تازہ ترینخالد محمود ساحر

افلاطون کا نظریہ اور ہمارا تعلیمی نظام…..خالد محمود ساحر

افلاطون ریاست کو ایک تعلیمی ادارہ قرار دیتا ہے جس کا اصل کام علم کی ترویج ہے کیونکہ علم کے ذریعے ہی ریاست میں خوشحالی اور ترقی لائی جاسکتی ہے اور ایک مثالی ریاست قائم کی جاسکتی ہے.
انھوں نے نظام تعلیم کو چار درجوں میں تقسیم کیا ہے. ابتدائی تعلیم,ثانوی تعلیم,اعلی تعلیم اور اعلی ترین تعلیم۔
پہلے درجے میں طالب علم کو نہ صرف دماغی تربیت بلکہ جسمانی ورزش میں بھی مہارت دی جاتی ہے جس میں درس گاہ دماغی ورزش گاہ کی حیثیت رکھتی ہے۔یہاں طالب علم تبادلہ خیالات اور بنیادی طور پر لکھنا پڑھنا سیکھتا ہے.
اس کے بعد امتحان کے ذریعے انتخاب ہوتا ہے جو طالب علم آئندہ تعلیم کیلئے نااہل ثابت ہوتے ہیں انھیں سب سے نچلے درجے میں رکھا جاتا ہے اور انھیں کسان مزدور اور تجارت پیشہ بنا دیا جاتا ہے۔

Advertisements

جو طالب علم اس امتحان میں پاس ہوتے ہیں انھیں درسگاہ میں مزید تعلیم دی جاتی ہے۔اب ان کامیاب طلباء کا سائنسی علوم کی تکمیل کے بعد امتحان ہوتا ہے اور اس امتحان میں ناکام ہونے والے طلباء کو متوسط درجہ میں رکھا جاتا ہے اور انھیں سپاگری کا کام سونپ دیا جاتا ہے تاکہ وہ ریاست کی حفاظت کا کام کریں۔
مثالی جمہوریہ میں سپاہی کا کردار بہت اہم ہے۔سپاہی کو جارہانہ قوت کیلئے نہیں بلکہ مدافعت کیلئے ہونا چاہئیے۔دشمن اپنی دھمکیوں سے صرف اس وقت باز آتا ہے جب وہ اپنے سامنے ایک ناقابل تسخیر فوج کو دیکھتا ہے۔
اب اسکا تیسرا اور اعلی ترین درجہ شروع ہوتا ہے۔اس اعلی ترین درجے میں مسلسل تعلیم حاصل کرنے کے بعد حقیقی حکمران جنم لیتے ہیں جو ریاست کے عوام کے مسائل ختم کرنے کے اہل ہوتے ہیں۔
افلاطون کے اس نظریہ تعلیم کے مطابق اب تک تعلیم کے چار درجے ہوچکے ہیں جسکے پہلے درجے میں طلباء کو ابتدائی تعلیم دی جاتی ہے دوسرے درجے میں امتحان کے بعد ان کو کسان مزدور تاجر وغیرہ میں منقسم کرکے پاس ہونے والوں کو تیسرے درجے میں داخل کیا جاتا ہے،تیسرے درجے میں سپاہی پیشہ لوگ اور چوتھے درجے میں حکمران۔
اس نظام کے تحت ہی اعلی ترین اور منصفانہ ریاست کا قیام ممکن ہے۔

افلاطون کا نظریہ بے شک بے نظیر ہوسکتا ہے لیکن ہمارے نظام میں مکمل طور پر کارگر ثابت نہیں ہوسکتا لیکن اسکے چند پہلوؤں پر غور کیا جائے تو بہترین ریاست کی تشکیل میں موثر ثابت ہوسکتے ہیں۔
افلاطون کا یہ نظریہ ہمارے رائج شدہ نظام کا کبھی بھی متبادل نہیں ہوسکتا البتہ اس سے سبق لیکر ہمارے نظام تعلیم میں بہتری کی گنجائش پیدا کی جاسکتی ہے۔
ہمارے نظام تعلیم میں بنیادی تعلیم کو اتنی اہمیت نہیں دی جاتی جتنی ثانوی اور اعلی تعلیم کو دی جاتی ہے۔
افلاطون کے نظریے کے مطابق ابتدائی تعلیم انتہائی اہمیت کی متحمل ہے جو شخصیت سازی میں بنیاد کا کردار ادا کرتی ہے۔
بہترین شخصیت بہترین معاشرے کی اکائی ہے اور ایک بہترین معاشرے کی تشکیل کیلئے اس کے بنیاد کا مضبوط ہونا لازمی ہے۔
اس لئے ہمیں اس نظریے کے مطابق پہلے درجے یعنی ابتدائی تعلیم کو ذیادہ اہمیت دینی چاہیے۔
افلاطون کے مطابق دوسرے درجے کا طالب علم غور و فکر اور تحقیق کرنے کا اہل ہوتا ہے اور اسکا ذہن پہلے درجے سے گزر کر پختہ ہوجاتا ہے اور ایک خاص نصاب پر غور و فکر اور تحقیق کرنے کے قابل ہوجاتا ہے لیکن ہمارے نظام میں یکسان نصاب کے بجائے مختلف نصابوں کو قلیل مدت کیلئے پڑھایا جاتا ہے جس میں طالب علم کو پختگی اور مہارت حاصل نہیں ہوتی۔
ہمارے نظام تعلیم میں یکسان نصاب متعارف کرانا وقت کی اشد ضرورت ہے۔
تیسرے درجے میں طالب علم ایک خاص علم و فن کا ماہر ہوتا ہے اور اس میدان کا محقق و معلم بن جاتا ہے۔
بہترین نظام تعلیم میں علم فنون کو بھی ایک منفرد مقام حاصل ہے لیکن ہمارے نظام تعلیم میں اس کو قلیل اہمیت دی جاتی ہے۔
ایک کامیاب اور کارآمد معاشرے کے فرد علم و فنون میں ماہر ہوتے ہیں
ہم روایتی تعلیمی نظام کے ہاتھوں جکڑے ہوئے ہیں اور اس نظام میں تبدیلی وقت کا تقاضا ہے۔ہمیں اب علم و فنون کی طرف بھی متوجہ ہونا چاہئیے اور ہمارے ملک میں تکنیکی تعلیم پر ذیادہ زور دینا چاہئے۔
ملک میں تکنیکی تعلیمی اداروں کا قیام عمل میں لانا چاہئیے۔
علم و فنون مسلمانوں کے اباواجداد کا سرمایہ اور مسلمانوں کی وراثت ہے اور ہمیں اس کھوئی ہوئی میراث کو دوبارہ حاصل کرنا چاہئیے۔
علم سے انسان کے ذہن,صلاحیت,سیرت اور شخصیت کی بہترین تکمیل ہوتی ہے۔مکمل شخصیت کا حامل فرد ہی اجتماعی فلاح و بہبود میں بہترین کردار ادا کرسکتا ہے۔
(الحدیث:بے شک تعلیم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے)

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ

زر الذهاب إلى الأعلى