تازہ ترینمحمد جاوید حیات

ڈھڑکنوں کی زبان….کیا انسان ہار گیا؟۔۔۔۔۔۔۔۔محمد جاوید حیات

کورونا نے ایک ہلچل مچا دی ۔انسانوں کو تین واضح حصوں میں تقسیم کیا ۔۔۔ایک گروپ نے کہا ۔۔۔موت و حیات خالق کاینات کے ہاتھ میں ہے احتیاط کرنا چاہیے۔۔اللہ اس وباء کو بیخ و بن سے اکھاڑ دے گا۔۔ایک نے کہا یہ سراسر جھوٹ ہے سازش ہے ۔۔۔حالانکہ اپنے ارد گرد حالات کا چشم دید گواہ ہے ۔۔۔ایک گروپ نے کہا اس سے لڑو ۔۔ساینس اس کو شکست دے گی ۔۔۔لیکن حقیقت یوں ہے ۔کہ نہ سمجھدار نا سمجھ کو سمجھا سکے اور نہ نا سمجھ سمجھدار کو بہلا سکے ۔۔سوال ہے کہ کیا انسان اپنی اس ترقی کے بلند بانگ دعوے اور دھونس دھمکی کے با وجود حقیقت میں بے بسی میں ہاتھ مل رہا ہے ۔اگر یہ سازش اور غلط منصوبہ بندی ہے تو انسان کب سے درندہ اور حیوان بن گیا ہے۔یہ تہذیب یافتہ ہونے کا دعوی کر رہا تھا آزادی کا چمپین بن رہا تھا ۔کیا یہ ممکن ہے کہ اپنے ہاتھوں سے زہر بنا کے اپنے ہم جنسوں کو ملیامیٹ کر دیا جاے ۔اگر ممکن نہیں تو اس وباء کے ہاتھوں کیا انسان ہار گیا ۔۔یہ ممکن ہے انسان فطرت کی زبردست قوت کے سامنے ہارتا رہا ہے ۔۔انسان باغی بنا ۔۔نوح کا طوفان آیا دریا کی موجین تھیں اور کیا ۔۔انسان ہار گیا ۔ ضعیف انسان ۔۔۔۔۔فرعون بڑا دشمن بنا پھرتا تھا تھا ۔سمندر کا کنارا آیا ۔۔۔یا اللہ اب کیا کیا جاے سامنے دریا پیچھے دشمن ۔۔۔سمندر نے راستہ دیا انسان ہار گیا ۔۔حالانکہ فزکس اور بیالوجی نے بہت ترقی کی تھی ۔۔احرام بن رہے تھے ۔۔انسان اپنی ہٹ دھرمی کی وجہ سے ہارتا رہا ہے ۔۔فارس ٹوٹ گیا ۔روم ٹوٹ گیا ۔۔عرب بکھر گے ۔۔۔۔انسان ہارتا رہا ہے ۔۔طارق چو بر کنارہ اندلس سفینہ سوخت ۔۔۔۔۔انسان فطرت سے لڑا نہیں . سکا تو فطرت کو تسخیر کرنے کی کوشش ضرور کی ۔کوشش تمام کبھی نہیں ہوئ اس جدو جہد کو ساینس کا نام دیا گیا ۔۔لیکن انسان ششدر ہے ۔۔۔ساینسدان باغی سے باغی تر بنتے گے مگر ہارتے گیے ۔۔بیماریوں کے خلاف لڑا ۔۔جس بیماری کا علاج دریافت کیا گیا ۔۔انسان مطمین ہوا اب خلاصی ہے تو ۔۔دوسری آئ ۔۔سر پکڑ کے بیٹھ گیا ۔۔طاغون وباء تھی علاج دریافت ہوا ۔۔مگر یرقان آیا ۔۔چیچک وباء تھی بیخ و بن سے اکھاڑی گی تو کنسر تشریف لائ ۔۔خسرہ سے نجات ملی تو شوگر اور کولسٹرول نے جینا حرام کر دیا ۔مصنوعی اعضایں آیں ۔۔مگر قوی مضمحل ہو گے ۔بدن کی مضبوطی اور چستی رخصت ہو گئ ۔۔انسان ہار گیا کیا؟؟ ۔۔۔کتنے ٹیکے ایجاد ہوے۔۔کتنے ویکسین ہاتھ لگے ۔۔۔مگر اب کی بار کرونا وایرس ۔۔۔۔اس کی تو ویکسین ہی کوئ نہیں ۔نئ ہے اس کے بارے میں انسان نے سوچا ہی کب تھا ۔۔۔کیا اب یہ تھکا ہارا ہوا انسان یہ کہہ دے ۔۔۔یا اللہ تو ہی نجات دے ۔۔خالق ارض و سماء تیری مدد پہنچے ۔۔اللہ کی مدد کڑی ازمایش کے بعد آتی ہے جب انسان بے بس ہو جاے ۔۔ابھی انسان بے بس نہیں ہوا ۔۔وہی بغاوت ۔۔وہی مار دھاڑ ۔۔وہی بد عنوانی حرام خوری ۔۔۔وہی موت سے غافل ۔۔۔وہی ہٹ دھرمی بے اختیاطی ۔۔انسان کا باغی وجود رجوع نہیں کر سکا ۔۔اللہ کی زمین سراپا بغاوت ہے ۔۔مگر انسانیت ہاری نہیں اب بھی ایسوں کی کمی نہیں جو کسی کی موت پر انسو بہاتے ہیں ۔۔اب بھی ایسے ہیں جو مختاجوں کا سہارا بنتے ہیں ۔اب بھی کچھ لوگ ہیں جو اپنے رب کے حضور ہاتھ اٹھا تے ہیں ۔۔ابو گھر پہ ہے تو بچے خوش ہیں ۔دوست رشتہ دار اکھٹے ہیں تو خاندان بھرا پورا ہے ۔۔ احساس ہو رہا ہے کہ کسی کا چولہا ٹھنڈا تو نہیں ۔انسان ہارا نییں ہے انسان کی باغی فطرت آہستہ آہستہ اپنی اصلیت کی طرف آ رہی ہے ۔۔سرنڈر کرنے والا ہے ۔۔۔اے اللہ تو ہی واحد لا شریک ہے ۔۔۔سب کچھ تیرے ہاتھ میں ہے ۔۔کاینات کا زرہ زرہ تیرے حکم کا تابع ہے ۔۔۔انسان مجبور محض ہے ۔۔

Advertisements

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ

زر الذهاب إلى الأعلى