تازہ ترین

سیکرٹری ریلیف عامر لطیف کی چتر ال آمد، گولین کے متاثرین سے نہ ملنے پر متاثرین کی دل شکنی ہوئی۔

چترال (محکم الدین) سیلاب سے متاثرہ گولین ویلی کے لوگوں نے کہا ہے۔ کہ سیکرٹری ریلف عامر لطیف کے دورہ چترال سے اُنہیں یہ امید تھی۔ کہ وہ گولین ویلی آکر متاثرہ دیہات کا خود مشاہدہ کریں گے۔ اور اُن کی مشکلات کا خود جائزہ لیں گے۔ لیکن افسوس کا مقام ہے۔ کہ سیکرٹری موصوف چترال آنے کے باوجود گولین کے متاثرین سے نہ مل سکے۔ اور نہ اُن کی مشکلات کا اندازہ لگا سکے۔ جس سے تمام متاثرین کی انتہائی دل شکنی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ چودہ دنوں سے سیلاب کے باعث وہ انتہائی تکلیف میں وقت گزار رہے ہیں۔ وادی میں لوگوں کو خوراک کا مسئلہ درپیش ہے۔ پینے کے پائپ اور نہروں کی بحالی ممکن نہیں ہوئے۔مکانات، کھڑی فصلیں باغات ملیامیٹ ہو چکے ہیں اور جو سیلاب سے بچ گئے ہیں۔ وہ نہری نظام تباہ ہونے سے پانی کی عدم دستیابی کے باعث سوکھ کر ختم ہو رہے ہیں۔ جبکہ وادی میں چھ سو گھرانوں پر مشتمل آبادی محصور زندگی گزارنے پر مجبور ہو چکی ہے۔

Advertisements

گولین سے فون پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے سابق کونسلر اور سماجی شخصیت سفیراللہ نے کہا کہ گولین کے متاثرین گولین وادی میں بڑی تعداد میں سیکرٹری ریلیف کے استقبال کرنے اور اپنی مشکلات اُنہیں دیکھانے کیلئے جمع ہوئے تھے۔ لیکن طویل انتظار کے بعد معلوم ہوا۔ کہ سیکرٹری عامر لطیف مشیلک کے مقام پر آکر واپس چلے گئے ہیں۔ جس پر متاثرین کو شدید ذہنی کوفت ہوئی۔ تاہم سیکرٹری نے ریلیف کے کاموں میں تیزی لانے کے حوالے سے جو ہدایات دی ہیں۔متاثرین نے اس پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ اور اس توقع کا اظہار کیا ہے کہ ڈسٹرکٹ ڈیزاسٹر منیجمنٹ اور متعلقہ ادارے ان ہدایات پر عمل کریں گے۔ سفیر اللہ نے کہا کہ گولین میں اصل متاثرین کے علاوہ بھی لوگ متاثر ہیں۔ کیونکہ پوری آبادی محصور ہو چکی ہے۔ اس لئے خوراک سب کی اشد ضرورت ہے۔ اس لئے گولین کے لوگوں نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت اگر مفت خوراک سب کو مہیا نہیں کرتی تو سبسڈائزڈ ریٹ پر اُنہیں گندم فراہم کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ راستے بند ہونے کے سبب دو بچوں کی پیدائش گھروں میں ہوئی۔ جنہیں ریسکیو کرکے ہسپتال پہنچانے کیلئے ہیلی کاپٹر طلب کیا جا رہاتھا۔ سفیر اللہ نے کہا۔ کہ متاثرین کو عید بھی محصور حالت میں گزار نی پڑے گی۔ کیونکہ اب بھی روڈ کی بحالی کا بہت کام باقی ہے۔ راستے کی خرابی کے باعث علاقے کے لوگ اپنے مال مویشی بھی عید قربان میں فروخت کیلئے مارکیٹ نہیں لا سکے۔ جو کہ سال میں اُن کی آمدنی کا بڑا ذریعہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ متاثرین نے فوری فوڈ پیکج ودیگر سامان کی فراہمی پر ضلعی انتظامیہ، الخدمت فاوندیشن، ریڈ کریسنٹ وغیرہ کا شکریہ ادا کیا ہے۔ تاہم یہ امداد صرف ان لوگوں کو فراہم کی گئی ہے۔ جو انتہائی مشکل سے دوچار تھے۔ اب بھی علاقے کی بڑی آبادی کوخوراک کی اشد ضرورت ہے۔ متاثرین کا مطالبہ ہے۔ کہ سڑک کو دن رات کام کرکے مکمل کیا جائے تاکہ لوگ آزادہو کر وادی سے باہر اپنی ضروریات کیلئے جا سکیں۔ فی الحال آمدورفت انتہائی مشکل ہے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ

زر الذهاب إلى الأعلى