تازہ ترین

وفاقی وزیر داخلہ اعجاز شاہ کا پشاورکا دورہ، وزیراعلیٰ محمود خان سے ملاقات، کورونا کے حوالے سےصوبائی حکومت کی انتظامات کا جائزہ لینے کیلئے اجلاس کی صدارت

پشاور(چترال ایکسپریس)وفاقی وزیر داخلہ اعجاز شاہ نے بدھ کے روز پشاور کا ایک روزہ دورہ کیااور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان سے ملاقات کرکے صوبے میں کورونا کی صورتحال کے علاوہ باہمی دلچسپی کے دیگر اُمور پر تبادلہ خیال کیا۔وزیراعظم کے فوکل پرسن برائے کورونا ڈاکٹر فیصل سلطان بھی اس موقع پر موجود تھے۔

Advertisements

دریں اثناء وفاقی وزیر داخلہ نے کورونا وباء کے پس منظر میں عید الاضحی اور محرم الحرام کیلئے صوبائی حکومت کی تیاریوں اور انتظامات کا جائزہ لینے کیلئے ایک اجلاس کی صدارت کی۔ صوبائی کابینہ کے ممبران تیمور سلیم جھگڑا، اکبر ایوب، کامران بنگش اور سلطان خان، چیف سیکرٹری کاظم نیازاور آئی جی پی ثنااللہ کے علاوہ متعلقہ انتظامی سیکرٹریز اور دیگر اعلیٰ سول اور عسکری حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔ اس موقع پر صوبے میں کورونا کی تازہ ترین صورتحال،عید الاضحی کے موقع پر کورونا وائرس کے ممکنہ پھیلاؤکو روکنے کیلئے کئے گئے انتظامات اور تیاریوں کے علاوہ صوبے کی مجموعی سکیورٹی صورتحال اور آنے والے محرم کے دوران سکیورٹی انتظامات اور دیگر اُمور پر بریفینگز دی گئیں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ عید الاضحی کے موقع پرکورونا وباء کے ممکنہ پھیلاؤ کیلئے ایس او پیز تیار کی گئی ہیں اور اُن ایس او پیز پر عمل درآمد کویقینی بنانے کیلئے تمام متعلقہ محکموں اور اداروں کی ایک مشترکہ حکمت عملی وضع کی گئی ہے۔

ایس او پیز کے تحت شہر کے اندر مویشی منڈیاں لگانے پر پابندی ہے جبکہ شہر کے باہر کھلے علاقوں میں زیادہ سے زیادہ مویشی منڈیاں لگائی جارہی ہیں تاکہ رش کو کم سے کم کیا جا سکے اور سماجی فاصلوں کو یقینی بنایا جا سکے۔ اس طرح بتایا گیا کہ محرم الحرام کے دوران بھی سماجی فاصلوں کو برقرار رکھنے کیلئے ایس او پیز بنائی گئی ہیں جن پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کیلئے اہل تشیع کے علمائے کرام کی خدمات حاصل کی جائیں گی۔مزید برآں محرم الحرام کے دوران سکیورٹی کو یقینی بنانے کیلئے علاقوں کی حساسیت کی مناسبت سے سکیورٹی پلان تشکیل دی گئی ہے۔ وزیر داخلہ نے عید الاضحی اور محرم الحرام کیلئے صوبائی حکومت کی تیاریوں اور انتظامات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اس سلسلے میں صوبائی حکومت کے اقدامات کی تعریف کی۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ

زر الذهاب إلى الأعلى