fbpx

کورونا سے کیسے نمٹنا ہے؟۔۔۔۔۔محمد شریف شکیب

جب سے کورونا کی وباء ملک میں آئی ہے دکھی انسانیت کو مفت مشوروں سے نوازنے والے متحرک ہوگئے ہیں سوشل میڈیا پر طبی مشورے دینے والوں کا ایک تانتا بندھا ہوا ہے۔ ہر شخص مرض کی تشخیص اور علاج کے بارے میں اپنی معلومات اور تجربات دوسروں تک پہنچانا اپنا اخلاقی، مذہبی، قانونی اور قومی فرض گردانتا ہے۔ اکثر لوگوں کا کہنا ہے کہ سینامکی نام کی جڑی بوٹی کا قہوہ اس مرض کے لئے اکسیر ہے۔کوئی دھنیا، اجوائن، کلونجی، ادرک اور زیرے کی آمیزش کو تیر بہ ہدف علاج قرار دیتا ہے۔کسی کی رائے ہے کہ ٹھنڈی خاصیت والی چیزوں کے استعمال سے مکمل پرہیز کرنی چاہئے تو کوئی گرم خاصیت والی چیزوں کو کورونا کے مریضوں کے لئے زہر قرار دیتا ہے۔بیشتر لوگ کورونا کو متعدی بیماری تسلیم کرنے کو تیار ہی نہیں اور یہی لوگ ماسک پہننے، سینی ٹائزر لگانے اور سماجی فاصلے قائم کرنے کی حفاظتی تدابیر کو بھونڈا مذاق قرار دیتے ہیں۔پہلے یہ بتایاگیا کہ جو لوگ کورونا کو شکست دے کر صحت یاب ہوچکے ہیں ان کا پلازمہ کورونا کے مرض کاواحد علاج ہے۔اس دوران ابن الوقت قسم کے لوگوں کا ایک گروہ سرگرم ہوگیا۔اس نے پلازمے خریدنا اور منہ مانگے داموں مریضوں کے لواحقین کے ہاتھ بیچنے کا دھندہ شروع کردیا تو حکومت کو اس کے سد باب کے لئے اعلان کرنا پڑا کہ پلازمہ سے کورونا کے مریضوں کی صحت یابی کی شرح کم جبکہ ان میں ایڈز، کینسر اور دیگر مہلک بیماریاں پیدا ہونے کے خطرات زیادہ ہیں۔اس دوران ملیریا کی دوا کلوروکوئین کو اس مرض کا واحد علاج قرار دیا جانے لگا،یہ خبر بھی گردش کرنے لگی کہ برطانیہ، امریکہ اور فرانس میں ایکٹمرا نامی دوا سے کورونا کے مریضوں کا علاج کامیاب رہا ہے۔ ابھی ایکٹمرا کی صدائے بازگشت ختم نہیں ہوئی تھی کہ الرجی کی دوا ڈیکسا میتھازون کو سب سے موثر دوا قرار دیا جانے لگا۔جونہی میڈیا پر ڈیکسامیتھازون کے کارآمد ہونے خبریں آنے لگیں تو ادویات کا کاروبار کرنے والوں نے اس سستی دوا کی قیمتوں میں پانچ سو فیصد اضافہ کردیا۔ملک کے ڈیڑھ سو سے زائد سینئر ڈاکٹروں کی ٹیم نے عوام کو یہ نوید سنائی ہے کہ مریضوں کو کورونا سے خوفزدہ ہونے کی بالکل ضرورت نہیں، اگر ان کا ٹیسٹ مثبت آتا ہے تو اپنے گھر پر ہی خود کو آئیسولیٹ کریں 95فیصد مریض گھر پر علاج سے تندرست ہوجاتے ہیں ڈاکٹروں نے واضح کیا ہے کہ پلازما تھراپی، ایکٹمرا اور ڈیکسا میتھازون کوروناوائرس کا مکمل علاج نہیں جبکہ ثنا مکی کے مضر اثرات اس کے فوائد سے بہت زیادہ ہیں۔فیس ماسک کے استعمال سے وائرس کا پھیلا ؤروکا جا سکتا ہے۔ طبی ماہرین نے مریضوں اور پریشان لواحقین کو افواہوں پر کان نہ دھرنے کا مشورہ دیا ہے۔ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ معمول کے مطابق درجہ حرارت اور آکسیجن لیول چیک کرکے وباء پر کنٹرول ممکن ہے۔ خون میں آکسیجن لیول 93فیصد سے زیادہ ہو تو بخار کو پیراسیٹامول یا دیگر ادویات سے کم کیا جا سکتا ہے۔ گھریلو ٹوٹکے اور شہد کا استعمال فلو اور سردی کم کرنے کیلئے موزوں نسخہ ہے۔ڈاکٹروں نے مشورہ دیا ہے کہ اینٹی بائیوٹکس، اینٹی وائرل اور ہربل علاج سے پرہیز کیا جائے۔ ڈاکٹروں نے ریمیڈی سیور، پلازما تھراپی، ایکٹمرا انجکشن اور ڈیکسا میتھازون کو تجرباتی علاج قرار دیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کے تشویشناک مریضوں کے لئے اب تک کوئی موثر علاج دریافت نہیں ہوا۔ ماہرین نے اس تاثر کو مسترد کر دیا کہ ایک بار پازیٹو آنے والے شخص کو دوبارہ کورونا نہیں ہو سکتا۔ سینئر ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ عوام کو غیر موثر، خطرناک طریقہ علاج اور ادویات مہنگے داموں خریدنے پر مجبور نہ کیا جائے۔طبی ماہرین نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ سب کچھ حکومت پر چھوڑکر تن بہ تقدیر ہونا مناسب نہیں،حکومت، ڈاکٹرز، طبی عملہ اور عوام مل کر ہی اس مرض کا مقابلہ اوراس پر کنٹرول کرسکتے ہیں۔سب سے پہلے تو یہ یقین کرلینا چاہئے کہ کورونا ایک خطرناک، متعدی اور مہلک مرض ہے۔جس نے پوری دنیا کو لپیٹ میں لے لیا ہے۔اس سے حتی المقدور بچنے کی کوشش کرنی چاہئے جس کے لئے حکومت اور طبی ماہرین کی طرف سے مقرر کردہ حفاظتی تدابیر پر مکمل عمل درآمد ہی ہمیں اس مہلک مرض سے بچا سکتا ہے۔کورونا کا وائرس خود چل کر ہمارے گھر نہیں آتا، ہم باہر نکل کر اپنی لاپرواہی سے اس وائرس کو اپنے ساتھ گھر لے آتے ہیں اور اس طرح خود اپنی جان اور اپنے والدین، بال بچوں اور عزیز و اقارب کی زندگیوں کو خطرے سے دوچار کرتے ہیں۔

Advertisements
اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔
إغلاق