تازہ ترین

چترال گول نیشنل پارک کی حفاظت پرمامورکمیونٹی واچرزنے دس مہینوں سے تنخواہ نہ ہونے کی باعث ڈیوٹی چھوڑ دی

چترال (نمائندہ چترال ایکسپریس) چترال گول نیشنل پارک کی حفاظت پر مامور کمیونٹی واچرز گزشتہ دس مہینوں سے تنخواہ نہ ہونے کی باعث ڈیوٹی چھوڑ دی ہے جس کے نتیجے میں معدومیت کے خطرے سے دوچار کشمیر مارخور اور دوسرے جنگلی حیات اور دیودار کی جنگل کو شدیدخطرہ لاحق ہوگیا ہے۔ ذرائع کے مطابق چترال گول نیشنل پارک پراجیکٹ کے اختتام پر 30کے لگ بھگ کمیونٹی واچروں کے تنخواہ اور کمیونٹی کو کنزرویشن کے کام میں شامل کرنے کے لئے مطلوبہ وسائل کی فراہمی کے لئے انڈومنٹ فنڈ قائم کیا گیا ہے جس سے ملنے والی منافع کو کمیونٹی واچروں کے تنخواہوں اور کمیونٹی کنزرویشن کے کاموں پر خرچ کیا جاتا ہے۔

Advertisements

ذرائع نے بتایاہے کہ اسلام آباد میں منسٹری آف کلائمیٹ چینج کی تحویل میں اس فنڈ سے حصہ لے کرکمیونٹی واچروں کو تنخواہوں کی ادائیگی چیف کنزرویٹر وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ خیبر پختونخوا کی ذمہ داری ہے جوکہ اس میں اب تک ناکام رہا ہے۔ چترال گول نیشنل پارک سے متاثرہ دیہات نے محکمہ وائلڈ لائف کی طرف سے انڈومنٹ فنڈ سے تنخواہوں کے حصول میں ناکامی اور کمیونٹی واچروں کے کام چھوڑنے پر خاموشی برتنے اور نیشنل پارک کے متاثرہ گیارہ دیہات کے عوام کے ساتھ کئے گئے معاہدوں پر عملدرامد نہ ہونے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بیس سال قبل نیشنل پارک کے قیام کے وقت مارخوروں کی آبادی دوسو سے کم رہنے سے یہ معدومیت کے خطرے سے دوچار تھی لیکن اب کمیونٹی کی تعاون کی وجہ سے یہ تعداد چارہزار سے متجاوز ہے۔ ان کا کہنا تھاکہ گزشتہ کئی مہینوں سے بار بار چیف کنزرویٹر کے نوٹس میں لانے کے باوجود مسئلے کا برقرار رہنا اور نیشنل پارک کی حالت خراب ہونا پی ٹی آئی حکومت کی اس دعوے کی نفی ہے کہ اس دور میں جنگلی حیات اور ماحولیات کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ

زر الذهاب إلى الأعلى