تازہ ترینمحمد شریف شکیب

ڈاکٹروں کوخراج تحسین۔۔۔۔۔محمد شریف شکیب

مہلک عالمی وباء کورونا کے خلاف جنگ میں صف اول پر سرگرم عمل خیبرپختونخوا کا ایک اورسینئرڈاکٹرفرض پر قربان ہوگیا۔ سینئرمیڈیکل آفیسرڈاکٹر ہدایت اللہ وزیر کورونا سے لڑتے لڑتے شہیدہوگئے‘ خیبر پختونخوا میں کوروناسے شہید ہونے والے ڈاکٹروں کی تعداد 16 ہوگئی‘ڈاکٹر ہدایت اللہ وزیر گزشتہ دو ہفتوں سے کورونامیں مبتلا ہونے کے بعد حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں وینٹی لیٹر پر تھے خیبر پختونخوا میں 1850 ہیلتھ ملازمین اب تک کورونا وائرس میں مبتلا ہوچکے ہیں جن میں 856 ڈاکٹرز بھی شامل ہیں صوبیمیں کورونا سے دو نرسیں اور 4 پیرامیڈیکس شہید ہو چکے ہیں۔محکمہ صحت کا ایک اکاونٹنٹ اور2 کلاس فورملازمین اس مہلک وباء کا شکار ہوئے ہیں۔گذشتہ سال دسمبر میں چین سے شروع ہونے والی عالمی وباء سے دنیا بھر میں طب کے شعبے سے وابستہ ہزاروں افراد دوسروں کی جانیں بچاتے ہوئے اپنی جانیں جان آفرین کے سپرد کرچکے ہیں جن میں ڈاکٹرز، نرسیں، ڈسپنسرز،پیرامیڈیکس، معاون سٹاف اور کلاس فورس ملازمین بھی شامل ہیں یہ لوگ حقیقی معنوں میں خود کو قوم کا ہیرو ثابت کرچکے ہیں انہیں بخوبی معلوم ہے کہ کورونا میں مبتلا جس انسان کی جان بچانے کی وہ کوشش کر رہے ہیں ممکن ہے کہ اس کی جان بچ جائے لیکن خود مسیحائی کرنے والوں کی زندگی خطرے میں پڑسکتی ہے۔ لیکن انہوں نے اپنی جانوں کی پروا نہیں کی اور فرض پوری دیانت داری، ایمانداری اور خلوص نیت سے نبھاتے رہے ان کی مثال میدان جنگ کے اگلے مورچے میں بیٹھے اس سپاہی جیسی ہے جس پر دشمن چاروں طرف سے یلغار کرتا ہے مگر وہ ہتھیار پھینکنے کے بجائے آخری سانس تک ان کا مقابلہ کرتا ہے۔اسے معلوم ہے کہ اگر اس نے دشمن کا مقابلہ نہیں کیا تو اس کے ملک اور قوم کی سلامتی خطرے میں پڑسکتی ہے۔اسے یہ بھی معلوم ہے کہ اگر اس نے جنگ میں فتح حاصل کی تو غازی کا درجہ پائے گا اور اگر جان چلی جائے تو شہادت کے عظیم مرتبے پر فائز ہوگا۔کورونا کے میدان کارزار میں نبرد آزما ہمارے ڈاکٹروں، نرسوں اور پیرامیڈیکل سٹاف کو دوہرے خطرات کا سامنا ہے ایک طرف موذی مرض ہر دم ان کی تاک میں ہے تاکہ موقع ملتے ہی ان کا شکار کرسکے تو دوسری جانب ناکافی حفاظتی سامان کی وجہ سے بھی انہیں جان کے خطرے سے دوچار ہونا پڑرہا ہے۔ستم بالائے ستم یہ ہے کہ ہسپتال میں کورونا یا کسی دوسری بیماری میں مبتلا مریض دم توڑ دے تو اس کے ورثاء مشتعل ہوکر ڈاکٹروں اور طبی عملے کو تشدد کا نشانہ بناتے ہیں اس قسم کے واقعات حالیہ دنوں میں ملک کے بیشتر ہسپتالوں میں رونما ہوئے ہیں خیبر پختونخوا حکومت نے ڈاکٹروں اور طبی عملے کی حفاظت کے لئے قانون کی منظوری تو دی ہے مگر اس قانون کا عملی نفاذ اب تک نہیں ہوسکا جس کی وجہ سے طبی عملے کو مریضوں کے لواحقین سے ہمیشہ خطرہ لاحق رہتا ہے۔پراونشل ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کا مطالبہ ہے کہ خیبر پختونخوا کے ڈاکٹروں، نرسوں اور پیرامیڈیکل سٹاف سمیت تمام ہیلتھ ملازمین کو سندھ حکومت کی طرز پر رسک الاؤنس دیا جائے ایڈہاک ڈاکٹرز کو ریگولر کیا جائے‘کوالیفائیڈ ڈاکٹرز کو پی جی ایم ائی کے تحت انڈیکٹ کیاجائے۔پروموشن بورڈ کا اجلاس بلاکرترقیوں سے محروم جنرل اور منیجمنٹ کیڈر کے ڈاکٹروں کا مسئلہ فوری طور پر حل کیا جائے۔یہ وہ اقدامات ہیں جو حکومت ڈاکٹروں کی خدمات اور قربانیوں کے اعتراف کے طور پر اٹھاسکتی ہے۔قوم کو طب کے شعبے سے وابستہ اپنے بیٹوں اور بیٹیوں پر ہمیشہ فخر رہا ہے۔ والدین کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ ان کے بچے پڑھ کر ڈاکٹر بن جائیں اور دکھی انسانیت کی خدمت کریں اس خواب کو تعبیر کا جامہ پہنانے کے لئے والدین اپنے پیٹ پر پتھر باندھ بچوں کی تعلیمی ضرورتیں پوری کرتے ہیں ان کے لئے منتیں مانگتے ہیں اپنی تمام خواہشوں اور ضرورتوں کو تھپکی دے کر سلاتے ہیں اور قوم بھی اپنے محدود وسائل کے باوجود ایک بچے کو ڈاکٹر بنانے پر لاکھوں کروڑوں روپے خرچ کرنے سے دریغ نہیں کرتی۔انسانیت کی بقاء کو خطرے سے دوچار کرنے والے دشمن کے خلاف جنگ میں صف اول پر لڑتے ہوئے اور اپنی جانوں کا نذارنہ پیش کرکے ڈاکٹروں اور طبی عملے نے والدین اور قوم کی توقعات پوری کردی ہیں انسانی زندگیوں کو بچانے کے لئے اپنی زندگیاں داؤ پر لگانے والوں کو پوری قوم سلام پیش کرتی ہے۔

Advertisements

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ

زر الذهاب إلى الأعلى