fbpx

سائنس اور چاند دیکھنے کا تنازعہ۔۔۔۔ محمد شریف شکیب

مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین مفتی منیب الرحمان نے رویت ہلال کے تنازعے پرسائنس و ٹیکنالوجی کے وفاقی وزیر فواد چوہدری کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا ہے کہ فواد چوہدری خود کو سائنس کا امام سمجھتے ہیں جو ان کی جہالت ہے ان کا دعویٰ کیا کہ سائنس اور مذہب دونوں اعتبار سے رویت ہلال کمیٹی کا ذوالحج کے چاند کے حوالے سے فیصلہ درست تھا۔ قمری ماہ کی29 تاریخ کوچاند غروبِ آفتاب کے بعد موجود ہو مگر نظرنہ آئے تو مہینہ 30 کا ہوگا اور اگلی شام تک اس کی عمر 24 گھنٹے بڑھ جائیگی اس لیے نسبتاً بڑا نظر آئیگا۔

Advertisements

وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے ذی الحج کے چاند سے متعلق دعویٰ کیا تھا کہ چاند 21 جولائی کو نظر آئیگا اور عید الاضحی 31 جولائی کی ہوگی تاہم مرکزی رویت ہلال کمیٹی نے ملک بھر میں 21 جولائی کو چاند نظر نہ آنیکا اعلان کیا۔دریں اثناء چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل قبلہ ایاز نے تجویز دی ہے کہ رویت ہلال کا تصورپورے خطے تک پھیلا دیا جائے، ایک دن عید یا رمضان کیلئے خطے میں کہیں بھی رویت کااعلان کیاجا سکتا ہے کئی علاقوں میں لوگ چاند کی جگہ کچھ اوردیکھ کر شہادت دے دیتے ہیں، علماء اور اسپیس ٹیکنالوجی کے درمیان رابطے کا اہتمام ہونا چاہییے فواد چوہدری اور رویت کمیٹی ایک ساتھ بیٹھ کر معاملے کو حل کر سکتے ہیں یہ کو ئی اتنا بڑا مسئلہ نہیں ہے کہ حل نہ ہو سکے فواد چوہدری کو چھیڑ چھاڑ کی عادت ہے وہ اِسے انجوائے کرتے ہیں۔

رویت ہلال کے حوالے سے مفتی منیب جیسے عالم دین اور قبلہ ایاز جیسے سکالرکی آراء اپنی جگہ، مگر یہ بات طے ہے کہ چاند دیکھنے کے تنازعے نے ملک میں نئی صوبائی اور مسلکی تفریق پیدا کردی ہے۔رویت ہلال کمیٹی کے فیصلے کے مطابق ذوالحج کی پہلی تاریخ کو جو چاند افق پر نظر آرہا تھا اسے کوئی بھی ذی ہوش آدمی ہلال قرار نہیں دے سکتا، وہ واضح طور پر تیسرے دن کا چاند تھا جو غروب آفتاب کے ایک گھنٹے بعد بھی آسمان پر موجود رہا۔ اس بار پشاور کی مقامی مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا چاند دیکھنے میں کوئی دخل نہیں تھا۔عام لوگوں کا یہی کہنا ہے کہ چونکہ سائنس و ٹیکنالوجی کے وزیر نے ہفتہ دس دن قبل ہی رویت ہلال کی تاریخ کا اعلان کیا تھا جسے مرکزی رویت ہلال کمیٹی نے اپنے کام میں مداخلت تصور کیا اور دانستہ طور پر شہادتوں پر غور کرنے کے بجائے چاند کی عدم رویت کا اعلان کردیا۔گذشتہ کئی سالوں سے رمضان اور شوال کا چاند دیکھنے پر مسجد قاسم علی خان کی کمیٹی اور مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے فیصلوں میں واضح تضاد کی وجہ سے دو دو اور تین تین عیدیں منائی جاتی رہی ہیں پشاور میں عجیب و غریب صورتحال ہوتی ہے ایک گھر میں روزہ ہوتا ہے اور دوسرے گھر میں عید کی خوشیاں منائی جاتی ہیں۔سائنس و ٹیکنالوجی کے اس دور میں رویت ہلال پر تنازعہ کھڑا کرنا من حیث القوم ہماری جہالت پر دلالت کرتا ہے۔علم فلکیات نے اتنی ترقی کی ہے کہ آئندہ دس سال تک چاند نظر آنے، چاند اور سورج گرہن لگنے کی تاریخوں،گھنٹوں، منٹوں اور سیکنڈوں تک کے بارے میں بتایاجاتا ہے۔جب ایک روپیہ خرچ کئے بغیر رویت ہلال کے حوالے سے سائنسی بنیادوں پر درست معلومات دستیاب ہوں تو رویت ہلال کمیٹی کے ممبران اور ان کے اجلاسوں پر لاکھوں کروڑوں روپے خرچ کرنے کا کیا جواز بنتا ہے۔ عوام کی یہ متفقہ رائے ہے کہ مرکزی اور صوبائی رویت ہلال کمیٹیوں کو تحلیل کیا جائے اگر حکومت انہیں نوازنا ہی چاہتی ہے تو ان کے لئے پنشن مقرر کر سکتی ہے۔رمضان، شوال اور ذوالحج سمیت تمام اسلامی مہینوں کے چاند دیکھنے کی ذمہ داری سائنس اور ٹیکنالوجی کے محکمے کے سپرد کی جائے جو سال کے آغاز ہی میں تمام بارہ اسلامی مہینوں کا کیلنڈر تیار کرے۔چاند دیکھنے کی تاریخ اسلام کی روایت اپنی جگہ ہے لیکن سائنس و ٹیکنالوجی کی ترقی نے ہماری بہت سے روایات کو فرسودہ بنادیا ہے روز ایک نئی ٹیکنالوجی آتی ہے اور ایک سال پرانی ٹیکنالوجی فرسودہ ہوجاتی ہے آج ہر شخص کی جیب میں موبائل موجود ہے جس میں کال کرنے کے علاوہ دو سو دیگر سہولیات بھی ہیں جن میں پیغام بھیجنے، تصاویر اور وڈیوز شیئر کرنے کی سہولت بھی ہے، کیلکولیٹر بھی ہے کیلنڈر بھی موجود ہے، درجہ حرارت بھی معلوم کیا جاسکتا ہے۔ اپنے علاقے کے لوکیشن کا بھی پتہ چلایاجاسکتا ہے گوگل میپ کے ذریعے پوری دنیا کا نقشہ بھی دیکھا جاسکتا ہے ہزاروں ٹیلی فون نمبر بھی اس میں محفوظ کئے جاسکتے ہیں اس ایک موبائل نے گھر میں کیلنڈر رکھنے، ٹیلی فون ڈائریکٹری، گھڑی سمیت بہت سی چیزیں ہم سے چھڑوائی ہیں یہی ٹیکنالوجی کا کمال ہے۔ جب تک ہم زندگی کے ہرشعبے میں اس ٹیکنالوجی سے استفادہ نہیں کریں گے آپس میں مشت و گریباں رہیں گے اور ترقی کی منزل ہم سے دور ہوتی جائے گی۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
إغلاق