تازہ ترین

سیلاب سے متاثرہ وادی گولین کے سینکڑوں افراد کا محکمہ واپڈا کے خلاف چترال بونی روڈ پر مشیلک کے مقام پر احتجاج

چترال (محکم الدین) سیلاب سے متاثرہ وادی گولین کے سینکڑوں افراد نے ہفتے کے روز چترال بونی روڈ پر مشیلک کے مقام پر احتجاج کیا۔ متاثرین کامطالبہ ہے۔ کہ گولین سڑک کو نالے کے پانی سے کافی اونچائی پر پہاڑ کاٹ کر تعمیر کیا جائے۔ تاکہ بار بار نقصان سے بچا جا سکے۔ اس موقع پر مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا۔ کہ 108 میگاواٹ گولین ہائیڈل پراجیکٹ کی تعمیر کے وقت ہیڈ تک پہنچنے کیلئے پکی سڑک نالے کے پانی کے ساتھ ساتھ تعمیر کی گئی تھی جو گذشتہ سال کے خوفناک سیلاب میں مکمل طورپر واش آوٹ ہو گیا لیکن افسوس کا مقام ہے کہ محکمہ واپڈا نے سڑک محفوظ جگہوں سے گذارنے کی بجائے دوبارہ اسی مقام سے مرمت کرکے عارضی بحال کر دی۔ اب حالیہ سیلاب نے اسے پھر سے ملیامیٹ کر دیا ہے۔ اور لوگوں کیلئے پیدل راستہ بھی نہیں بچا ہے۔ اس لئے اب اس روڈ کو دریا سے کافی اونچائی پر تعمیر کرکے محکمہ واپڈا خود اپنے آپ کو اور علاقے کے لوگوں کو نجات دلائے۔ مظاہرین کا یہ بھی مطالبہ ہے کہ گولین وادی سے چترال کے کئی علاقوں کو واٹر سپلائی اور سائفن ائریگیشن کے پائپ اسی روڈ سے گزاری جاتی ہیں۔ جس کی وجہ سے سڑک میں نقل و حمل بری طرح متاثر ہو تی ہے اور روڈ کو بھی نقصان پہنچتا ہے اس لئے اب اس سڑک پر سے یہ پائپ لائن بچھانا انہیں کسی صورت منظور نہیں۔ گولین سے تعلق رکھنے والے سوشل ایکٹی وسٹ اور سابق کونسلر سفیراللہ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ لوگ مجبوراً احتجاج کر رہے ہیں کیونکہ ان کی زندگی انتہائی مشکل میں گھری ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف سیلاب سے لوگ متاثر ہیں اور دوسری طرف واپڈا,عوام چترال اور انتظامیہ ان کے ساتھ زیادتی کر رہے ہیں۔ ہر کوئی اپنا مطلب نکالنے میں لگا ہواہے۔ متاثرین کا کوئی پرسان حال نہیں۔ ایک اور معروف سماجی کارکن ریٹائرڈ صوبیدار محمد خان نے فون پر بتایا۔ کہ تین دنوں سے ریسکیو کیلئے ہیلی کاپٹر کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ میڈیکل ٹیم کا انتظار ہو رہا ہے۔ لیکن اب تک نہ ہیلی کاپٹر آیا اور نہ میڈیکل ٹیم کی آمد ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ خود میرے گھر میں ڈیلوری کیس کامسئلہ ہے۔ مجھے سمجھائی نہیں دے رہاکہ میں کیا کروں اور میں باوجود کوششوں کیاسے ہسپتال پہنچانے سے قاصر ہوں۔ کیونکہ جو راستے ریسکیو والوں نے بحال کئے ہیں اس سے صحت مند اور توانا آدمی ہی شاید گذر سکتا ہے کسی مریض کو خصوصاًخواتین کو لے جانا انتہائی مشکل ہے۔ انہوں نے کہاکہ انتظامیہ کی طرف سے پچاس افراد میں فوڈ پیکیج تقسیم کئے گئے ہیں اور مزید پچاس پیکج کوغوزی ہسپتال پہنچائے گئے ہیں۔ لیکن گولین کی تمام آبادی متاثر ہے۔ جن لوگوں کے پاس خوراک کیلئے گندم موجود ہے ان کے پاس اسے پیسنے کیلئے پن چکیاں دستیاب نہیں۔ کیونکہ پن چکیان سیلاب برد ہو چکے ہیں۔ احتجاجی مظاہرین نے کہا کہ پچھلے سال کے سیلاب میں جب وزیر اعظم کی بہن حلیمہ خان گولین میں پھنس گئی تھی تو اگلے روز ہی ہیلی کاپٹر سے اسے ریسکیو کیا گیاتھا اب بار بار مطالبات اور تین دنوں سے انتظار کے باوجود ہیلی کاپٹر کی آمد نہیں ہو رہی۔ احتجاجی مظاہرین نے کہا کہ پہلے روڈ کی تعمیر صحیح معنوں میں کی جائے اس کے بعد واٹر سپلائی سکیمیں بحال کئے جائیں۔ مظاہرین نے کہا کہ ان کے مطالبات منظور نہ کئے گئے تو وہ دھرنا اور بھوک ہڑتال کا راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہوں گے۔ درین اثنا ضلعی انتظامیہ کی طرف سے ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر چترال شہزاد مظاہرین سے مذاکرات جاری رکھے ہوئے ہے۔

Advertisements

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ

زر الذهاب إلى الأعلى