fbpx

کرپٹ سیاسی نظام اور بے لگام نوکر شاہی..قسط2……تحریر:تقدیرہ خان

علم سیاسیات کا تعلق انسانی معاشرے سے ہے جس کی بنیاد انسانوں کے باہمی تعلقات، ضروریات اور نفسیات سے ہے۔ قرآن کریم میں فرمان ہے کہ اے لوگو! میں نے تمہیں ایک مرد اور عورت سے پیدا کیا اور پھر اسی سے تمہاری نسل آگے بڑھائی۔ تخلیق کائنات کے بعد تخلیق آدم کا ذکر کثرت سے ہوا اور انسان کی زندگی کے جتنے پہلوؤں پر روشنی ڈالی گئی اس کا تعلق انسانی رویوں، ضروریات زندگی، باہمی تعلقات اور نفسیاتی مسائل سے ہے۔ سیاست کا مطلب انسانوں کا آپس میں میل جول اور زندگی کے مختلف حوالوں سے رابطہ ہے۔ ہر انسان ہرکام خود نہیں کر سکتا۔ اسے اپنی روزمرہ زندگی میں ایسے کام درپیش ہوتے ہیں جس میں اسے دوسروں کی مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔ خدا کی عطا کردہ نعمتوں اور ماحول میں رہتے ہوئے ابتدأ میں اسے ماں باپ کی شفقت، محبت اور زندہ رہنے کے لیے مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔ آگے چل کر اسے تعلیم حاصل کرنے اور کوئی فن سیکھنے کے لئے معاشرے اور ریاست کے وجود کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ وہ دوسرے انسانوں سے علم حاصل کرکے زندگی میں ترقی کر سکے۔

Advertisements

کسان غلہ پیدا کرتا ہے، پارچہ باف کپڑا بنتا ہے، مزدور اور ہنرمند مکان تیار کرتا ہے، بڑھی لکڑی کا کام کرتا ہے،لوہار اوزار بناتا ہے، استاد انسانوں کی تربیت کرتے اور انہیں علم سکھلاتے ہیں۔ اسی طرح معاشرے کے چند لوگ جنہیں معاشرے کے سبھی افراد مل کر ان پر اعتماد کرتے ہوئے انہیں معاشرتی بھگاڑ اور لوگوں کے باہمی اختلافات دور کرنے اور معاشرے میں اعتدال برقرار رکھنے کے لئے روایات اور اخلاقیات کے اصولوں پر مبنی قوانین بنانے اور پھر ان قوانین کے اطلاق اور نفاذ کی اجازت دیتے ہیں تاکہ معاشرے اور ریاست کے عام لوگ اپنے اپنے کاموں میں مصروف ر ہیں۔ انہیں معاشرے اور ریاست کے اندر رہتے ہوئے ہر طرح کی آزادی ہو اور وہ قانون کے تابع زندگی کی لذتوں سے فائدہ اٹھا سکیں۔ وہ لوگ جنہیں عوام یہ حق دیتے ہیں ضروری ہے کہ معاشرے میں ان کا اخلاقی، علمی، ادبی اور عقلی معیار بلند ہو اور ان کا کردار ہر لحاظ سے مثالی ہو۔

یونانی فلاسفہ کے نزدیک کردار واخلاق کا کوئی معیار نہ تھا۔ وہ روایات اور علم و عقل کے قائل تھے اور آداب کا معیار بھی سطحی تھا۔ ان کے نزدیک عورت کے کوئی حقوق نہ تھے اور نہ ہی عوام کے بچوں کی تعلیم و تربیت ریاست کی ذمہ داری تھی۔ وہ خدا کے وجود کے بھی قائل نہ تھے اور دیوی دیوتاؤں کی پوجا کرتے تھے۔ یونانی حکمأ نے سیاسیات، زراعت، معاشیات، جنگلات، حیوانات، معدنیات، فلکیات، فلسفہ، حساب اور دیگر علوم پر صیغم کتابیں لکھیں مگر اخلاقیات اور روحانیت کے اصولوں کو اجاگر کرنے سے قاصر رہے۔ اس کی بڑی اور بنیادی وجہ یونانی ریاستوں کے شہروں کی کم آبادی اور قبہ تھا۔ فلپ کے بعد سکندر نے فتوحات کا سلسلہ شروع کیا مگر وہ مفتوعہ علاقوں پر اپنا اخلاقی اثر چھوڑنے سے قاصر رہے۔ ان کی تعلیمات اور طریق حکمرانی سے مفتوعہ ممالک کے عوام کوئی فائدہ نہ اٹھا سکے اور نہ ہی وہ آریاؤں، دردوں، بدھ مت اور اسلام کی طرح کوئی سیاسی و اخلاقی نظام وضع کر سکے جس کے بل بوتے پر ایک مضبوط نظام حکومت اور فلاحی معاشرہ وجود پذیر ہوتا۔ کنفیوشس اور ہمورابی کے بعد کوئی مذہب و عقیدہ ایک معاشرتی، اخلاقی، سیاسی، معاشی و معاشرتی نظام وضع نہ کر سکا جو آئین و قانون کے دائرے میں رہ کر انسانی فلاح و اصلاح کی روشن مثال ہو۔ حضرت عیسیٰ ؑ کے چھ سو دس سال بعد آپؐ پر پہلی وحی کا نزول ہوا اور پھر بیس سالوں کے قلیل عرصہ میں سارا عالم انسانیت نور ہدایت سے چمک اٹھا۔ قیصر وکسریٰ کا ظالمانہ اور جابرانہ نظام ڈگمگانے لگا اور ہند کے ظلمت کدے میں علم و ہدایت کا سورج طلوع ہونے لگا۔ آپؐ کے وصال کے بعد خلیفہ دوئم حضرت عمر خطابؓ کے دور حکومت میں مسلمان مبلغین چین تک جا پہنچے اور ذہنوں کی تبدیلی اور دلوں کی تسخیر کا سلسلہ تیزی سے پھیلنے لگا۔ مسلمان علمأ اور فقہأ نے کسی بھی جگہ جاری نظام کو ترک نہ کیا بلکہ اس کی خامیاں دور کرکے اصلاح معاشرہ اور فلاح انسانی کا عالمگیر حکومتی نظام پیش کیا جو آج بھی کسی نہ کسی صورت میں جاری ہے۔
اسلام کی آمد سے پہلے برصغیر پاک و ہند میں چانکیائی نظام حکومت نافذ تھا جس کی بنیاد جبرواستحصال اور غلامی پر استوارتھی۔ ہندو ازم، بدھ ازم اور جین مت کے ادوار میں جو قوانین نافذ ہوئے اس کا مرکز بادشاہ کی ذات اور خواہشات تھیں۔ شاہی خاندانوں کے بعد مندروں، معبدوں اور خانقاہوں کے پجاری قوت اور قانون کے مراکز تھے اور ان کی خواہشات قانون کا درجہ رکھتی تھیں۔

گیارھویں اور بارھویں صدی میں ترکوں نے ہندوستان میں قدم رکھا تو تب ہندوستان میں کوئی مرکزی حکومت نہ تھی۔ سارا برصغیر پندرہ سو راجواڑوں میں بٹا ہوتا تھا اور راجگان عیش و عشرت کے علاوہ باہمی جنگوں میں الجھے رہتے تھے۔ پرتھوی راج چوہان سلطان شہاب الدین غوری کے مقابلے پر آیا تو اس کی مدد کے لئے دو سو راجگان اپنی فوج کے ہمراہ ترائن کے میدان میں اترے۔

سلاطین دہلی کا طرز حکمرانی اسلامی اصولوں اور مقامی روایات سے ہم آہنگ تھا۔ ہندوؤں اور دیگر مذاہب کے مذہبی معاملات، رسم ورواج اور اخلاقی روایات کا احترام کیا جاتا اور انہیں مذہبی اور معاشرتی معاملات میں مکمل آزادی حاصل تھی۔ صرف ستی کے قانون میں تبدیلی کی گئی اور ستی کی خواہش رکھنے والی عورت کے لئے ضروری تھا کہ وہ بادشاہ سے اجازت نامہ حاصل کرے۔ اس قانون کا مقصدایک زندہ عورت کو جل مرنے سے بچانا تھا۔
ترکوں کے بعد مغل جو تیموری ترک تھے ہندوستان میں آئے تو سلاطین دہلی کے بنائے ہوئے قانون کو نہ چھیڑا۔ سلاطین دہلی کے ادوار میں برصغیر دس صوبوں پر مشتمل تھا۔ ہر صوبے میں ایک گورنر تعینات کیا جاتا جسکے ماتحت صوبے میں ایک نائب گورنر تعینات کیا جاتا جو اعلیٰ سرکاری افسر ہوتا۔ گورنر کی موت، معزولی، تبدیلی اور صحت کی خرابی کی وجہ سے غیر حاضری کی صورت میں وہ گورنر کے اختیارات استعمال کرتا اور اس کا دفتر اور عملہ مستقل ہوتا۔ نائب گورنر یا دیوان کا چناؤ قاضی کونسل کرتی جو اس کی تعلیم، انتظامی صلاحیتوں اور کردار کو مدنظر رکھتے ہوئے تعیناتی کی سفارش کرتی۔ نائب گورنر کے لئے مذہب کی کوئی قید نہ تھی۔ دیوانی اور فوجداری عدالتیں قاضی کونسل اور گورنر کے ماتحت شرعی احکامات کی روشنی میں فیصلے کرتیں۔ جبکہ غیر مسلموں کے مذہبی معاملات مندروں کے پجاری حل کرتے تھے۔

دیوان یعنی نائب گورنر کے بعد فوجدار اوّل اور دوئم کے عہدے تھے۔ فوجدار اوّل صوبائی فوج کا جرنیل ہوتا تھا جسے کورکمانڈر بھی کہہ سکتے ہیں۔ فوجدار اوّل گورنر اور بادشاہ کے ماتحت کام کرتا۔ اس کے ماتحت جاگیردار ہوتے جو بوقت ضرورت اسلحہ بردار سپاہ اور جنگی گھوڑے مہیا کرتے تھے۔ سپاہ کی تربیت، تنخواہ اور گھوڑوں کی پرورش کی ذمہ جاگیردار کی تھی جس کی وجہ سے وہ ٹیکس ادا نہ کرتے۔ تاریخ فرشتہ کے مطابق شیر شاہ سوری کا باپ سہسرام میں پندرہ گھوڑوں کی جاگیر کا مالک تھا جو سب سے چھوٹا اور کم آمدنی والا جاگیردار کہلاتا تھا۔
فوجدار دوئم صوبے کا آئی جی ہوتا جو چھوٹی موٹی بغاوتوں کے علاوہ چوروں، ڈاکوؤں اور جرائم پیشہ لوگوں کا خاتمہ کرتا اور بوقت ضرورت فوج سے بھی مدد لیتا۔ یہ دونوں عہدے بھی مستقل تھے جنہیں خزانے سے تنخوائیں اور مراعات ملتی تھیں۔

ہر صوبے میں صدر کا مستقل عہدہ تھا جس کے اختیارات دیوان سے زیادہ تھے۔ اس کا کام سرکاری زمینوں کا خیال رکھنا اور ان لوگوں میں زمین تقسیم کرنا تھا جو زراعت میں دلچسپی لیتے اور باغبانی کا شوق رکھتے تھے۔ وہ کچھ عرصہ کے لئے کسانوں، باغبانوں، چرواہوں، گلہ بانوں اور بے زمین افراد کو مفت زمین آلاٹ کرتا۔ پیداوار شروع ہونے تک ان پر کوئی ٹیکس نہ ہوتا۔ پیداوار کے پہلے پانچ سال بھی ٹیکس سے مستثنیٰ ہوتے جبکہ گلہ بانوں، باغبانوں، چروائیوں اور چھابڑی والوں پر بھی کوئی ٹیکس عائد نہ تھا۔ صدر علم کا خزانہ اور کردار کا مجسمہ تصور کیا جاتا۔ وہ اپنی صوری اور معنوی خوبیوں کی وجہ سے باعث تعظیم و تکریم سمجھا جاتا۔ قاضی اور وزیر عدل اس کے ماتحت کام کرتے۔ عامل کا عہدہ بھی مستقل تھا جس کے ذمہ مالیہ اکٹھا کرنا تھا۔ اسے ایک حد تک انتظامی اور قانونی اختیارات حاصل تھے۔ کسانوں کے شورش اور بغاوت پر وہ کوتوال سے مدد لیتا اور زمین خالی کروا کر ایسے کسانوں کو دیتا جو محنتی اور جفاکش ہوتے۔ وہ ہر پانچ سال بعد زمین کی پیمائش کرواتا اور قابل کاشت زمین کے رقبے میں اضافہ کی سعی کرتا۔ اس کا عہدہ تحصیلدار یا افسر مال کے برابر ہوتا۔ پٹواریوں کے رجسٹروں کی جانچ پڑتال عامل کی ذمہ داری تھی۔ کسانوں کے حالات، پیداوار کے معیار اور پٹواریوں کے خلاف شکایات سننا اس کی ذمہ داری تھی۔ ہر دو ماہ بعد وہ علاقے کا دورہ کرتا اور جو پٹواری یا قانون گو خلاف ضابطہ کام کرتے، رشوت لیتے، کسانوں پر بوجھ بنتے اور ریکارڈ میں ردوبدل کرتے انہیں موقع پر گرفتار کرکے قاضی کی عدالت میں پیش کرتا۔ قحط سالی، آفات اور دیگر مشکلات کی صورت میں مالیے میں کمی کرتا۔ ایسی بیوائیں جو خود کھیتی باڑی کرتیں ان کا مالیہ بچوں کی بلوغت تک معاف کردیا جاتا اور ان کی حفاظت چوہدری، نمبردار یا علاقہ مجسٹریٹ کی ذمہ داری ہوتی۔ بخشی یا صوبائی سیکرٹری خزانہ کی ماتحتی میں کئی میر بخشی ہوتے۔ میر بخشی تحصیل، ضلعے اور صوبے کی سطح کے تمام سرکاری افسروں کی تنخواہ اور مراعات کا ریکارڈ رکھتا۔ خزانہ دار سرکاری رقوم کا حساب رکھتا۔ یہ صوبائی سطح کا بنک تھا جہاں خزانہ رکھا جاتا۔ خزانچی آمدن اور اخراجات کے دفتروں کا ذمہ دار ہوتا اور ہر ماہ وہ تبقچی یعنی چیف سیکرٹری کے ذریعے اپنی رپورٹ گورنر اور بادشاہ کے دفتر بجھواتا۔

تبقچی یعنی چیف سیکرٹری صوبے کا محتسب اعلیٰ اور انتظامی امور کا نگران ہوتا۔ ہر سطح کے قانون گو،وقائع نویس، حساب دان اور دیگر افسران پر نظر رکھنا اس کی ذمہ داری تھی۔ فوجدار دوئم انسپکٹر جنرل آف پولیس کے ماتحت آبادی کے لحاظ سے کوتوالیوں کا نظام تھا۔ بڑے شہروں کے کوتوال ڈی آئی جی کے عہدے اور چھوٹے شہروں اور ضلعوں کے کوتوال ایس پی اور ڈی ایس پی کے عہدے کے برابر ہوتے۔ ان کے ماتحت دروغے یعنی تھانیدار ہوتے۔ بعض کوتوالیوں میں بھی دروغے تعینات ہوتے جن کا عہدہ ایس پی کے برابر ہوتا۔ کوتوالی کا نظام اس قدرفعال تھا کہ کوئی مجرم ان کی دسترس سے بچ کر نہ نکلتا۔ کوتوال قاضی کے ماتحت کام کرتا تاکہ مجرموں کو جلد اور قرار واقعی سزائیں دے کر معاشرے میں امن بحال رکھا جاسکے۔

ہر سطح کے عہدیدار حتیٰ کہ گورنر اور قاضی بھی سزا سے بچنے کا تصور نہ کرتے تھے۔ غلطی تسلیم کر لی جاتی چونکہ وقائع نویس ہر واقعہ کی رپورٹ لکھتے اور معلومات عام لوگوں سے اکٹھی کرتے۔ کوئی شخص جھوٹی خبر نہ دیتا۔ بصورت دیگر اسے سخت اور کڑی سزا ملتی۔
وقائع نویس پوری جانچ پڑتال کے بعد متعلقہ افسر یا شخص چاہے وہ کسی مرتبے یا عہدے کا ہو سے رابطہ کرکے مطلع

کرتا کہ تمہارے خلاف شکایت مبنی برحقیقت ہے۔ مباداکہ بادشاہ کو کسی اور ذریعے سے خبر ملے جو تمہاری عزت،جان و مال بلکہ اولاد کے لئے ذلت و رسوائی کا باعث ہو،اپنا جرم قبول کر لو۔ لوگ اس اطلاع پر اپنی غلطی کی تلافی کرتے، عہدہ چھوڑ دیتے اگر سرکاری مال چرایا ہوتا تو واپس کرکے معافی نامہ لکھ دیتے۔ وقائع نویس اس کی اطلاع تبقچی، صوبیدار (گورنر) قاضی اور بادشاہ کو دیتا اور معافی نامہ قبول کرنے کی سفارش کرتا۔ مرکزی حکومت معافی نامہ قبول کرنے کے بعد متعلقہ افسر کی جگہ نیا اور دیانتدار افسر تعینات کرنے کا حکم جاری کر دیتی۔
مغلیہ دور میں مرکز کے پاس نو محکمے تھے جن میں وزیروں کے علاوہ سیکرٹری اور ان کا عملہ تعینات ہوتا تھا۔ دیوان یعنی وزیراعظم اور وزیر قانون کا عہدہ بادشاہ کے بعد انتہائی اہم تھا۔ اخلاق عامہ کے احتساب کا محکمہ بھی اہم تھا جس کے سامنے بادشاہ اور حرم سرا بھی جوابدہ تھے۔ اسی طرح داروغہ ڈاک چوکی کا محکمہ تھا۔ یہ مرکزی سراغ رسائی کا محکمہ تھا جس کے نمائندے ہر جگہ موجود ہوتے تھے۔ جگہ جگہ تازہ دم گھوڑے نمائندوں کو لانے اورلے جانے کے لئے موجود ہوتے۔ یہ نمائندے ملک بھر سے خبریں جمع کرکے دروغہ ڈاک چوکی کے دفتر لاتے۔ دروغہ چوکی کے ماتحت خبر نویس اور خبررساں موجود رہتے جو ہر ہفتے اہم خبروں کی سمری بادشاہ کو بھجواتا۔ اہم نوعیت کی خبروں اور اطلاعات کو انتہائی سنجیدگی سے لیا جاتا۔ بادشاہ کو بستر سے جھگا کر، محفل اور تخت سے اٹھا کر حتیٰ کہ غسل خانے کا دروازہ کھٹکھٹا کی خبر دی جاتی۔۔۔۔۔۔۔۔ (جاری ہے)

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
إغلاق