تازہ ترین

کابینہ نے لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2019 میں ترامیم اورچترال۔ ایون۔ بمبوریت روڈ کو وفاق سے لیکرسی اینڈ ڈبلیو کی تحویل میں دینے کی منظوری دے دی۔اجمل وزیر

پشاور(چترال ایکسپریس)وزیراعلیٰ کے مشیر اجمل وزیر نے پیر کے روز صوبائی کابینہ کے ایک اجلاس کے بعد کابینہ اجلاس کے فیصلوں کے بارے میں میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہاکہ کابینہ نے لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2019 میں ترامیم کی منظوری دیدی۔ ان ترامیم کا مقصد صوبے میں معاشی سرگرمیوں کے فروغ اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لئے تعمیرات اور نجی ہاؤسنگ کے شعبوں کو زیادہ سے زیادہ سہولیات دینا ہے۔ ان ترامیم کے ذریعے صوبے میں نجی ہاؤسنگ سکیم شروع کرنے کے لئے این او سی کے حصول اور بلڈنگ پلاننگ کے منظوری کے علاوہ دیگر تمام پیچیدہ مراحل کو سہل اور آسان بنادیاگیاہے تاکہ ان شعبوں میں نجی سرمایہ کاری کو راغب کیا جاسکے۔ ترامیم کے ذریعے نجی سرمایہ کاروں اور صارفین کے تمام حقوق کو بھی قانونی تھفظ فراہم کیا گیا ہے۔
اجمل وزیر نے بتایا کہ کابینہ نے سرکاری سطح پر مفاہمت کی یاداشت پر دستخط کے لئے باقاعدہ طریقہ کار کی منظوری دیدی۔ طریقہ کار کے مطابق جن مفاہمت کی یاداشت میں مالی اخراجات یا سرکاری فنڈنگ کے امور شامل ہوں ان کی کابینہ سے پیشگی منظوری ضروری ہوگی۔ تاہم جہاں پر صرف تکنیکی معاونت درکار ہو وہاں پر وزیراعلیٰ سے سمری کے ذریعے منظوری لی جائیگی۔ نئے طریقہ کار کے مطابق محکمے ڈونرز کے ساتھ براہ راست ایم او یوز دستخط کرنے کے مجاز نہیں ہونگے۔

Advertisements

انہوں نے مزید بتایا کہ کابینہ نے خیبرپختونخوا مائینز اینڈ منرلز ایکٹ 2017 میں بھی ضروری ترامیم کی منظوری دیدی جس کے تحت منرلز ٹائیٹل کمپنی میں دو ممبران کا اضافہ کیا گیا ہے۔ کابینہ نے باغ ڈھیری ایریگیشن سکیم ضلع سوات کا نام تبدیل کرکے شموزئی ایریگیشن سکیم رکھنے کی بھی منظوری دیدی۔ اسی طرح کابینہ نے چترال۔ ایون۔ بمبوریت روڈ کو وفاق سے لیکرسی اینڈ ڈبلیو کی تحویل میں دینے کی منظوری دیدی۔ مزید برآں کابینہ نے ڈائیریکٹر ہائیر ایجوکیشن ریسرچ اینڈ ٹریننگ کے لئے پروفیسر تسبیح اللہ کی تقرری کی منظوری دیدی۔ کابینہ نے ترقیاتی منصوبوں کی منظوری کے لئے ڈیپارٹمنٹل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی کا دائرہ اختیار 10کروڑ روپے سے بڑھا کر بیس کروڑ روپے کرنے کی منظور دیدی۔ اب ڈیپارٹمنٹل ڈیویلپمنٹ ورکنگ پارٹی بیس کروڑ روپے مالیت تک کے منصوبوں کی منظور ی دے سکتی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ کابینہ نے سرکاری ہسپتالوں میں طبی عملے کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے قانون کے مسودے پر غور و خوض کے بعد اس کو مزید بہتر بنانے کے لئے صوبائی وزیر صحت کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی جو اس مسودے کو مزید بہتر اور موثر بناکر منظوری کے لئے کابینہ کے اگلے اجلاس میں پیش کریگی۔ کمیٹی کے دیگر ممبران میں صوبائی وزراء سلطان خان، شوکت یوسفزئی، ہشام انعام اللہ اور اکبر ایوب شامل ہونگے۔
کابینہ نے وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی برائے بہبود آبادی احمد حسین کے بھائی افتخار حسین شاہ اور ایم پی اے جمشید کاکا خیل مرحوم کے علاوہ کورونا سے شہید ہونے والے تمام فرنٹ لائن ورکز کے ایصال ثواب کے لئے فاتحہ خوانی کی۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ

زر الذهاب إلى الأعلى