تازہ ترین

وزیراعلیٰ محمود خان کا تمام سرکاری امور میں شفافیت کو یقینی بنانے کے لئے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے موثر استعمال پر زور

وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمود خان نے سرکاری محکموں کی استعداد کار کو بڑھانے، تمام سرکاری امور میں شفافیت کو یقینی بنانے اور عوام کو شہری سہولیات کی فراہمی کو آسان بنانے کے لئے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے موثر استعمال کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ اس مقصد کے لئے خیبر پختونخوا انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کو مزید فعال بنانے اور اس کے انداز کار کو جدید عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لئے مناسب اقدامات اٹھائے جائیں اور اس مقصد کے لئے آئی ٹی بورڈ کے موجودہ قوانین میں ضروری ترامیم تجویز کئے جائیں۔ صوبے میں سرکاری اور نجی دونوں شعبوں میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے فروغ کو اپنی حکومت کی اہم ترجیحات میں سے ایک قراد دیتے ہوئے وزیر اعلی نے کہا ہے کہ عالمی شہرت کے حامل نجی آئی ٹی کمپنیوں کو صوبے میں سرمایہ کاری کی طرف راغب کر کے نوجوانوں کے لئے روزگار کے ذیادہ سے ذیادہ مواقع پیدا کئے جاسکتے ہیں جس کے لئے ایک خود مختار آئی ٹی بورڈ کا قیام عمل میں لائا گیا ہے۔ انہوں نے اس حوالے سے آئی ٹی بورڈ کی اب تک کی کارکردگی کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ آئی ٹی کے شعبے میں مطلوبہ نتائج اور اہداف کے حصول کو یقینی بنانے، آئی ٹی بورڈ کے جملہ امور کو صحیح معنوں میں کارپوریٹ گورننس کے طرز پر چلانے اور بورڈ کی تشکیل نو کر کے اس میں نجی شعبے کے ماہرین کو ذیادہ اور موثر نمائندگی دینے کے لئے ضروری اقدامات اٹھائے جائیں۔
وہ گذشتہ روزخیبر پختونخوا انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے ایک اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔
اجلاس میں آئی ٹی بورڈ کے نئے منیجنگ ڈائریکٹر کی تعیناتی کے لئے سرچ اینڈ سکروٹنی کمیٹی تشکیل دینے کی منظوری دے دی گئی جو مروجہ قواعدو ضوابط کے مطابق مطلوبہ معیار پر پورا اترنے والے نجی شعبے سے تجربہ کار اور پیشہ ور افراد کی چھان بین کرکے نئے منیجنگ ڈائریکٹر کی تعیناتی کے لئے چند ایک نام تجویز کرے گی جن میں سے ایک کی حتمی منظوری بورڈ دے گی۔ یاد رہے کہ آئی ٹی بورڈ کے موجودہ منیجنگ ڈائریکٹر کی مدت ملازمت اس مہینے کے آخر میں ختم ہو رہی ہے۔ چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا ڈاکٹر کاضم نیاز، ایڈیشنل چیف سیکرٹری شکیل قادر، وزیر اعلی کے پرنسپل سیکرٹری شہاب علی شاہ، سیکریٹری سائنس اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی مختیار آحمد کے علاوہ بورڈ نجی شعبے سے تعلق رکھنے والے بورڈ ممبران نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس میں بورڈ کے منیجنگ ڈائریکٹر کی مدت ملازمت کو کم کرنے، منیجنگ ڈائریکٹر کی ملازمت میں توسیع کو بہتر کارکردگی سے مشروط کرنے، منیجگ ڈائریکٹر کی کارگردگی کو جانچنے کے لئے حقیقت پسندانہ پرفارمنس انڈیکیٹرز مرتب کرنے اور بورڈ کے قانون میں دیگر ضروری ترامیم تجویز کرنے کے لئے ایڈیشنل چیف سیکرٹری کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دینے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ علاوہ ازیں اجلاس میں بورڈ کے ہیومین ریسورس کمیٹی، فنانس کمیٹی اور آڈٹ اینڈ اکاونٹس کمیٹی کی تشکیل نو کر کے ان کو مزید فعال اور موثر بنانے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ اجلاس سے شراکا سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلی نے کہا کہ جس مقصد کے لئے آئی بورڈ کا قیام عمل میں لایا گیا ہے اس مقصد کا حصول صوبائی حکومت کے لئے سب سے اہم اور مقدم ہے جس پر کسی صورت کوئی بھی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

Advertisements

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ

زر الذهاب إلى الأعلى