fbpx

کیا ہم ایک ایجنڈا آگے لے جارہے ہیں؟….تحریر: اے۔ ایم۔خان

جس دن ورلڈ ہیلتھ ارگنائزیشن نے کورونا وائرس سے پھیلنے والے بیماری کو وباء قراد دی اُس روز سے ایسے سازشی آراء سامنے آرہے ہیں جس سے ایک عام آدمی پریشان اور تذبذب کا شکار ہے۔

Advertisements

ایک دن پشاور میں اپنے فلیٹ کے کمرے میں بیٹھا تھا پولیس آگیا۔ میں حیران بھی ہوگیا اور پریشان بھی۔ پولیس کا کہنا تھا کہ اس فلیٹ میں جو بھی رہائش پذیر ہیں اور ساتھ کوئی مہمان ہے تو میرے ساتھ پولیس اسٹیشن تک آئیں اور اپنا شناخت کرکے واپس آجائیں۔ بعد میں پتا چلا کہ اُس علاقے سے کورونا وائرس سے متاثر ایک مریض بھاگ چُکا تھا، اُس علاقے میں کرایے کے مکانات میں اُس فرد کی تلاش میں یہ کاروائی ہورہی تھی۔

بہرحال ہم چند لوگ گاڑی میں بہت قریب بیٹھے تو میں نے کہا کہ کورونا وائرس کا خطرہ ہے ہم فاصلہ رکھ کر دوسرے گاڑی میں بیٹھ جائیں گے تو اچھا ہوگا۔ پولیس کا کہنا تھا کہ آپ مسلمان ہیں؟ نماز پانچ وقت کاپڑھتے ہیں؟ تو میرا جواب ہاں میں تھا تو اُس نے کہا اگر ایسا ہے تو کوئی وائرس نہیں لگ سکتا؟

باہر دودھ والے کے ساتھ اچھا خاصا گپ شپ تھا، معمول کے مطابق روزانہ ہرصبح باہر دودھ والے کے پاس جاکر دودھ لے آتا۔ وائرس پھیلنے کے بعد ایک روز جب میں نے اُسے دیکھا تو اُس کے پاس نہ ماسک تھی اور نہ احتیاط کر رہا تھا۔ اُس سے مخاطب ہوکر میں نے کہا آپ کاروبار کررہے ہیں۔ روزانہ درجنوں افراد سے آپکا واسطہ پڑتا ہے آپ کو ہم سے زیادہ احتیاط کرنا چاہیے۔ جب میں نے یہ بات کہہ دی تو اُس کا کہنا تھا کہ یہ ایک یہودی سازش ہے کوئی وائرس نہیں ہے۔ اسلام کو ختم کرنے، مسجدوں میں نماز بند کرنے کیلئے یہ سب کچھ کیا جارہا ہے؟

ایک دن،جس علاقے میں میں رہائش پذیر تھا، اُس میں ایک دوکاندار نے مجھ سے کہا کہ آپ تو بالکل غاءَب ہوگئے ہیں باہر نہیں نکل رہے ہیں؟ میں نے کہا، بھائی باہربازار ہے لوگوں کا ہجوم رہتا ہے جس سے وائرس پھیلنے کا خطرہ ہوتا ہے اسی لئے۔ اُس کا کہنا تھا کہ آپ بھی اس پر یقین رکھتے ہیں؟ میں نے کہا، ہاں وائرس ہے اب پوری دُنیا میں پھیل چُکی ہے۔ اُس نے مسکرا کر جواب دیا کہ یہ ایک افواہ ہے؟

چترال میں کورونا وائرس کے حوالے سے بھی سازشی نظریات بام عروج پر تھے اب اس وائرس سے متاثر مریض ۱۵۳ سے زیادہ ہوگئے اور چار لوگ ہلاک ہوگئے تو ایک خوف پیدا ہوگئی ہے لیکن لوگوں میں وائرس کے پھیلاو کو کم کرنے کے حوالے سے احتیاطی تدابیر غیر مطمین ہیں۔

چترال میں ایک گاڑی میں سفر کررہا تھا تو راستے میں ایک نوجواں نے جب وائرس کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک سازش ہے اور اگر اس سے لوگ مررہے ہیں اب تک اُن لوگوں کو اور اُن کے قبرستان کو کیوں دیکھائی نہیں دیا جارہا؟ یہ صرف ایک سازش ہے کوئی وائرس نہیں ہے بس امداد کیلئے ایسا کیا جارہا ہے؟

ایک اور شخص نے، وائرس کے حوالے سے، جب بات ہوئی تو اُس کا کہنا تھا کہ یہ ایک زکام کی طرح ایک بیماری ہے جس سے کوئی نقصان نہیں ہوتا؟ بات کو آگے بڑھاتے ہوئے ایک دوسرے فرد نے کہا کہ ایک دوائی کے کمپنیوں کی ایک چال ہے اور اپنے دوائی بھیجنے کے لئے یہ سب کچھ کر رہے ہیں؟

حتمی فیصلہ کرنے کیلئے یہ قبل ازوقت ہوگا کہ یہ ایک قدرتی جرثومہ ہے یا لیبارٹری میں تیار ہوچُکی ہے؟ کورونا وائرس ایک حقیقت ہے جس سے کوئی انکار نہیں کیا جاسکتا۔ یہ ایک متعدی مرض ہے جس کی نوعیت بعض لوگوں میں کم، بعض میں زیادہ اور بعض میں شدید ہوسکتی ہے جو اُس شخص کی تندرستی اور مدافعتی نظام پر منحصر ہے۔ نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دُنیا میں خم دار لکیر کو خم کرنے کا واحد ذریعہ سماجی اجتماعات اور جسمانی فاصلہ رکھنے کے ساتھ احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل کرنیکی ضرورت ہے۔ اور بعد میں ان سازشی نظریات پر بات کرنے اور تحقیق کا انتظار کرنا ہوگا۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔
إغلاق