fbpx

حق بات کرنے والے ہی جرم کے مرتکب کیوں ؟؟ تحریر: ناصرعلی شاہ

مملکت پاکستان میں ہر ادارے اور اسمیں کام کرنے والوں کے اختیارات متعین ہوتے ہیں یہ بات الگ ہے اپنے کام ٹھیک طریقے سے کرنے کے بجائے دوسروں کے معاملات میں مداخلت ہر ادارے اور لوگوں کی طرف سے جاری و ساری ہے.
شعبہ نرسنگ کا پیشہ نہایت اہمیت کا حامل ہے مگر افسوس پاکستان میں ہمیشہ سے اس پیشے کو دیوار سے لگانے کی کوشش کی جاتی رہی ہے اور آج بھی بادشاہت قائم رکھنے والے عناصر کی طرف سے یہ سلسلہ جاری ہے مگر ایسا چلا تو انجام بھیانک ہوگا کیونکہ اب اچھے برے اور صحیح و غلط کا شعور پیدا ہو چکا ہے. کچھ دن پہلے کچھ عناصر کی طرف سے بلاوجہ ایک نرس کے اوپر تحمت لگا کر ان کو بتہ خور, یرغمالی قرار دیکر کمپلین کیا جا چکا ہے جو کہ سراسر نا انصافی ہے مہنہ پہلے ایک نجی ہسپتال میں ایک نرس جو ایسوسیش سے منسلک ہے ان کے اوپر بھی ایسے ہی کچھ الزامات لگا کر ایف آئی آر کروائی گئی تھی جو بحیثت ڈسٹرکٹ نرسز ایسوسیش پشاور اپنی فرائض منصبی اور اختیارات کے مطابق ہسپتال جاکر ان کے حقوق کی بات کی تھی مگر جلد ہی وہ بھی سرخرو ہوگئی اور یہ مریم امبرین تھی جو اس وبا کے دوران نرسز کے لئے چیختی رہی ہر فورم کے اوپر اٹھائی.
گرچہ میں پروینشل نرسز ایسوسیش سے منسلک ہوں مگر سچ بات ضرور کرونگا جن صاحب کی بات کر رہا ہوں وہ پہلے ہمارے ساتھ ایسوسیش میں شامل تھے میٹنگ ہو یا احتجاج ساتھ رہے ہیں مگر وہ ایسوسیش چھوڑ کر ینگ نرسز ایسوسیش میں شامل ہوگئے یہ شخص نرسنگ پروفیش کی عزت و بقا کی خاطر جاں دینے والا ہے اپنا قیمتی وقت دیکر ہر ہسپتال جاکر نرسز کے لئے بات کرنا اپنے پروفیش کے ساتھ مخلص ہونے کی نشانی ہے ان کی پیشے کے ساتھ والہانہ محبت اور لگاؤ ہے یہ شخص فضل مولا فضل ہے جو صاف گو, ایماندار, اپنے پیشے اور پیشے کے لوگوں کے ساتھ مخلص ہیں آج تک جتنے بھی آواز اٹھائی کسی زاتی فائدے کے لئے نہیں بلکہ اپنے نرسز کے حقوق اور عزت و احترام کی خاط., آئین و قانون کے مطابق حکومت پاکستان کی طرف سے ایسوسیشنز کو اختیار حاصل ہے کہ وہ ناانصافی, غیر انسانی روایہ اور حق تلفی پہ آواز اٹھائے اور ان اختیارات کے مطابق قانون سے تجاوز کئے بیغر نرسز کے لئے آواز اٹھاتے رہے. مگر افسوس پاکستان میں اگر کوئی حق کی بات کرے ان کو دبانے کی کوشش کی جاتی ہے ان کے اوپر الزامات کا بوچھاڑ کیا جاتا ہے چاہے سیاست دان ہو یا سائیسندان, ایسوسیش کا نمائندہ ہو یا عام آدمی ہر سچ بولنے والے کے خلاف عناصر متحد ہو جاتے ہیں یہی ہماری سب سے بڑی بدقسمتی ہے.
اس کیس میں کون سچ ثابت ہوگا کون نہیں یہ الگ قصہ ہے مگر غور کیجئے یہاں کیس بنانے والے کیس بنا کر بھی ہار گئے اور جس کے اوپر الزامات ہیں وہ الزامات کے ساتھ سرخرو ہوگئے ہیں.

Advertisements
اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔
إغلاق