسسٹنٹ نہیں بلکہ علیحدہ اور معزز پیشے سے منسلک پروفیشنلز ہیں. عالمی ادارہ صحت جس کی پوری دنیا پیروی کرتی ہے کے مطابق نرسنگ پیشہ مخصوص مہارت و قابلیت کے ساتھ ایک منفرد و معزز پیشہ ہے نہ کہ ڈاکٹرز ایسسٹنٹ, مگر ایک ٹیم کی حیثیت سے ہاسپتالوں میں کام کرتے ہیں اور ایک دوسرے کے بغیر ادھورے ہیں. ہم سب مریضوں کی میڈیکل اور نرسنگ اخلاقیات کے مطابق خدمت کرنے کے پابند ہیں اور اسی خدمت کے لئے ہمیں اجرت بھی دی جاتی ہے کسی پر احسان نہیں کر رہے ہیں اور آپس میں رواداری اور محبت کو برقرار رکھ کر ہی مریضوں کی بہترین خدمت کی جاسکتی ہے وگرنہ آپس کی لڑائی سے درد سے چیختے مریض کو ہی نقصان پہنچ سکتا ہے.
اب آتے ہیں ان خاص باتوں کی طرف جن کو اگر نہ روکا گیا تو ناخوشگوار واقعہ رونما ہونے میں دیر نہیں لگے گی اور ہوسکتا ہے سب سے زیادہ نقصان ڈاکٹر کمیونٹی کو اٹھنا پڑے اور ایسا ہی ہوگا یہ کمیونٹی بہتر جانتی ہے.
سوشل میڈیا کے اوپر ایسے عناصر متحرک ہیں جو شعبہ صحت کے ساتھ ساتھ پروفیشنلز کو بھی نقصان پہنچانے کی مسلسل کوششوں میں مصروف ہیں بلاوجہ نرسنگ پروفیش کے اندر مداخلت کے ساتھ نرسز کے اوپر بھی کیچڑ اچھالنے میں مصروف ہیں جس کی جنتی مذمت کی جائے کم ہے ان مختلف جعلی پیجیز میں ڈاکٹر کمیونٹی کی بھرپور سپورٹ کرکے نرسز کو گالیاں دینے سے تھکتے نہیں اور برملا ینگ ڈاکٹر ایسوسیش کی طرفداری کرتے ہیں جو کہ سوالیہ نشان ہے. ینگ ڈاکٹرز ایسوسیش کی قیادت پر ہمیں تحفظات نہیں کیونکہ قیادت با اخلاق, پروفیشنلز, مخلص ہیں اور ان لوگوں کے ساتھ کام کرنے کے بعد ان کی صلاحیت اور نیک نیتی میں شک کرنے کی گنجائش نہیں, مگر, اگر ان جعلی اکاونٹ سے ڈاکٹرز کی طرفداری جاری رہی تو قیادت پر سوال اٹھ سکتے ہیں اور ایسے لوگوں کی وجہ سے طب جیسے عظیم پیشے اور اس پروفیشن سے منسلک قابل فخر اور عظیم لوگوں کی عزت داغدار ہوسکتا ہے.
نرسنگ پروفیش کی عزت وہ تمام ڈاکٹرز کرتے ہیں جو سمجھدار ہیں اور وہ بھی جو باہر وقت گزار کے آئے, کیونکہ وہاں دس مرتبہ سوچ کر میڈیسن کا نسخہ جاری کیا جاتا ہے ورنہ ساتھ کھڑے نرس ڈوز بھی سمجھا دیتا ہے ساتھ انسیڈنٹ بھی بھر دیتا ہے اور آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کراچی میں بھی ایسا ہی ہے. اس طریقے کو مثبت لینا چاہئے کیونکہ اسمیں فائدہ مریض کو ہوتا کیونکہ ڈاکٹر اور نرس کا مقصد ایک ہے مریض کو بچانا, درد و تکلیف دور کرکے آرام پہنچانا شامل ہے.
کسی زمانے میں نرسنگ کا پیشہ محدود کورسز کی وجہ سے ادنی پیشہ تصور کیا جاتا تھا گرچہ اسوقت بھی خدمات ڈاکٹرز سے کم نہیں تھی مگر اب وہی کورسز شامل ہیں جو ڈاکٹرز کو پڑھائے جاتے ہیں کلینکل میں مہارت نرسز کا شیوہ رہا ہے مخصوص فیلڈ میں سپیشیلائیزیشن, بی ایس این, ماسٹر این نرسنگ اور پی ایچ ڈی تک ڈگریاں حاصل کرچکے ہیں. 19 سکیل تک پروموشن محنت و مشقت کے بعد ہی حاصل کرتے ہیں.
اگر کسی کے دماغ میں 1965 والا نرسنگ ہے تو دوقیانوسی طریقہ کار سے نکل کر حالات و واقعات کے مطابق پیشے کی ترقی اور نرسز کے بہترین کام کو دیکھتے ہوئے اپنے اندر قبولیت پیدا کرنی ہوگی اور کڑوی گولی نگل کر نرسنگ پیشہ اہمیت کو تسلیم کرنا ہوگی اور بطور انچارچ جس ہسپتال میں ڈاکٹرز ہیں, نرسز کے حقوق دینے ہونگے کیونکہ یہی وقت کا تقاضا ہے اور اسی میں ہی مریضوں کی مفاد شامل ہونے کے ساتھ پروفیشن اور پروفیشنلز دونوں کی بھلائی ہے.
میری ڈاکٹرز, نرسز ایسوسیشنز اور تمام قابل قدر اور قابل عزت ڈاکٹر صاحبان سے گزارش ہے کہ ان جعلی پیجز کی حوصلہ افزائی کے بجائے حوصلہ شکنی کی جائے اور ان کے راویوں کی کھل کر مخالفت کیا جائے تاکہ پروفیش کی عزت و وقار سلامت رہے اور آپس میں تعاون سے مریضوں کی اچھی خدمت کی جائے.

Advertisements

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ

زر الذهاب إلى الأعلى