تازہ ترین

چترال،سیاحتی علاقے کھلنے سے ماند پڑی رونقیں دوبارہ بحال۔ سیاحتی مقامات میں جشن کا سماں

چترال (محکم الدین) گذشتہ سات مہینوں سے کرونا وائرس کی وجہ سے بند سیاحتی علاقے کھلنے سے ماند پڑی رونقیں دوبارہ بحال ہوئی ہیں۔ اور سیاحتی مقامات میں ایک جشن کا سماں ہے۔ بازاروں،ہوٹلوں اور سیاحتی مقامات میں سیاحوں کا جم غفیر جمع ہو گیا ہے۔ اور مہینوں کی ذہنی کوفت دور کرنے کیلئے سینکڑوں سیاح لواری ٹنل کے راستے چترال میں داخل ہو رہے ہیں۔ ان میں زیادہ تر لاہور، اسلام آباد، ملتان اور خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے سیاح شامل ہیں سیاحوں کی بہت بڑی تعداد کالاش ویلی پہنچ چکی ہے۔ جہاں وہ قدیم کالاش تہذیب و ثقافت، صاف و شفاف گلیشئیر اور چشموں کا پانی و ہوا اور قدرتی جنگلات کے حسن کا لطف اٹھارہے ہیں۔ اور طویل لاک ڈاون کی بوریت اتار کر دوبارہ سے تازہ دم زندگی کا آغاز کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ جبکہ مقامی ہوٹلوں اور کاروباری مراکز کے سیاحت سے وابستہ افراد مہمان نوازی کرکے اس موقع سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ کرونا وائرس کی وجہ سے سیاحتی شعبہ شدید مالی بحران کا شکار ہوا تھا۔ اب پابندیاں ہٹ جانے سے آخری سیزن میں کچھ آمدنی کے توقعات پیدا ہو گئے ہیں۔ عید کے دنوں میں ہزاروں سیاحوں کو ضلعی انتظامیہ کی طرف سے لواری ٹنل سے واپس کر دیا گیا جس پر کئی مرتبہ حالات سیاحوں اور سیکیورٹی اہلکاروں کے مابین ہاتھا پائی تک پہنچ گئے تھے۔ اب پابندیاں اٹھ جانے سے یہ سلسلہ رک جائے گا۔ تاہم بعض سیاحوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے یہ شکایت کی ہے۔ کہ لواری ٹنل دیر سائیڈ پر ڈیوٹی دینے والے پولیس اہلکار بلا وجہ بھی لوگوں کو انتظار کرنے پر مجبور کر رہے ہیں۔ لاہور کے ایک سیاح انجم ریاض نے اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا۔ کہ خود انہیں ڈیڑھ گھنٹے لواری ٹنل پر انتظار پر مجبور کیا گیا۔ انہوں نے حکومت کی طرف سے سیاحت کی ترقی کے حوالے سے دعووں کو حقیقت سے دور قرار دیتے ہوئے کہا۔ کہ سیاحت کی ترقی کیلئے عملی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ جس میں سب سے زیادہ اہمیت کی حامل سڑکیں ہیں۔ اور چترال میں سڑکوں کی حالت کو بہتر بناکر ہی سیاحت کی ترقی ممکن ہے۔

Advertisements

کالاش ویلیز میں سیاحت کے بے پناہ پوٹنشلز موجود ہیں۔ اگر سڑکوں کی حالت میں بہتری لائی گئی تو سیاحوں کا جم غفیر امڈ آئے گا۔ لاک ڈاون کے خاتمے کے بعد سیاحوں کی آمد سے عجائب گھروں کی رونقیں بھی بحال ہو ئی ہیں۔ صوبائی سطح پر اہمیت کی حامل میوزیم کالاشہ دور بمبوریت کے انچارج و ریسرچ اسسٹنٹ اکرام حسین نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا۔ کہ سفری پابندیاں ختم ہونے کے بعد روزانہ تین سو سے چارسو سیاح میوزیم کی وزٹ کرتے ہیں۔ جو کہ بہت بڑی تعداد ہے۔ جس میں مزیداضافہ بھی ہو سکتا ہے۔ سیاح کالاش تاریخ اور ثقافت میں انتہائی دلچسپی لے رہے ہیں۔ ویلیز میں سیاحوں کی بڑی تعداد میں آمد سے اس شعبے سے وابستہ افراد میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ اور انہیں امید ہے۔ کہ ایس او پی کے مطابق سیاحت سے مقامی لوگوں کے چولہے دوبارہ جلنے کے قابل ہوں گے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ

زر الذهاب إلى الأعلى