بدیع الرحمنتازہ ترین

ہمیشہ کے لئے کامیابی۔ بدیع الرحمن ضلعی صدر چترال تحریک تحفظ پاکستان

اللہ تبارک وتعالیٰ کا فرماں ہے۔ترجمہ ”جو لوگ اللہ پاک کے راستے میں مر جاتے ہیں۔انہیں مردہ نہ کہو۔بلکہ وہ زندہ ہیں۔مگر تمہارے شعور سے بالاتر ہے“۔ اتنا بڑا مقام جہاد اصغر کا ہے۔اور جہاداکبر کا بدلہ اللہ پاک کے پاس ہے۔ مگر مذکورہ بالا ایات مقدسہ کی روشنی میں کچھ گزارش کرنا چاہتا ہوں۔ جہاد اکبر نفس سے شروع عالم پر ختم۔بعض اوقات ہم بغیر جواز اور بے سود اپنے آپ کو جہاد اکبر کے فائدے سے باہر کر دیتے ہیں۔مثلاً کسی برائی کے آلہ کار بن جاتے ہیں۔دانستہ یا نا دانستہ کسی ایسے آدمی کے ساتھی بن جاتے ہیں۔جو جرائم پیشہ یا مجرموں کا ساتھ دیتا ہے۔تو ہم اس جرم میں برابر شریک ہو تے ہیں۔ خاص کر انتخابی مہم کے دوران صحیح لوگوں کے ساتھ دینے کے بجائے غلط آدمی کے بازو بن جاتے ہیں۔اور آپ سب کا مشاہدہ ہوگا۔ کہ اجکل ذاتی زیادتی سے لیکر معاشرتی خرابی تک ان غلط لوگوں کاہاتھ ہوتا ہے۔اگر ہاتھ نہیں تو بس کے باوجود روکھنے کی کوشش نہیں کرتے ہیں۔ حساب برابر ہے آج ہم بحیثیت مسلمان سودی کاروبار، رشوت اورجس کی لاٹھی اس کی بھینس کے اصول پر زندگی بسر کر رہے ہیں۔ ایک دن باپ کا اور ایک دن ماں کا، کے کلچر کو فروغ دے رہے ہیں۔ہم نے اپنے بچوں کیلئے معاشرے کو برباد کرکے رکھ دیا۔کیونکہ معاشرہ ہی بچوں کا تربیت گاہ ہوتا ہے۔مرتے وقت ایک خواہش اور اُمید اولاد سے دعا کی۔مگر اس معاشرے میں پالتا بچہ بددعا ہی دے گا اور شرمندگی کے باعث ہی بنے گا۔لہذا معاشرے کو بہتر کرنے کیلئے سوچ کو بہتر کریں۔صحیح لوگوں کا انتخاب سخت ضروری اور ضرورت ہے۔تحریک تحفظ پاکستان آپ کے لئے معاشرے بہتر کرنے کا ارادہ کرچکاہے۔ مگر شرط یہ کہ آپ بھی ساتھ دیں۔

Advertisements

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ

زر الذهاب إلى الأعلى