fbpx

خیبرپختونخواپولیس کا ٹیسٹ کیس….محمد شریف شکیب

خیبر پختونخوا حکومت نے تہکال میں شہری پر پولیس تشدد کے واقعے کی عدالتی تحقیقات کا فیصلہ کیا ہے۔تحقیقات 15 روز میں مکمل ہونگی اور ایک ماہ میں رپورٹ منظرعام پر لائی جائے گی۔ مشیر اطلاعات اجمل وزیر نے میڈیا کو بتایا کہ صوبائی حکومت نے خیبر پختونخوا ٹریبونل آف انکوائری آرڈیننس کے تحت ہائیکورٹ کے فاضل جج کی نگرانی میں واقعے کی تحقیقات کروانے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ شفاف تحقیقات سے انصاف کی فراہمی کو یقینی بنایا جاسکے۔ جوڈیشل انکوائری میں تمام ضروری گواہان کے بیانات ریکارڈ ہونگے۔ واقعے کے ذمہ داران کا بلا امتیاز تعین کیا جائیگا اور انھیں قرار واقعی سزا دی جائیگی۔تشدد میں ملوث پولیس اہلکاروں کے خلاف ایکشن لیا گیا ہے ایس ایس پی آپریشنز کو بھی انکے عہدے سے ہٹادیا گیا ہے۔ایس ایچ او تہکال سمیت چار اہلکار پہلے ہی معطل تھے جبکہ ان چاروں معطل اہلکاروں کے خلاف ایف آئی آر بھی درج کی گئی ہے۔ مشیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ اچھے برے لوگ ہر جگہ موجود ہوتے ہیں اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم ان چند برے لوگوں کی وجہ سے پورے معاشرے سے نفرت کرنا شروع کر دیں۔ انہوں نے کہا کہ جس نے بھی یہ درندگی کا کام کیا ہے اسے ضرورسزا ملے گی۔ چند اہلکاروں کی وجہ سے پوری پولیس کو کٹہرے میں نہیں کھڑا کیا جاسکتا۔ انسپکٹر جنرل پولیس کا بھی یہی کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا کی مثالی پولیس کی سزا بھی مثالی ہوگی۔پولیس کی بدنامی کا باعث بننے والے اہلکاروں کی فورس میں کوئی جگہ نہیں۔تہکال واقعے کا پس منظر یہ ہے کہ ایک نوجوان نے نشے میں دھت ہوکر پولیس افسروں کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کئے اور وڈیو کو سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کیا۔ پولیس نے اسے پکڑ کر نہ صرف وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا بلکہ اسے برہنہ کرکے وڈیو سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کردی تاکہ لوگوں پر اپنی دھاگ بٹھاسکیں کہ پولیس کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے والوں کا کیا انجام ہوتا ہے۔سوشل میڈیا پر دونوں وڈیوز نے ہلچل مچادی، پورے صوبے میں پولیس کے خلاف غم و غصے کی لہر دوڑ گئی پشاور سمیت مختلف شہروں احتجاجی مظاہرے شروع ہوگئے اور صوبے میں امن و امان کا مسئلہ پیدا ہوگیا۔اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ واقعے کو سیاسی رنگ دیا گیا، اس میں بھی کوئی دو رائے نہیں کہ دہشت گردی کے خلاف خیبر پختونخوا پولیس نے فرنٹ لائن فورس کا کردار ادا کیا ہے اس جنگ میں ہماری پولیس کو سب سے زیادہ جانی ومالی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔تھانہ کلچر کے خاتمے، پولیس فورس اور عوام کے درمیان فاصلے کم کرنے کے لئے گذشتہ چند سالوں میں کافی اصلاحات بھی لائی گئی ہیں اور پی ٹی آئی کی قیادت کو صوبے کی مثالی پولیس پر فخر ہے اور اس کا تذکرہ ملک کے دیگر علاقوں میں بھی ہوتا رہا ہے لیکن تہکال واقعے نے تھانے کا روایتی کلچر ختم کرنے اورپولیس کو بدلنے کے سارے دعووں پر پانی پھیر دیا ہے۔جس شخص نے پولیس کو گالیاں دے کر وڈیو اپ لوڈ کی تھی وہ اپنے ہوش و حواس میں نہیں تھا۔جن کے ہوش ٹھکانے نہ ہوں وہ دیوانوں جیسی باتیں کرتے ہیں بقول ابن انشاء”دیوانوں کی سی نہ بات کرے تو اور کرے دیوانہ کیا“لیکن پولیس والے تو دیوانے نہیں تھے، وہ مکمل ہوش و حواس میں تھے ملزم کی گرفتاری اور چھترول تک بات قابل اعتراض نہیں، تاہم ملزم کو برہنہ کرنے، جنسی تشدد کا نشانہ بنانے اور پھر وڈیو بناکر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرنے والی بات دیوانگی سے بھی دس قدم آگے ہے۔اتنی بربریت کا سلوک تو شاید مقبوضہ کشمیر میں بھی قابض بھارتی فوج کشمیریوں کے ساتھ روا نہیں رکھتی۔ اس پر عوامی سطح پر شدید ترین ردعمل سامنے آنا فطری امر تھا۔تہکال واقعہ پورے خیبر پختونخوا کی پولیس کے لئے ایک ٹیسٹ کیس بن گیا ہے۔پولیس کے نام پر دھبہ لگانے والوں کو قرار واقعی سزا دینے کی ضرورت ہے تاکہ آئندہ کسی کو سرکاری وردی اوراختیارات کا ناجائز فائدہ اٹھانے کی جرات نہ ہو۔حکومت کو جوڈیشل انکوائری کی رپورٹ ضرور منظر عام پر لانی چاہئے تاکہ واقعے کے پس پردہ محرکات کا بھی عوام کو علم ہوسکے اور پولیس فورس کے ماتھے پر لگنے والا داغ بھی مٹایاجا سکے۔

Advertisements
اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔
إغلاق