تازہ ترینڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

داد بیداد…نیشنل پارک………ڈاکٹرعنا یت اللہ فیضی

نیشنل پارک قائم کرنے کا اقدام سر سبز پا کستان کے نام سے وزیر اعظم کے بڑے منصوبے گرین پا کستان پرگرام کا حصہ ہے اور دفتری زبا ن میں اس کو محفوظ علا قوں کی طرف پہل قدمی یا پرو ٹیکٹیو ایریاز انی شے نیو (PAI) کا نام دیا گیا ہے جو لائی کے پہلے ہفتے وزیر اعظم سکرٹریٹ میں 15نیشنل پارکوں کا ایک ساتھ افتتاح ہوا ساتھ ہی میڈیا میں اس حوالے سے مختلف لو گوں کے خیا لات اور بیا نات آنا شروع ہوگئے خا ص کر گلگت بلتستان میں واقع ہندراپ، شندور نیشنل پارک کا بڑا شور وغو غا پڑھنے اور سننے میں آیا اس کی وجہ دو الگ صو بوں کے اندر دو الگ الگ دروں اور وا دیوں میں مشترکہ نا م سے نیشنل پارک بنانے کی تجویز تھی یہ دو وا دیاں ایک دوسرے سے 40کلو میٹر دور واقع ہیں ان میں مر کزی پارک اور شاخوں والا رشتہ بھی نہیں ایک دوسرے کے لئے کور (Core) اور پیریفری (Periphery) بھی نہیں بن سکتے دونوں کے درمیاں لنگر، کو کوش، با ھامشولان گول اور چمارکھان کی وا دیاں حا ئل ہیں ایک جگہ سے کوئی جا نور دوسری جگہ نقل مکا نی نہیں کر سکتا فنی اور تکنیکی لحاظ سے اس کی فیز یبلیٹی یا مو زو نیت پر سوا لات اُٹھا ئے گئے ہیں لیکن اس میں وزیر اعظم سکر ٹریٹ کا کوئی قصور نہیں گلگت بلتستان کی انتظا میہ نے فنی اور تکنیکی امور کو دیکھے بغیر تجویز بنا ئی اور اوپر بھیجدی چیف کنزرویٹر سے آگے فائل کو دیکھنے،پرکھنے کے لئے ٹیکنکل سٹاف نہیں ہوتا یہ کام رینج افیسر، ڈی ایف او، ڈپٹی کنزر ویٹریا کنزرویٹر اور چیف کنز ر ویٹر کا ہے اس سطح پر سنجید گی کا یہ حال ہے کہ ایک بڑے گاوں ہنداراب کا نام لیکر 40کلو میٹر میں وا قع درہ شندور کو اس کے ساتھ ملا یا گیا ہے تکنیکی اور فنی بات یہ ہے کہ ہنداراپ 400گھرانوں کی بستی ہے جس میں 6ہزارنفوس کی آبا دی ہے اس گاوں کے ساتھ ملحق شمال مشرقی درہ شونج گول (Shonj gol) وا قع ہے جس کے اندر خوبصورت جھیل بھی ہے قیمتی نبا تات بھوج اورصنوبر کے جنگلات بھی ہیں ہما لیائی ہرن، چکور، تیتر، بر فانی چیتے، بر فانی ریچھ، بھیڑیے اور دوسرے پہا ڑی چرندے، درندے، پرندے بھی پائے جاتے ہیں اس کی سر حدیں کند یا کوہستان سے ملتی ہیں اس میں اگر نیشنل پارک بنا یا گیا تو اس کا نام شونجو گول (Shonjo Gol) نیشنل پارک ہو گا اور یہ بات رینج افیسر سے لیکر چیف کنزرویٹر تک سب کو معلوم ہے کہ انسانی آبادی میں نیشنل پارک نہیں بنتا انسا نی آبادی میں نیشنل پاک کی مو زو نیت یا فیز یبلیٹی نہیں بنتی نیز دوا یسی وا دیوں کو ملا کر نیشنل پارک نہیں بنا یا جا سکتا جن کے درمیاں 40کلو میٹر کا فاصلہ ہو اور 6دیہات ہیر کوش، ہندراپ، گولاغ موڑی، گولا غ توری، ٹیرو اوربارسد کی 15ہزار آبادی حائل ہو اس آبادی کو چھوڑ کر دونوں وا دیوں میں جا نوروں کے آنے جا نے کا کوئی راستہ نہ ہو اب یہ بھی تکنیکی مسئلہ ہے کہ نیشنل پارک کی تجویز دینے سے پہلے مقا می آبادی کو اعتما د میں لینے کے لئے مشاورتی اجلاس پبلک کنسلٹیشن سیشن منعقد کئے جا تے ہیں استفادہ کند گا ن کا سروے کرا یا جاتا ہے کہ علا قے میں مویشیوں کی چرائی کے حقو ق کنتی آبادی کے پاس ہیں ان کو بے دخل کرنے کے لئے کن شرائط پر معاہدہ کیا جا سکتاہے اور ان کو کسطرح بے دخل کیا جا سکتا ہے

Advertisements

اگر نیشنل پارک کا ایک حصہ 40کلو میٹر کے فا صلے پر دوسرے صو بے کی ملکیتی زمین پر وا قع ہو تو ایک صوبے کے لئے اس کا انتظام سنبھا لنا مشکل سے آگے بڑھ کر نا ممکن ہو جا تا ہے اور اس قسم کی تفصیلات پر غور کرنا وزیر اعظم کی سطح کے حکمران کا کام ہر گز نہیں ما تحت حکام خصوصاً محکمہ ماحو لیات اور محکمہ جنگلات کے حکام اس کی فنی اور تکنیکی تفصیلات کو اچھی طرح دیکھتے اور طے کرتے ہیں فائل جب وزیر اعظم کے دفتر پہنچتی ہے تو ہر لحاظ سے مکمل ہو تی ہے

مو جودہ حا لات میں وزیر اعظم کے مُشیر کا عہدہ ملک امین اسلم کے پاس ہے جن کا نام آئی یوسی این (IUCN)، ڈبلیو ڈبلیو ایف (WWF) یواین ڈی پی (UNDP)اورجیف (GEF) کے سر کلز میں گزشتہ 30سالوں سے مشہور ہے 2001ء میں ریو پلس 20کے مو قع پر مو صوف کو آئی یو سی این کی طرف سے عالمی ایوارڈ بھی مل چکا ہے کنونشن آن انٹر نیشنل ٹریڈ اِ ن اینڈ ینجرڈ سپی شیز (Cities) کی طرف سے بھی ان کی خد مات کا اعتراف کیا گیا ہے ایسے ما حول میں ہنداراپ شندور کے نا منا سب نا م سے گلگت بلتستان اور خیبرپختونخوا ہ کو ملا کر نیشنل پارک بنا نے کی نا مو زوں تجویز بالکل سمجھ میں نہیں آتی اس کے نام سے شندور کو ہٹا یا جائے تو ہندراپ کے گاوں سے ملحق وادی شونجو گول میں نیشنل پارک قائم ہو گا اور اس کا انتظام گلگت بلتستان کی حکومت کے ہاتھ میں ہو گا خیبر پختونخوا کی زمین اور سی پیک کی شاہراہ بھی متا ثر نہیں ہو گی عوامی مشاورت، عوام کی بے دخلی اور عوام کے ساتھ حق استفادہ کے معا ہدوں میں بھی سہو لت رہے گی فنی اور تکنیکی اعتبار سے یہ ایک مو زوں اور منا سب تجویز ہو گی شندور بشقار گول نیشنل پارک الگ منصو بہ ہے جو خیبر پختونخوا کی صو بائی حکومت کے زیر غور ہے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ

زر الذهاب إلى الأعلى