fbpx

بارش اور کراچی کی حالتِ زار……..نثار احمد

کراچی میں پڑھائی کے دنوں ایک ایسے دوست سے بھی ہماری شناسائی تھی جو پڑھتے تو مدرسے میں ہی تھے لیکن گھر والوں کی معاشی ضروریات کی تکمیل کے لیے جز وقتی کام بھی کرتے تھے۔ مدارس کے تعلیمی نظم سے واقفیت رکھنے والے دوست بخوبی جانتے ہیں کہ مدرسے کی پڑھائی کے ساتھ ساتھ مستقل اضافی مصروفیت نمٹانا کتنا مشکل ہوتا ہے۔ نہ صرف یہ کہ صبح سے عصر تک درسگاہوں میں بھرپور درس وتدریس چلتا ہے بلکہ مغرب سے عشاء تک کا وقت اگلے دن کے اسباق کے ایڈوانس مطالعے کے لیے، اور عشاء کے بعد مزید ڈیڑھ دو گھنٹے گزشتہ دن کے پڑھے ہوئے اسباق کی دہرائی کے لیے مختص ہوتے ہیں۔ ایسے میں دوسرے کام کے لیے وقت بچتا ہی کتنا ہے؟ دن بھر کے شیڈول میں ظہر میں ڈھائی تین گھنٹے نماز و طعام اور قیلولہ کرنے کے لیے، اور عصر کے بعد کا وقت کھیل کود کے لیے وقف ہوتا ہے بس۔ ہمارے اس شناسا دوست نے اس مشکل کو مینیج کرنے کے لیے مدرسے کے قریب ایک ہوٹل میں پیڑا بنانے کا کام ڈھونڈ نکالا تھا۔ رات کو اسباق کی دہرائی اور تکرار سے چھٹی ملتے ہی یہ دوست ہوٹل پہنچتا ، اگلے دن کے پراٹھوں کے لیے پیڑے بناتا اور پیڑے ٹرے میں سجا کر اُن کے اوپر ہلکا کپڑا بچھا کر مینیجر کے حوالے کر کے سونے کے لیے واپس مدرسے پہنچتا۔ یوں ان دو گھنٹوں میں یہ اتنے پیڑے بناتا کہ مالک ِ ہوٹل سے ملنے والی رقم اس کے گھر کا چولہا جلانے کے لیے کافی ہوتی۔

Advertisements

ایک نہیں ایسی ہزاروں مثالیں ہیں کہ پاکستان کے کونے کونے سے لوگ کراچی میں پڑھتے بھی رہے ہیں اور اپنے گھر کی معاشی ضروریات کی تکمیل بھی حتی المقدور کرتے رہے ہیں۔ ہمارے ایک استاد فخر سے کہا کرتے تھے کہ میں چھ دن پڑھائی کرتا تھا اور ایک دن مزدوری۔ الحمد للّٰہ ایک دن کی یہی مزدوری میرے ہفتہ بھر کے لیے کافی ہوجایا کرتی تھی۔ خود میرا اپنا خیال یہ ہے کہ کراچی کی بجائے کسی اور شہر میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے اگر بھیجاجاتا تو شاید اتنا نہیں پڑھ پاتا جتنا کراچی میں پڑھا۔ دورانِ طالب علمی میں ہی قریبی محلّے کی چھوٹی سی مسجد کی امامت نصیب میں آئی تھی۔ یہ اس امامت کی برکت ہی تھی کہ جب میں ضابطے کی دینی تعلیم یعنی درس نظامی اور دو سالہ تخصّص سے فراغت کے بعد گھر لوٹ رہا تھا تو ڈومینو جیسے مشہور اور مہنگے ادارے سے لینگویج کورس کے علاوہ بی ایڈ، اور کراچی یونیورسٹی سے ایم اے پولیٹکل سائنس کی ڈگری بھی حاصل کر چکا تھا۔
اس غیر ضروری “میں میں” اور داستان ارائی کی وجہ کراچی کی گزشتہ دنوں کی بارشیں اور وہاں کی بدتر انتظامی صورت حال بنی ہے۔

کراچی شاید دنیا کا واحد شہر ہے جو ایک طرف آدھے سے زیادہ ملک کا معاشی کفیل بنا ہوا ہے اور دوسری طرف اربابِ اقتدار کی طرف سے خاطر خواہ توجہ نہ ملنے پر حرف ِ شکایت بھی لب پر نہیں لا پا رہا۔۔ اِس کی مثال اُس گائے کی سی ہو گئی ہے جس سے دودھ نکال کر تو پورا محلہ لے جاتا ہے پر چارہ ڈالنے کوئی نہیں آتا۔ جسے سب قطار میں کھڑے باری باری نچوڑ رہے ہیں،اور مسلسل نچوڑے جا رہے ہیں۔ اس کی مثال ایسی مرغی کی ہے جو سونے کا انڈہ دیتی ہے جس کے انڈے بیچ باچ کر سب کھا تو جاتے ہیں مگر پیچھے بیچاری مرغی دانہ دانہ کو ترس رہی ہوتی ہے۔ اس کی مثال اس ماں کی سی ہے جو بچوں کو سیر رکھنے کے لئے کئی کئی دنوں کے فاقے جھیلتی رہتی ہے لیکن بچے جب ہاتھ پاؤں چلانے کے قابل ہوتے ہیں تو پلٹ کر ماں کا پوچھتے تک نہیں کہ کس حالت میں ہے۔ پاکستان کے چاروں صوبوں میں شاید ہی ایسا کوئی یونین کونسل ہو گا جس کے کسی باشندے کا روزگار کراچی سے وابستہ نہ ہو۔
سوال یہ ہے کہ وفاق کو سب سے زیادہ ریونیو دینے والا شہر اب تک ایک مثالی شہر کیوں نہیں بن سکا ہے؟ 1947 سے1959 تک پاکستان کا دارالحکومت رہنے والا کراچی اتنا بے بس کیوں ہے کہ چند منٹوں کی بارش اس کے پورے وجود کو تہہ وبالا کر کے رکھ دیتی ہے۔ معمولی بارش بھی جس کے باسیوں کے لیے زحمت بن جاتی ہے۔ اُدھر بارش شروع ہوتی ہے اِدھر سیلابی ریلہ آبادیوں کا رخ کرتا ہے۔ نکاسی ء آب کا مناسب انتظام نہ ہونے کی وجہ سے نہ صرف سڑکیں تالاب کا منظر پیش کرتی ہیں بلکہ برساتی پانی گٹروں کے گندے پانی کے ساتھ مل کر کچی آبادیوں میں گھروں کے اندر چلا جاتا ہے۔ یوں کچی ابادی والوں کو کمروں میں جمع شُدہ پانی بالٹی بھر بھر کر باہر پھینکتے دیکھنا کسی بھی حساس شخص کے لئے انتہائی تکلیف دہ ہوتا ہے۔
اللہ بھلا کرے پرویز مشرف کا، جن کے دورِ اقتدار میں کراچی نے خوب ترقی کی۔ ورنہ انسانوں کے سمندر کو اپنے پیٹ میں سمانے والا کراچی آج کس حال میں ہوتا، تصور بھی نہیں کیا جا سکتا ہے۔اُس دور میں وفاق کی طرف سے کراچی کو حقیقی معنوں میں بڑا ترقیاتی پیکیج ہی نہیں ملا بلکہ پیکچ استعمال کرنے کے لئے بہترین منتظم اور ایمان دار ناظم بھی نعمت اللہ خان کی صورت میں ملا۔ کراچی کی سڑکیں بھی اسی دور میں بنیں، انڈر پاسز بنیں، پل اور پارکس بنے، کھیل کے میدان بنے۔ پرویز مشرف نے پہلے نعمت اللہ خان کو، بعد اذاں مصطفیٰ کمال کو کراچی کی ترقی کے لئے بھرپور فنڈ دینے کے ساتھ ساتھ انتظامی و سیاسی سپورٹ بھی فراہم کیا۔ جمہوری ادوار میں کراچی چونکہ سندھ پر حکومت کرنے والی پیپلز پارٹی کی ترجیح ہی نہیں رہا ہے اس لئے ان کے دور میں کراچی پر زیادہ بڑی رقم بھی نہیں لگی۔
اب کراچی ہی کا مکین اسلام آباد کے قصر ِ صدارت میں متمکن ہے۔ کراچی کے مسائل کا اُن سے زیادہ ادراک و احساس کس کو ہو گا؟ وہ خود اگر بھولے بھی ہوں، ہم اخبارات کی زینت بننے والی اُن کی وہ تصویر نہیں بھولے ہیں جب موصوف لائف جیکٹ زیبِ تن کئے کشتی لے کر بارش میں ڈوبی سڑکوں پر تیرنے نکلے تھے۔ تب اربابِ حل و عقد کو کراچی کے مسائل کی طرف متوجہ کرنے کے لئے موصوف کا وہ اقدام بالکل ٹھیک تھا لیکن سوال یہ ہے کہ موصوف اب کیوں کراچی کے لئے کچھ کر نہیں رہے۔ کیوں اسٹیک ہولڈرز کو ساتھ ملا کر ترقی کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کرکے کراچی کے مسائل حل نہیں کرتے؟ کب تک کراچی اسٹیک ہولڈرز کی فضول رسہ کشی میں رُلتا، پِستا اور تباہ ہوتا رہے گا؟ آخر کب تک؟

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
إغلاق