تازہ ترینمحمد شریف شکیب

مسائل کا سرچشمہ….محمد شریف شکیب

خبر آئی ہے کہ فیض آباد میں غربت سے تنگ آکر ایک ہی خاندان کے پانچ افراد نے نہر میں چھلانگ لگاکرخود کشی کرلی۔ریسکیو ٹیموں نے کیو بی لنک کینال سے تین لاشیں نکالی ہیں جن میں فیاض، اس کی بیوی اور ایک بیٹی کی لاشیں شامل ہیں جبکہدو چھوٹی بچیوں کی لاشیں تاحال نہیں مل سکیں، 35 سالہ فیاض نے گھریلو حالات اور غربت سے تنگ آکر اپنی بیوی اور 3 بیٹیوں سمیت کیو بی لنک نہر میں چھلانگ لگادی تھی۔دوسری جانب اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ کورونا کی وجہ سے معاشی سرگرمیاں معطل ہونے کے باعثاس سال کے آخر تک دنیابھر میں 26 کروڑ 50 لاکھ افراد بھوک و افلاس کی صورتحال سے دوچار ہوجائیں گے۔اقوام متحدہ نے غربت کا شکار ہونے والوں کی مدد کے لئے اقوام عالم سے دس ارب ڈالر کی امداد جمع کرنے کی اپیل کی ہے۔ تنظیم نے متنبہ کیا کہ امدادی رقم جمع کرنے میں ناکامی کی صورت میں دہائیوں کی ترقی ضائع ہوجائے گی۔

Advertisements

فیض آباد کے جوانسال فیاض اور اس کے خاندان کا اجتماعی خود کشی کا واقعہ ہمارے ہاں رائج سرمایہ دارانہ نظام کی خرابی اور معاشرے پر اس کے منفی اثرات کا واضح ثبوت ہے۔جب کھانے کو روکھی سوکھی روٹی، پہنے کو مناسب کپڑے اور جوتے اور سرچھپانے کو چھت کی سہولت میسر نہ ہو تو انسان کو جینے کا کوئی مقصد دکھائی نہیں دیتاجب انسان کو چاروں طرف سے اندھیرے ہی اندھیرے نظر آئیں تو وہ زندگی سے بیزار ہوکردنیا کے دکھوں سے نجات حاصل کرنے کے لئے خود کشی کا راستہ اختیار کرتا ہے۔بدقسمت فیاض کسی غار یا جنگل میں نہیں بلکہ گنجان آباد شہر فیض آباد میں رہتا تھا۔ جہاں ہزاروں کروڑ پتی اورسینکڑوں ارب پتی لوگ رہتے ہیں ان کے رشتہ داروں،دوستوں،محلے داروں اور پڑوسیوں کو بھی اس پریشان حال خاندان کے بارے میں ضرور علم ہوگا مگر کسی نے ان کی مدد نہیں کی۔کیونکہ یہاں سب نفسانفسی کا شکار ہیں سب اپناپیٹ بھرنے، اپنے بچوں اور ان کے بچوں کے لئے اثاثے بنانے کے جنون میں مبتلا ہیں۔حکومت سالانہ اربوں روپے زکواۃ کی مد میں بینکوں کے کھاتوں سے زبردستی کاٹتی ہے۔وہ رقم کہاں جاتی ہے آج تک کسی کو پتہ نہیں چل سکا۔سماجی بہبود کے نام پر کروڑوں اربوں روپے بجٹ میں مختص کئے جاتے ہیں غریب، نادار اور بے سہارا لوگوں کی امداد کے لئے بڑے بڑے منصوبوں کا اعلان کیا جاتا ہے مگر فیاض جیسے غریب، نادار اور بھوک کے مارے لوگوں تک وہ امداد نہیں پہنچ پاتی اور قومی خزانے سے نکل کر چند لوگوں کے بینک اکاونٹس میں منتقل ہوجاتی ہے۔ہمارے وزیراعظم نے پاکستان میں کورونا وباء کو روکنے کے لئے مکمل لاک ڈاؤن سے اس وجہ سے انکار کیا تھا کہ اس سے روزانہ محنت مزدوری کرکے گھر کا چولہا گرم رکھنے والا طبقہ افلاس کا شکار ہوگا۔انہوں نے احساس ایمرجنسی کیش پروگرام کے تحت ایک کروڑ سے زائد افراد کو نقد امداد بھی دلائی مگر بدقسمت فیاض وہاں بھی اپنا حصہ پانے میں ناکام رہا۔اور زندہ رہنے کی جدوجہد میں ناکام ہونے کے بعد اپنے پورے خاندان سمیت موت کی وادی میں اتر گیا۔مدینہ کی فلاحی ریاست کو اپنا آئیڈیل قرار دینے والی حکومت کے لئے فیاض کے خاندان کی اجتماعی خود کشی کسی تازیانے سے کم نہیں، مدینہ کی ریاست میں خلیفہ بھیس بدل کر رات کو گلیوں میں گھومتا رہتا تھا کہ کسی گھر سے بھوک کے مارے بچوں کے رونے کی آواز تو نہیں آرہی۔ فاروق اعظم کا یہ قول تو حکمرانوں کو بھی یاد ہوگا کہ اگر دریائے فرات کے کنار ے کتا بھی بھوک سے مرجائے تو حکمران وقت سے اس کے بارے میں پوچھا جائے گا۔اس ملک میں فیاض جیسے افرادکی تعداد لاکھوں میں نہیں کروڑوں تک پہنچ گئی ہے۔ ہمارے ملک کو درپیش اہم ترین مسائل میں بھوک، افلاس، غربت، مہنگائی، بے روزگاری، کرپشن، ناانصافی اور اقرباء پروری شامل ہیں ملک کے مروجہ نظام میں ان سنگین مسائل کا حل موجود نہیں، کیونکہ قیام پاکستان کے بعد گذشتہ 73سالوں میں مروجہ نظام کے ہوتے ہوئے ان مسائل میں کمی کے بجائے اضافہ ہی ہوتا رہا ہے۔اگر حکمران قوم کو درپیش ان سنگین مسائل کو حل کرنے میں واقعی سنجیدہ ہیں تو انہیں نظام کو بدلنے کی کوشش کرنی ہوگی۔اور اسلام کے عادلانہ نظام کو رائج کرنا ہوگا کیونکہ مدینہ کی فلاحی ریاست جمہوری، سرمایہ دارنہ اورجاگیردارانہ نظام کی وجہ سے نہیں بلکہ عدل و انصاف، مساوات، آزادی، احترام انسانیت کے اصولوں کی بنیاد پر کامیابی کی مثال بن چکی تھی۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ

زر الذهاب إلى الأعلى